عامر لیاقت حسین تین اور تیرہ کی کشمکش میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آم کھانا اور کھلانا ہو، لیٹ کر زبان نکال کر آنکھیں گول کرنے ہو، بیچ پروگرام میں دو فریقین کو لڑا کر لائیو شو سے اٹھنا ہو، ولولہ انگیز تقاریر کرنے ہو، غالب کی فلم دیکھنی اسد اللہ غالب کی شاعری کرنی ہو، اس جیسے لاتعداد صفات میں عامر لیاقت حسین اپنی مثال آپ ہے۔ جی میں اس عامر کی بات کررہا ہوں جو ڈاکٹر ہے اور عالم آن لائن بھی۔ ویسے جس سال سقوط ڈھاکہ نے ہونا تھا، عین اسی سال عامر لیاقت کی پیدایش ہویی تھی اور زندگی کے اس چار عشروں میں موصوف نے خود کو منوانے کے لئے بہت سارے پاپڑ بیلے ہیں۔ اس نشیب و فراز کا اگر میں بغور جائزہ لوں، تو مجھے ایک کہانی یاد آتی ہے۔

پرانے زمانے میں ایک گاؤں میں ایک خوبصورت رقاصہ رہتی تھی۔ رقاصہ کا لمبا خوبصورت قد اور بے باک ٹھمکوں نے پورے گاؤں کو اپنے سحر میں لیا تھا۔ چونکہ وہ صرف واحد رقاصہ تھی تو انہوں نے دوستوں کی دو فہرستیں بنائی تھیں۔ خاص الخاص جسمیں صرف ”تین“ لوگ تھے اور ایک لسٹ بنائی تھا جو صرف خاص العام تھا جس میں ”تیرہ“ بندے شامل تھے۔

پڑوس والے گاؤں ایک عالم رہتا تھا، جو ہر ہفتے رقاصہ کے لئے ایک ضامن بنا کر اپنے طالب علم کے ہاتھ بھیجا کرتا تھا۔ چونکہ زمانہ قدیم تھا تو عالم صرف عالم تھا آن لائن نہیں۔ ایک دن طالب علم نے عالم سے پوچھا کہ ”استاد جی“ کیا وہ رقاصہ آپ کو جانتی بھی ہے کہ نہیں؟ عالم نے پراعتمادی سے جواب دیا، اگر وہ مجھے نہیں جانتی تھی تو کیا میں مجنون ہوں کہ ہفتہ وار ضامن بیجھتا۔ اس پہ طالب علم کو یقین تو ہوگیا، لیکن تاکیدی یقین کے لئے اگلے ہفتہ جب وہ رقاصہ کے پاس ضامن لے کر گیا تو رقاصہ سے پوچھا کہ کیا آپ اس عالم کو جانتے ہو، جو آپ کی حفاظت کے لئے یہ ضامن بھیجتا ہے۔ رقاصہ نے پہلے ”تین“ والی لسٹ نکالی، اس میں نام نہیں تھا، پھر ”تیرہ“ والی لسٹ نکالی، اس میں بھی نام شامل نہیں تھا۔ رقاصہ نے طالب علم کو مخاطب کرکے بولا، کہ آپ کے عالم کا نام نہ ”تین ” میں ہے اور نہ ”تیرہ“ میں۔

اب اس کہانی کے تناظرمیں اگر دیکھا جایے تو عامر لیاقت کو نہ تو سیاسی لوگ اپنے حلقے میں شمار کرتے ہیں اور نہ ہی اہل علم۔ اگر جان کی امان ہو، تو یہ ”نہ تین اور نہ تیرہ والا مہرہ“ صرف تحریک انصاف میں کیسا فکس ہوگیا ہے اور کتنی دیر چلے گا، یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ عالم آن لائن سے لے کر انعام گھر کے آم کھائے گا آم تک، صبح پاکستان سے ایسا نہیں چلے گا کا سفر نہ سیاسی ہے اور نہ غیر سیاسی۔

مشرف کے دور میں موصوف مذہی امور کے وزیر بھی رہے، جو ”تین اور تیرہ“ کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ موصوف آجکل اپنی الیکشن کمپین کے لئے پوسٹر پہ لکھتا ہے کہ ”غلام محبوب رب المشرقین والمغربین“، اب مذہب کا کارڈ استعمال کرکے موصوف کراچی والوں کو آم کھلائے گا یا کراچی والے موصوف کو آن لائن عالم بنائے گا، یہ بس ایک دن کے انتظار کی بات ہے۔ صورت حال انتہائی نازک اور آن لائن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •