ایک ایمان دار بادشاہ اور کرپٹ عوامی لوٹوں کی حکایت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روایت ہے کہ ایک ملک میں کرپشن سے قوم اس حد تک تنگ آ گئی کہ ادھر انقلاب آ گیا۔ بڑے بڑے کرپٹ افراد کی گردنیں اتار دی گئیں اور ایک نہایت ہی ایماندار اور الو العزم شخص کو بادشاہ بنا کر تخت پر بٹھا دیا گیا۔

نئے بادشاہ نے فوری طور پر اصلاحات شروع کر دیں۔ اس کے امیر وزیر بھی مشورے دینے میں پیش پیش تھے۔ کچھ درباریوں کا خیال تھا کہ بادشاہ کو ایماندار پا کر سب خود بخود ہی ٹھیک ہو جائیں گے اور کرپشن سے توبہ کریں گے۔ کچھ کا خیال تھا کہ پردیسی بھی اس کرپشن فری اور میرٹ پرور ماحول کو دیکھ کر اپنی مال دولت لے کر ادھر آ جائیں گے۔ ہر طرف فرط و انبساط کا سماں تھا اور ہر شخص اس سرور میں تھا کہ بس اب ہمارا ملک نمبر ون بننے والا ہے۔

اچانک بادشاہ کی نظر دور کونے میں بیٹھے ایک بزرگ پر پڑی جو اداس سی شکل نکالے سب کو مایوس نگاہوں سے تک رہا تھا۔ بادشاہ نے فوراً ان بابا جی سے پوچھا کہ اے بزرگ، کیا آپ کو یقین نہیں ہے کہ ایک ایماندار بادشاہ کے تخت پر بیٹھتے ہی سب کرپٹ لوگ بھی خدا خوفی کرنے لگیں گے اور کرپشن کو خیر باد کہیں گے؟

بزرگ نے جان کی امان پائی اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت، مجھے آپ پر تو اعتبار ہے مگر میں جن عوام میں اپنی عمر گزار چکا ہوں، ان پر بھی اعتبار ہے۔ وہ ویسے ہی رہیں گے جیسے ہیں“۔

بادشاہ کو یقین نہ آیا۔ بزرگ نے کہا کہ ایسا کریں کہ حکم جاری کریں کہ شاہی محل کا تالاب خالی کیا جائے اور آج رات ہر شہری ایک ایک لوٹا دودھ کا اس میں ڈال جائے تاکہ صبح اس کی کھیر بنا کر انقلاب کی خوشی میں شہر بھر کا منہ میٹھا کیا جائے۔

بادشاہ کو اس کی حکمت تو سمجھ تو نہیں آئی بہرحال بزرگ کا دل رکھنے کو شاہی فرمان جاری کر دیا گیا۔ رات ڈھلتے ہی قصر شاہی کے سامنے عوام کی طویل قطاریں لگ گئیں جو محل کے پائیں باغ میں داخل ہوتے اور اپنا اپنا لوٹا تالاب میں انڈیل کر دوسرے دروازے سے باہر نکل جاتے۔ گھپ اندھیرے کے باوجود عوام کا ایسا جوش و خروش دیکھ کر بادشاہ بہت خوش ہوا مگر وہ بزرگ بدستور اداس بیٹھے رہے۔

صبح سویرے بادشاہ اپنے نائیوں اور ان بزرگ کو لے کر تالاب کی سمت چلا تاکہ وہیں دیگیں چڑھا کر کھیر پکائی جائے۔ تالاب پر پہنچ کر بادشاہ نے لہروں میں اپنا عکس دیکھا اور حیران ہو کر بولا ”یہ دودھ اتنا صاف شفاف کیوں ہے؟ “

اداس صورت بزرگ نے جواب دیا ”بادشاہ سلامت، آپ نے تالاب بھرنے کو جتنے لوٹے طلب کیے تھے وہ سب آپ کو پرجا نے دے دیے۔ مگر ہر ایک نے یہی سوچا کہ باقی سب دودھ ڈال رہے ہیں تو ایک میرے پانی ڈالنے سے کسی کو کیا پتہ چلے گا؟ یوں ہر ایک نے ایمانداری کو دوسروں پر چھوڑتے ہوئے خود تھوڑی سی کرپشن کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک شخص نے بھی دودھ کا لوٹا نہیں ڈالا۔ آپ پہلے لوگوں کو ایماندار کرنے کی طرف توجہ دیں، ورنہ آپ کو جو لوٹے نصیب ہوں گے ان میں دودھ نہیں پانی ہی ملے گا“۔

بادشاہ ان اداس صورت بزرگ کی حکمت سے بہت متاثر ہوا۔ فوراً نائیوں کو حکم دیا کہ ان بزرگ کو تالاب میں دھکا دے دو ورنہ یہ قوم کا مورال ڈاؤن کر دیں گے، اور ڈھنڈورچیوں سے اعلان کروا دیا کہ دودھ جلنے کی وجہ سے کھیر نہیں پکی ہے اس لئے پڑوسی سلطنت کے حلوائی سے مٹھائی ادھار منگوا کر اسے ہی عوام میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ انقلاب کا جشن منایا جا سکے۔
نتیجہ: ڈھاک کے تین پات، یعنی لوٹے کرپٹ ہوں تو ایماندار بادشاہ کا بس نہیں چل سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1190 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar