کیا عمران خان وزیر اعظم بن سکیں گے یا کنگ میکر کوئی اور ہو گا؟ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کا تجزیہ


عمران وزیر اعظم بننے کیلئے پر امید، پی پی بھی کنگ میکر بن سکتی ہے

20سال انتخابات میں ناکامی کے بعد عمران خان آج ہونے والے عام انتخابات میں جیت کی امید کیساتھ پاکستان کے نئے وزیر اعظم بننے کےلئے بھی پر امید ہیں تاہم اگر کوئی بھی جماعت اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کنگ میکر کے طور پر سامنے آسکتی ہے، دوسری جانب انتخابات میں فوائد کیلئے سیا ستدان توہین مذہب جیسے اہم ایشوز کو بھڑکا کر انتہا پسندی پھیلا رہے ہیں۔ برطانوی خبرر ساں ادارے کے مطابق 65سالہ عمران رواں ماہ کرپشن الزامات پر نواز شریف کو ملنے والی سزا پر بھی خوش ہیں جبکہ نواز شریف کے حامیوں کا الزام ہے کہ ان کے قائد کیخلاف فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے کیاگیا ہے۔ بہرحال ، حال ہی میں ملک بھر میں کئے گئے سروے میں سخت مقابلے کی نشاندہی ہوئی ہے جس کے مطابق عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف 30فیصد حمایت کیساتھ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے آگے ہے جس کی حمایت 27فیصد نے کی۔

 

ایک اور سروے میں نواز شریف کی جماعت 26 فیصد حمایت کیساتھ آگے ہےجبکہ اسی سروے میں 25فیصد حمایت پیٹی آئی کی کی گئی جبکہ تیسرے نمبر پر پاکستان پیپلزپارٹی رہی جس کی قیادت بلاول کررہے ہیں اور کئی لوگوں کا خیال ہے کہ انتخابات میں اگر کوئی بھی جماعت اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کنگ میکر کے طور پر سامنے آسکتی ہے۔ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 272منتخب نشستوں میں سے 137نشستیں کسی بھی جماعت کو اکثریت حاصل کرنے کیلئے درکار ہونگی اور ووٹنگ کے تناسب کے لحاظ سے خواتین اور اقلیتوں کی70نشستیں تقسیم کی جائینگی۔ گزشتہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 126نشستیں جیتی تھیںجبکہ عمران خان کی جماعت 28نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ ادھر فرانسیسی خبر رساںادارے کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہناہےکہ انتخابات میں فوائد حاصل کرنے کیلئے پاکستان کے سیاستدان توہین مذہب جیسے اہم ایشوز کو بھڑکا کر انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ ملک میں فساد پیدا ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تجزیہ کار عامر رانا کا کہناہے کہ اس انتخابات میں تبدیلی دیکھی گئی ہے،اہم سیاسی جماعتیں بھی مذہبی بیانیے کا استحصال کر رہی ہیں، انہوں نےکہاکہ یہ تبدیلی فرقہ وارانہ تقسیم کو بڑھائے گی ، انتہا پسند گروپوں کو تقویت بخشے گی اور تشد د کو فروغ بھی دے سکتی ہے۔ کپل دیو نامی اقلیتی سماجی کارکن کا کہناتھا کہ عمران خان توہین مذہب سے متعلق اپنے تبصرے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن جب کسی ملک کا وزیر اعظم بننے کی خواہش رکھنےوالا شخص اس طرح کے بیانات دیتا ہے تو عوام اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

Facebook Comments HS