بطور پولنگ ایجنٹ جو میں نے دیکھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راقم اپنی بستی کے پولنگ اسٹیشن پر بطور پولنگ ایجنٹ موجود تھا۔ ہمارے پولنگ پر تین پولنگ بوتھ تھے۔ اور قاعدہ کے مطابق ہر بوتھ پر دو، دو بیلٹ بکس، ایک سبز ڈھکن والا قومی اور دوسرا سفید ڈھکن والاصوبائی اسمبلی کے لئے، کل چھ بیلٹ بکسس تھے۔ پولنگ کا وقت ختم ہوا توبیلٹ بکسس کو سیل کیا جانے لگا۔ بیلٹ بکس کو جس جگہ سے سیل کیا جاتا ہے۔ دو بیلٹ باکس اس جگہ سے ٹوٹے ہوئے تھے۔ یعنی انہیں سیل کیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ حالانکہ پولنگ شروع ہوتے وقت تمام بیلٹ بکسس ہر طرح صحیح سلامت تھے۔

پریذائیڈنگ افسرکہنے لگا اب ان بیلٹ بکسس کا کیا کیا جائے۔ انہیں سیل تو کیا ہی نہیں جا سکتا، یہ تو ٹوٹ چکے ہیں؟
راقم نے عرض کی سر جس سے بھی یہ ٹوٹے، وہ بندہ تھا بہت انصاف پسندکہ اس سے ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کابیلٹ بکس ٹوٹا۔ دونوں قومی یا دونوں صوبائی اسمبلی کے بیلٹ بکسس نہیں ٹوٹے۔ بہرحال سر جب تک یہ باہر موجود ہیں، ہم لوگ کھلی آنکھوں سے پوری طرح ان کی نگرانی کریں گے۔ اور جب آپ گنتی کے لئے انہیں اندر لے کر جائیں تو یہ دونوں بیلٹ بکسس ہم پولنگ ایجنٹس کی نظروں کے سامنے رہنے چاہیے۔ کہ کہیں ان میں کسی قسم کی کو ئی برکت نہ ڈل جائے۔

لیکن جب گنتی کے لئے ان بیلٹ بکسس کو اندر لے جائے گیا تو ہمارے پرزور مطالبے کے باوجود ہم لوگوں کو کوئی دس منٹ تک اندر نہیں جانے دیا گیا۔ اس دوران ان بیلٹ بکسس پر کیا بیت گئی خدا جانے یا پولنگ سٹاف۔

کسی بڑی کارروائی ڈالنے کے لئے بظاہر یہ دس منٹ بہت کم وقت ہے، مگرپہلے سے مہریں لگے بیلٹ پیپرز کو بیلٹ بکسس میں ڈالنے کے لئے اتنا وقت بہت ہے۔
پھر گنتی کے لئے تقریباً پچیس فٹ بڑے کمرے کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور حکم ہوتا ہے کہ پولنگ ایجنٹس کمرے کی ایک طرف کی دیوار کے ساتھ بیٹھیں گے۔ اور پولنگ سٹاف دوسری طرف کی دیوار کے پاس۔

اس پر راقم نے احتجاج کیا کہ سر اگر آپ اتنی دور بٹھائیں گے تو ہم لوگ گنتی کے عمل کی نگرانی کیسے کر سکیں گے، پولنگ ایجنٹس اور ان لوگوں میں کیا فرق ہے جو پولنگ اسٹیشن سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں؟

لیکن ہماری ایک نہی سنی گئی۔ اور ہمیں کوئی بیس فٹ دور ہی بٹھایا گیا جہاں سے ہمیں کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا کہ کون سی پرچی پر کس نشان پر مہر لگی ہے اور اسے کس امیدوار کے کھاتے میں شمار کیا جا رہا ہے۔

گنتی کا عمل مکمل ہوا تو ہمیں کہا گیا کہ آپ لوگ رزلٹ لکھ لیں۔ ہم نے مطالبہ کیا کہ ہمیں فارم 45 دیا جائے۔ مگر پریذائیڈنگ افسر نے فارم 45 دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اور کہا کہ فارم پنتالیس کسی صورت نہیں دے سکتا۔ ہاں البتہ الیکشن کمیشن کے لیٹر پیڈ پر نتیجہ لکھ کر دے سکتا ہوں۔ اور پھر ایسا ہی کیا گیا کہ تمام پولنگ ایجنٹس کو لیٹر پیڈ پر نتیجہ جاری کیا گیا۔

اسی بارے میں

پریزائیڈنگ آفیسر کی ڈائری

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •