25 جولائی کے انتخابات -وسیع تر تاریخی تناظر میں


اسٹیج پوری طرح تیار تھا سرکردہ ایکٹرز اپنا کردار ادا کرنے کے لئے ڈائریکٹر کے اشارے کے منتظر تھے۔ جیسے ہی بھٹو نے قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کیا اپوزیشن جماعتوں پر مشمل نو ستارہ قومی اتحاد ترتیب دیا گیا۔ بھٹو کی سحرانگیز شخصیت کے سامنے اپوزیشن کی کوئی جماعت معمولی کامیابی کی استطاعت نہ رکھتی تھی۔ ایک طے شدہ پلان کے تحت پاکستان قومی اتحاد کے پرچم تلے الیکشن مہم شروع ہوئی۔ ماسواۓچند حلقوں میں کی جانے والی دھاندلی کےپیپلز پارٹی نے اکثریتی کامیابی حاصل کی مگر پلان کے اگلے حصے کے طور پر احتجاجی جلسے و جلوس شروع کر دئیےگئے۔ پورے ملک میں اپوزیشن سڑکوں پر تھی۔ ایجی ٹیشن میں شدت پیدا کرنے کے لئے نامعلوم افراد جلوس میں ظاہر ہوتے اور اپنا کردار ادا کرکے غائب ہو جاتے۔ لاہور میں رتن سینما اور لاہور ہوٹل چوک میں ایک بلڈنگ پر اس کا خصوصی طور پر مظہر ہوا۔ بالا آخر بھٹو نے اپوزیشن اتحاد سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ بات چیت کے کئی دور ہوئے۔ فریقین نے تجاویز پیش کیں۔ مولانا کوثر نیازی کے مطابق بھٹو صاحب نے اہم نقاط و مطالبات کو تسلیم کرلیا تھا۔ اگلی صبح ڈرافٹ پر معاہدے کی شکل میں دستخط ہونے تھے۔ لیکن اسی رات آرمی نے ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ ملک میں مارشل لاءنافذ ہوگیا۔ آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق نے ریڈیو و ٹیلی ویژن پر اپنے عزیز ہم وطنوں سے خطاب کے دوران نوے دن میں دوبارہ انتخابات کرنے کا وعدہ کیا۔

کابل میں سیاسی بےچینی شدت اختیار کر چکی تھی۔ جون1978میں پشاور کے نواح میں مجاہدین کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افغان راہنماؤں سے امریکی حکام پاکستانی ایجنسی کے ہمراہ کئی ملاقاتیں کر چکے تھے۔ افغانستان میں PDPAحکومت اپنے طور پر مخالفین کا مقابلہ کر رہی تھی۔ نورمحمدترکئی ، حفیظ اللہ امین اور ببرک کارمل کی المناک موت کے بعد افغان گورنمنٹ کی جانب سے اپنے اتحادی روس سے مدد کی درخواست کی گئی اور باقاعدہ پہلے سے طے شدہ معاہدہ کے تحت بائیں بازو کی جماعت اور اسکی عملداری کو تحفظ دینے کے لئے دسمبر 1979میں روسی افواج کابل میں داخل ہو گئیں۔اب باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ یہ گوریلا وار فیئر تھی۔ مجاہدین گھات لگا کر روسی افواج پر حملے کرتے اور شدید نقصان پہنچاتے۔ تاہم افرادی قوت کی شدید کمی تھی۔ امریکا نے اپنے اتحادی سعودی عرب کی مدد سے دنیا بھر سے اسلامی جذبہ جہاد کے تحت مجاہدین کی بھرتی شروع کر دی۔ ان مذہبی تعلیمی اداروں سے طالبعلموں کو جہاد کے لئےروانہ کیا گیا جو ایک عرصے سے سعودی امداد پر گزارا کرتے تھے۔ ان بیچاروں کو جنگ کا ایندھن بننا تھا۔

