25جولائی: تحریک انصاف کا الیکشن پلان کیا ہے؟
ملک خداداد میں 3 جون پلان سے لیکر بلیک ہارس پلان کے اثرات ابھی تک چل ہی رہے ہیں کہ تحریک انصاف کا 25 جولائی 2018 کا الیکشن پلان نمودار ہو گیا ہے۔
ماضی کے انتخابات میں حریف جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایک دوسرے کو کمزور عقیدہ مسلمان ہونے، پینے پلانے اور پارٹی پالیسی کو نشانہ بنایا کرتی تھیں۔ ماضی میں جو غیر جمہوری قوتیں سیاسی پارٹیوں کے حوالے سے کرپشن کے راگ الاپتے ہوئے نہیں تھکتی تھیں آج وہ راگ جمہوریت کے چیمپیئن سر اور ساز کے ساتھ گاتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر آج اتنخابی جلسوں میں حریف جماعتوں کو ماں بہن کی گالی نہ دے جائے تو لگتا ہے کہ ووٹر کو خوش کرنے میں کامیاب ہی نہیں ہوئے۔ جس طرح جنرل ضیاء الحق کو ملک کے دہشتگردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اسی طرح ملکی تاریخ میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے نام کو گالی گلوچ کی سیاست کی داغ بیل ڈالنے والوں کے ناموں کے ساتھ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ کبھی تو انتخابات میں دھاندلی ٹھپے لگا کر کی جاتی تھی مگر اب تو ویکیوم انرجی کے ذریعے ڈیجیٹل دھاندلی کا دور دورا ہے۔ آنے والے انتخابات سے پہلے ہی انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں ہر کوئی ماضی کی سیاسی انجیئرنگ سے خوف زدہ ہے۔
انتخابات سے پہلی ہے الیکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چاہنے والے آنے والے انتخابات میں پہلے ہی خان صاحب کو قومی اسبملی کی 272 جنرل نشستوں میں سے 116 سیٹیں دلا چکے ہیں کہ خان صاحب وزیر اعظم بنے ہی بنے ۔ زیادہ تر اینکرز اور تجزیہ نگاروں کے تبصرے، سوشل میڈیا اور سرویز عمران خان کے حق میں قصیدے لکھ لکھ کر مبارک باد دے رہے ہیں۔ مندرجہ ذیل 25 جولائی کا ممکنہ پلان ہے جس میں خان صاحب کی فتح لازم و ملزوم ہے۔
|
|
ICT |
FATA |
PUNJAB |
SINDH |
KPK |
BALOCHISTAN |
TOTAL |
|
PTI |
2 |
2 |
75 |
10 |
25 |
2 |
116 |
|
PML N |
1 |
– |
51 |
1 |
3 |
1 |
57 |
|
PPP |
– |
– |
2 |
24 |
1 |
– |
27 |
|
GDA |
– |
– |
– |
12 |
– |
– |
12 |
|
ANP |
– |
– |
– |
– |
2 |
– |
2 |
|
MQM |
– |
– |
– |
4 |
– |
– |
4 |
|
MMA |
– |
– |
2 |
1 |
4 |
1 |
8 |
|
BAP |
– |
– |
– |
– |
– |
6 |
6 |
|
BNP |
– |
– |
– |
– |
– |
1 |
1 |
|
IND |
– |
10 |
7 |
– |
2 |
1 |
20 |
|
AML |
– |
– |
1 |
– |
– |
– |
1 |
|
MLZIA |
– |
– |
1 |
– |
– |
– |
1 |
|
PKMAP |
– |
– |
– |
– |
– |
1 |
1 |
|
QWP |
– |
– |
– |
– |
1 |
|
1 |
|
NP |
– |
– |
– |
– |
– |
2 |
2 |
|
|
3 |
12 |
141 |
61 |
39 |
16 |
272 |
مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عمران خان کے لیے بنایا گیا 25 جولائی الیکشن پلان کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا۔ بہت سے جوڑ توڑ اور پیروں فقیروں، قاضیوں کی اولاد کی دعا کے باوجود بھی رنجیت سنگھ پاکستان مسلم لیگ ن کا گڑھ پنجاب فتح کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کی 70 سے زائد نشستیں لینے میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ پنجاب سے پاکستان مسلم لیگ ن اینٹی اسٹیبلشمنٹ نظریے کے تحت ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ اب پاکستان تحریک انصاف چاہے جیپ پر سوار ہو جائے یا پھر اونٹ پر مگر جنوبی پنجاب سے پاکستان پیپلز پارٹی اپنا تیر چلانے میں کامیاب نظر آر رہی ہے اور اس دفعہ کچھ بھی ہو جائے پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب سمیت پورے ملک سے تقریباً 50 سے زائد سیٹوں سے میدان مارنے کے لیے تیار ہے۔ اور دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی صوبہ خیبر پختونخواہ میں کتنی بھی دہشتگردی کا شکار ہو جائے مگر 6 سے 10 سیٹیں لے سکتی ہے اور متحدہ مجلس عمل بھی تقریباً 10 سے زائد سیٹیں لے سکتی ہے مگر پاکستان تحریک انصاف پورے ملک اور ملک کے طاقتور خاندانوں کی سپورٹ کے باوجود بھی 60 سے اوپر سیٹیں لینے میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ ماضی کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کے پاس نشستیں زیادہ تو ہو سکتی ہیں مگر عمران خان کا وزیر اعظم بننے کا خواب شاید شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ مگر سندھ سے تعلق رکھنے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے پیر پگارو نے یہ دعوی کیا ہے کہ اس دفعہ آنے والے انتخابات میں کبوتر عمران خان کے سر پر بیٹھے گا اور خان صاحب وزیر اعظم بنیں گے اور ڈیموکریٹک الائنس والے سندھ حکومت کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی وزارتیں لیں گے۔ یاد رہے کہ سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس پاکستان تحریک انصاف، متحدہ مجلس عمل، ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی وغیرہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جڑیں نکال پھینکنے کا دعوی کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود بھی یہ ساری جماعتیں مل کر بھی سندھ سے 23 سے زائد نشستیں نہیں لے سکتی ہیں۔ مرحوم پیر پگارو پیر مردان علی شاہ کی پیشنگوئیاں اور ان کا راولپنڈی میں اثر و رسوخ بڑا مشہور تھا کہ وہ جو بھی کہتے تھے وہ ہو جاتا تھا مگر موجودہ پیر پگارو کی پیشینگوئیاں اور حروں کا اثر و رسوخ اب کچھ دھیماں نظر آتا ہے۔ اس لیے اب یہ بہت مشکل ہے کہ سندھ میں دوبارہ کوئی جام صادق اور ارباب رحیم حکمرانی کرسکیں۔ ایک محتاط تجزیے اور عوامی رائے کو مد نظر رکھ کر یہ ممکنہ پارٹی پوزیشن 25 جولائی 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں نکل سکتی ہے جو حتمی نہیں ہے۔
|
Out of 272 Seats |
Minimum |
Maximum |
|
PML N |
70 |
80 |
|
PPP |
50 |
60 |
|
PTI |
48 |
58 |
|
MMA |
10 |
16 |
|
ANP |
6 |
10 |
|
IND |
20 |
25 |
|
GDA |
6 |
8 |
|
MQM/PSP |
12 |
15 |
|
PMLQ/ AML |
3 |
5 |
|
BAP/BNP/NP |
6 |
10 |
|
PKMAP/QWP |
4 |
6 |
اس ممکنہ پارٹی پوزیشن کو دیکھ کر پاکستان تحریک انصاف کے کپتان گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، ایم کیو ایم، پاک سر زمین پارٹی اور آزاد اراکین کو بھی ملاکر اپنے 25 جولائی کے پلان کے مطابق یہ میچ جیت نہیں سکتے۔ اگر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ہی مل جائیں تو خان صاحب کو آسانی سے ان کے اس آخری میچ میں ہرا سکتے ہیں۔ باقی آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، حکومت کس کی بنے گی اور سرخاب کے پر کس کو لگتے ہیں؟


