25 جولائی کے انتخابات -وسیع تر تاریخی تناظر میں


اپریل 1978 میں سردار داؤدکے قتل کے دو ماہ بعد جون 1978 میں امریکی نمائندہ برز نسکی نے خبیر درہ میں ہر اول دستے کو جمع کر کے اپنے خطاب کے دوران اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر جہاد کا اعلان کر دیا۔ اس وقت تک روس کا ایک بھی فوجی افغانستان میں موجود نہیں تھا۔ پاکستانی بارڈر سے در اندازی اس حد تک بڑھ گئی کہ افغانستان حکومت کے وجود کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مدد کی ضرورت پڑی ۔ 24 دسمبر 1979 کو روس نے باقاعدہ اور اعلانیہ طور پر افغانستان میں فوج اُتار دی۔ رُوس نے اخلاقی اور قانونی جواز اپنایا کہ اُس نے افغانستان کی آذاد حیثیت کو برقرار رکھنے اور نام نہاد جہادیوں کی دستبرد سے افغان حکومت کو محفوظ کر نے کے لیے باقاعدہ اس کی درخواست پر اپنی ہمسائیگی میں فوجی دستے داخل کیے۔ لیکن عالمی یہودی میڈیا نے دنیا بھر میں بالکل ہی اُلٹ صورت حال کی تصویر کشی شروع کر دی کہ روس کا پروگرام آگے بڑھ کر گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کا ہے۔ پاکستانی عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ اب اگلا قدم روس کا کراچی اور پھر سمندر راستے مڈل ایسٹ کے اسلامی ممالک کے تیل پر قبضہ کرنے کا ہے۔ بہر طور افغانستان پر قبضہ کا پلان بہت پہلے ہی تیار تھا۔اب اس پر عملدرآمد شروع ہو چکا تھا۔ اس منصوبے "اپر یشن سائیکلون” کو پاکستان کی زمین سے لانچ کیا جا نا تھا۔

پاکستان کو سارے منصونے میں کلیدی حیثیت حاصل تھی مگر اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کا گھاگ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھا جسے بین القوامی امور اور خارجہ تعلقات پر عبور حاصل تھا ۔ یہ ویسے بھی کئی دوسری وجوہات کی بِنا ء امریکی حکام کی نظروں میں چُھبتا تھا۔ کبھی پورے ایشیا اور کبھی اسلامی بلاک کی قیادت کے دعوے۔اسلامی کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے بعد ہی اس کو مارک کر لیا گیا تھا۔یقیناَ اس کا قد کسی طور بھی بین الاقوامی شخصیت سے کم نہ تھا۔ وہ اپنی اس صلاحیت سے بخوبی آگاہ تھا۔ امریکی و دیگر یورپی ممالک کے وزراتِ خارجہ سے متعلق افسران سے وہ کبھی مرعوب نہیں ہوا بلکہ بات چیت کے دوران بر جستہ جملہ بازی اور حاضر دماغی سے وہ اِن کو لا جواب کر دیتا۔اِن خوبیوں کی بِناء پر آنے والے وقت میں اسکو امریکی مفادات کے لیے خطرہ تصور کر لیا گیا تھا۔ اُس کی شخصیت میں ڈرامائی عنصر اکثر اوقات حیران کن صورت حال کو جنم دے سکتا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو کو بطور لیڈر اسلامی کانفرس تمام عرب سربراہان تسلیم کر چکے تھے ۔ عربوں کی تیل کی دولت کو بطور ہتھیار کامیابی سے استعمال کرنے کی آپشن موجود تھی۔ اس کے علاوہ بھٹو کا ایک نا قابل معافی جرم ایٹمی صلاحیت کا حصول تھا جس کے لیے وہ ہر جائز، ناجائز ذرائع استعمال کر رہا تھا۔ اس کے خلاف ایک لمبی چوڑی فرد جرم مرتب ہو چکی تھی ۔ اس لیے اسے منظر سے غائب کرنا از حد ضروری تھا ۔ مزید برآں روس کے خلاف افغانستان میں سٹیج کیے جانے والے ڈرامےمیں وہ کبھی بھی امریکی مفادات کے لئے آلہ کار بننے پر تیار نہ ہوتا ۔

امریکی بزنس ایجوکیشن کے تمام انسٹی ٹیوٹ جن میں ہاورڈ اسکول آف بزنس سر فہرست ہے۔ کاروباری ادارے میں ہر اہم ملازم کا متبادل تیار رکھنے کی منصوبہ بندی اور تیاری ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہے۔ جسےSuccession Planningکہتے ہیں ۔کسی بھی اہم پوسٹ پر تعینات فرد کے کم از کم دو متبادل افراد تیار کئے جاتے ہیں۔ جو اس اہم فرد کی ناگہانی موت یا نوکری چھوڑ جانے پر فورا اسکا عہدہ و ذمہداری سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ تا کہ ادارے کی کارکردگی میں کمی واقع نہ ہو۔ یہ اصول کاروباری و تجارتی اداروں میں ہی نہیں بلکہ ہر سطح پر لاگو ہوتا ہے۔ امریکی سی آئی اے اپنے مفادات کے حامل ممالک میں نہ صرف موجود ہ سیاسی لیڈرشپ بلکہ اہم انتظامی عہدوں بشمول فوج میں بھی اس فارمولے کےتحت افراد کی پوری کھیپ پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔

افسران کے لئے امریکی اداروں میں ٹریننگ کورس کے علاوہ امریکی وظائف و خرچے پر تعلیمی کورس آفر کئے جاتے ہیں۔ ان اخراجات کے درپردہ ان کےکئ طرح کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔یورپی مقولہ ہے کہ کسی کو مفت میں لنچ کروانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ تعلیمی و تربیتی کورسز کی آڑ میں آفر کئے جانے والے دورے بظاہر معلوماتی اور تفریحی ہوتے ہیں لیکن غیر محسوس طریقے سے ان کے ذہنوں کو امریکا کی بادشاہت سے مرعوب کیا جاتا ہے۔ دورے کے دوران ہرافسر کی شخصیت کو نفسیات کے اصولوں پر باریک بینی سے پرکھا جاتا ہے۔ شخصیت کے کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کے بعد ان کو آنے والے وقت کے لئے منتخب کر لیا جاتا ہے۔ امریکی کاروباری اصطلاح میں اسے Head Hunting کہتے ہیں۔ ایسے افسران کی مزید تربیت کی جاتی ہے اورغیرمحسوس طریقے سے ان کی شخصیت کو کنٹرول کیا جاتا ہے کہ خود اس افسرکو احساس تک نہیں ہوتا۔ یہ روبوٹ یا کٹھ پتلیاں آگے چل کر امریکی مفادات کے لئےکام کرتی ہیں۔

نہایت عاجز اور معمولی خاندانی پس منظر کے حامل اپنی انتھک محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر اعلی سروس میں منتخب ہو کر آنے والے ان افسران کو بے پناہ عزت و تکریم کے علاوہ جسمانی و ذہنی آسودگی فراہم کرنے والی ہر شےبمقدار کثیر مہیا کرکے ان کی آنکھوں کو خیرہ اور ذہنوں کو غلام بنا لیا جاتا ہے۔محمد ضیاء الحق کا شمار بھی ایسے ہی طبقے میں ہوتا تھا۔ نارتھ کیرولینا فورٹ بریگ میں تربیت کے دوران ظاہری شخصیت و خاندانی پس منظر کی وجہ سے امریکی اداروں نے اسے مستقبل کے منصوبوں کی تکمیل کے لئےنہایت موزوں قرار دیا تھا۔ ضیاالحق کو ایک کل پرزے کے طور پر منتخب کیا گیا جو بوقت ضرورت استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی فوجی اڈے سے واپسی پر ضیاءالحق کی کئی پوسٹنگز امریکی پشت پناہی کی مرہون منت تھیں۔ جن میں سر فہرست اردن میں ایسے برگیڈ کی سربراہی شامل تھی جس نے اردن میں موجود فلسطینی کیمپوں پر حملہ کرکے مجبور اور محصور لوگوں کو اردن کی سر زمین سے باہر دھکیل دیا تھا۔ اس کارنامہ خیر کے صلے میں ضیاء الحق کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کی اسپیشل رپورٹ پاکستانی عسکری حکام کو ارسال کی گئی۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے سینئر جنرلز کو نظر انداز کرکے ضیاالحق کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا تھا۔ اس فیصلےمیں غیر مرئی قوتوں نے اپنا کردار خاموشی سے ادا کیا کہ بھٹو جیساذہین اورشاطر ذہن اسکی بو بھی نہ پا سکا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5