25 جولائی کے انتخابات -وسیع تر تاریخی تناظر میں
دنیا بھر میں انقلابی قوتیں طویل کشمکش اور جنگ کےنتیجہ میں فتح حاصل کرنے کے بعد خود کو مستحکم کر لیں تو یہ ان کی متعین کردہ مقاصد کے حصول کے لئے منزل کی جانب بہت بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ انقلابی جدوجہد کے لئے عرصے سے چارج کی جانے والی قوتوں کا کنٹرول میں رہنا اور اس انرجی کو مناسب رخ پر موڑنا کہ وہ مثبت انداز میں ڈسچارج ہو سکیں ایک نازک اور کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی مثال موجود ہے جب پاسداران انقلاب کے راہنماؤں نے انقلاب قریبی ممالک میں ایکسپورٹ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں تو ایران کو عراق کے ساتھ جنگ میں الجھا کر اسکی چارج شدہ انرجی ڈسچارج کی گئی۔طالبان کے ساتھ مشرق وسطیٰ سے آئے عرب مجاہدین جن کی قیادت ایمن الظواہری، شیخ محمد اور اسامہ بن لادن کر رہے تھے۔ افغانستان میں اسلامی انقلاب کی کامیابیوں کو دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ، فلسطینیوں کی مدد اور اسرائیل کے خلاف پھیلانےکے منصوبے بنانے لگے۔ افغانستان دنیا بھر کے ملکوں میں اپنی حکومتوں کے خلاف باغیوں کی جدوجہد کا بیس کیمپ بن چکا تھا۔ امریکی حکومت نے طالبان کی لیڈرشپ کومذاکرات سے قائل کرنے کی بہت کوششیں کی۔ اب امریکی تجارتی اداروں کو افغانستان میں انفراسٹرکچر کی بحالی اور ترقی کے کام کرنا تھے۔ اسکے علاوہ افغانستان میں معدنی دولت سے بھی استفادہ کرنا تھا۔
سیاسی مقاصد کے ساتھ ہی تجارتی ایجنڈا بھی ویسی ہی اہمیت کا حامل تھا۔ افغانستان کی تعمیر نو پر امریکی اداروں کا حق فائق تر تھا۔ ملا عمرجیسی غیر لچکدار قیادت نے امریکی سفیر کی درخواست کو درخورِ اعتناء نہ سمجھا اور دیگر ممالک کو کام کا موقع فراہم کرنے کی کوششیں کی۔ سڑکوں کی تعمیر کے لئے برازیل کی کمپنی کامیاب ہوتی نظرآ رہی تھی۔ لہٰذا حالات واقعات کے تناظرمیں یہ حتمی فیصلہ کر لیا گیا کہ اب طالبان اور انکے مہمان عرب مجاہدین سے گلوخلاصی کرانی ضروری ہو چکی ۔ یہ امریکی یو ٹرن تھا۔ اسامہ بن لادن اور دوسرے عظیم مجاہدین اب عالمی دہشتگرد قرار دیے گئے ۔ طالبان کو حکم دیا گیا کہ ان کو افغانستان سےنکال دیا جائے یا امریکا کے حوالے کیا جائے۔انکار کی صورت میں ایک بار پھر افغانستان میں خوفناک اور ہولناک جنگ کا آغاز ہوا جو ہر لحاظ سے یکطرفہ تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تجربہ کی بنیاد پر فیصلہ کیا کہ زمینی جنگ میں الجھ کر وہ افغانی جنگجوں سے کسی صورت نہیں جیت سکتے۔ مزید براں ویتنام اور عراق کی طرح امریکی کارپورلز کے چند تابوت تواتر سے واپس گئے تو امریکی عوام اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ لہٰذا جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے فضا سے ہی جنگ لڑنے کا فیصلہ ہوا۔ تورا بورا اور طالبان کے زیر اثر دوسرے علاقوں پر کارپٹ بمباری کی گئی۔ ڈیزی کٹر بم استعمال ہوئے۔ فضائی جاسوسی کے جدید نظام سے مدد لی گئی۔ افغانستان کو ایک بار پھر کھنڈر بنا دیا گیا۔
طالبان قیادت اورالقاعدہ کے ممبران مارے گئے یا منتشر ہو گئے۔ اس سارے آپریشن کو شروع کرنے اور اپنی ساکھ بحال رکھنے کے لئے خاص طور پر فضا تیار کی گئی۔ لگاتار فضائی آپریشن کے لئے قریبی ملک کے ایئر پورٹ کی ضرورت تھی۔ پاکستان اس معاملے میں بہترین آپشن تھا جو خود طالبان کے ساتھ ایک فریق تھا۔ اسے وہاں سے روکنا اور امریکی امداد کے لئے آمادہ کرنا ضروری تھا۔ سول حکومت آئی-ایس-آئی اور فوجی اداروں کو کسی طور پر راضی نہ کرسکتی تھی۔ ایک ہی ممکنہ حل تھا کہ سول حکومت ہٹا کر فوجی ڈکٹیٹرشپ نافذ کی جائے۔