ان کی ابتدائی منزل پشاورتھی۔ گردونواح میں ٹریننگ کیمپ ان کوعسکری تربیت دینے کے لئےقائم تھے۔ ان کی تربیت کے لئے رقم اور لڑنے کے لئے اسلحہ کی ضرورت تھی۔ امریکی اسلحہ ساز کارخانوں نے دن رات شفٹوں میں کام کرکے اس ضرورت کو پورا کیا۔ امریکی معیشت اسلحہ کی فروخت سے مضبوط ہو رہی تھی۔ یہ اسلحہ امداد کی شکل میں سپلائی کیا جا رہا تھا۔ مگر اسکی قیمت سعودی عرب اور دوسرے اتحادی ادا کر رہے تھے۔مزید رقم فراہم کرنے کے لئے افغانستان سے منشیات کی دنیا بھر میں سمگلنگ کو فروغ دیا گیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ایک انٹرویو میں خود تسلیم کیا کہ سرکاری سرپرستی میں منشیات سمگلنگ کو پروموٹ کیا گیا۔ بی بی سی -ٹی وی نے اس موضوع پر دستاویزی فلم بھی ریلیز کی۔ "سکاؤٹ جس نے ہیرؤن سمگل کی”۔ Scout who smuggled Heroin۔ منشیات کے اس کلچر نے پاکستانی معاشرے کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔ کئی معزز اور شریف گھرانوں کے خوبرو جوان اس لت میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ راتوں رات سفید پاؤڈر کی کمائی سے ایک نیا امیر طبقہ پیدا ہوا جس سے دوسری سماجی برائیوں نے معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا کیا۔

افغانستان میں روس کو انگیج کرنے کے بعد دنیا بھر میں پراپیگنڈا کے ذریعے اسے نفرت کا نشانہ بنایا گیا۔ ہر طرف ایک ہی شور تھا کہ روس گرم پانیوں تک رسائی چاہتا ہے۔ جسے روکنا سب کی ذمےداری ہے۔ امریکا میں انگریزی، اردو، پشتو، فارسی اور عربی زبان میں جہادی لٹریچرچھاپ کر دنیا بھر میں تقسیم کیا گیا۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپوں میں بچوں کا تعلیمی نصاب بھی امریکا سے چھپ کر آتا تھا۔ جس میں ب – بندوق اور ج -جہاد کا سبق پڑھایا جاتا تھا۔ غرض ہر طرف جذبہ جہاد کو پروان چڑھایا جا رہا تھا۔ پاکستانی پریس کو بھی نوازا گیا۔ جس نے چاہا اس بہتی گنگا میں غسل کیا۔ مین سٹریم پریس نے رقوم لے کر نئے ناموں سے ڈیکلریشن لئے اور مقامی سطح پر کئی ناموں سے جہادی پرچے نکلنے شروع ہوئے۔

ایک اندازے کے مطابق چالیس بلین ڈالرز کے اخراجات ہوئے جس کا بڑاحصہ سعودی عرب کے ذمے ٹھہرا۔ اس طویل مزاحمتی جنگ نے روس کی معاشی کمر توڑ کے رکھ دی۔1989ءمیں روس نے افغانستان سے انخلا ءکا فیصلہ کیا۔1992ءمیں افغانستان میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ روسی افواج واپس اپنے وطن جا چکی تھیں۔1996ءمیں طالبان تیار کئے گئے جو روسی افواج کی شکست کا کریڈٹ کلیم کرتے تھے۔ مجاہدین نے جو اب طالبان کا روپ اختیار کر چکے تھے، آگےبڑھ کر کابل پر قبضے کا پروگرام بنایا اور اپنے زیر تسلط علاقوں میں اپنی ہی برانڈ کا اسلامی نظام نافذ کرنے کی کوششیں کی۔ احمد شاہ مسعود افغانستان میں شیعہ مجاہدین کا کمانڈر تھا اسے ایران کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس نے پاکستانی برانڈ طالبان کے ساتھ جنگ شروع کر دی اور شدید جانی نقصان کاباعث بنا۔ ہزاروں کی تعداد میں طالبان کو بیدردی سے ذبح کیا گیا۔ طالبان نے افغانستان میں جو طرز حکومت اختیار کیا اس میں عورتوں کو عضومعطل بنا دیا گیا۔ پردے کی سختی سے پابندی کرائی گئی۔ مخلوط تعلیم بلکہ تعلیم نسواں پر بھی پابندی تھی۔ داڑھی رکھنا فرض اور شیوکرانا قابل سزا جرم ٹھہرا۔ زمانہ قبل مسیح سے موجود بُدھا کے تاریخ ساز مجسمے جو عالمی ورثہ قرا رپا چکےتھےسلطان محمود غزنوی کی پیروی میں بت قرار دے کر پاش پاش کر دئیے گئے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5