پرویز مشرف کی فوجی سروس میں کوئی نمایاں قبل ذکر کارکردگی اسکے ریکارڈ پر نہیں تھی۔ سروس کے دوران اس سے ایسی حرکات بھی سرزد ہوئیں جس کا نتیجہ صرف کورٹ مارشل تھا۔ مشرف بھی وہ مہرہ تھا جسے امریکی ادارے ٹارگٹ کر چکے تھے۔ ہر سطح پر اسے پروموٹ کیا جا رہا تھا تا کہ وقت آنےپر اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ وقت آ چکا تھا۔ خصوصی سفارش پر پرویز مشرف کو نواز شریف نے فوج کا سربراہ مقرر کیا۔ وقت بہت بے رحم ہوتا ہے۔ مشرف نے نوازحکومت کو فارغ کر دیا۔ مشرف بلا شرکت غیرے اب ملک کا کرتا دھرتا تھا۔ کچھ عرصہ اسے حالات سنبھالنے کا موقع دیا گیا۔ اسی دوران نائن –الیون کا واقعہ ایک طے شدہ پلان کے تحت سر انجام پایا۔ جس کے ذریعےعالمی سطح پر رائے عامہ امریکی آپریشن کے حق میں ہموار کی گئی۔ پھر ایک نام نہاد ٹیلیفون کال کو جواز بنا کر پرویز مشرف نے امریکی کمانڈ کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔ ڈیرہ غازی خان، حیدر آباد اور دیگر ہوائی مستقرمکمل طور پر امریکی کمانڈ کے حوالہ کر دئیے گئے۔
اندرونی طور پر اس حوالگی کی مخالفت کرنے والا پاکستان ایئر فورس کا سربراہ پرسرار طور پر فضائی حادثہ کا شکار ہوا۔ ہرطرح کی لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی۔بندرگاہ سے کابل تک جنگی سامان کی ترسیل کے لئے راہداری کی مکمل سہولیات میسر کی گئیں۔ افغانستان کو آگ کا تنور بنا دیا گیا۔ القاعدہ اور طالبان قیادت جان بچانےکے لئے جونہی پاکستان میں داخل ہوئی گرفتار کرکے امریکا کے حوالہ کر دیا گیا۔ جو براہ راست گوا نتا ناموبے منتقل کر دئیے گئے۔ اس کے عوض پاکستانی اعلی حکام نے بھاری رقوم انعام کے طور پر وصول کیں۔ تفصیل کے لئے پرویز مشرف کی کتاب ” In the line of fire” ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
پاکستان نے اس سارے منصوبے میں ایک بار پھر کلیدی کردار ادا کیا جو افغانیوں کے ذہنوں میں پاکستانیوں کے بارے میں شدید ترین نفرت کا سبب بنا۔ پاکستانی عوام اپنی جگہ کُڑھنے میں حق بجانب ہیں ۔ 30 سال سے زائد عرصہ تک مہاجرین کی مہمانداری کے باوجود ہم افغانیوں کے نزدیک معتوب ٹھہرے۔پاکستانیوں نے اس پرائی جنگ میں کود کر بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ کلاشنکوف و ہیرؤن کلچرسے لے کر تھوک کے حساب سے ہونے والے بم دھماکے معصوم شہریوں اور عسکری افراد کی شہادتوں و آرمی پبلک اسکول کے معصوم فرشتوں کے بہتے ہوئے خون سمیت ہم نے جو زخم اپنی روح پر اٹھائے ہیں انکا کوئی حساب ہی نہیں۔ پاکستانی بنیادی طور پر بھولے بھالے اور سیدھے سادھے لوگ ہیں۔ ان پر مسلط لیڈرز جو کہتے ہیں یہ بلا تحقیق اس پر یقین کر لیتے ہیں ۔ ان کو مذہب کی آڑ میں دھوکہ دینا بہت آسان ہے۔ یورپی طاقتوں نے ہمیشہ ان کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا ہے۔
ہمیں گزرے ہوئے وقت اور ہونے والے نقصانات پر پچھتانے کی بجائے اس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تجربے کو مد نظر رکھ کر مستقبل کے لئے ایسی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ اقوام عالم میں پاکستان کا کھویا ہوا وقار بحال ہو سکے۔ لیکن یہ سب ایک سراب نظر آتا ہے۔ہمارے رہنماؤں نے قومی سطح پر کوئی تھنک ٹینک بنانے کا کبھی سوچا ہی نہیں۔ ان میں قومی سوچ کا فقدان پایا جاتا ہے۔ بینظیر بھٹو کے بعد کوئی لیڈر قومی سطح پر مقبول ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا۔ ان کی سوچ صرف ذاتی مفاد اور مال بنانے تک محدود ہے۔ یہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔ ساریتوانائیاں ایسے منصوبے بنانے پر صرف کی جاتی ہیں جن کے ذریعے حکمران طبقے کی جیب میں کک بیک اور کمیشن جا سکے۔میگا پراجیکٹس عوامی سہولت کی بجائے ذاتی نفع کو مد نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ کمپنیزسکینڈل پنجاب حکومت میں اربوں روپے ڈکار گیا ہے۔ اورینج ٹرین جیسے مسلسل خسارے کے منصوبے بنائے گئےہیں۔ سرکاری افسران نے بھی سیاستدانوں کے ساتھ اپنا حصہ وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔یہی حال رہا تو ہم اسی طرح دوسرے کے آلہ کار اور دست نگر بن کر رہیں گے۔





