اگر عمران خان بھی مودی کی طرح کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوتے ہیں تو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے ممکنہ وزیر اعظم عمران خان کی متوقع اور قدرے متنازع ’شان دار کام یابی‘ پر ہندوستانی حکومت کی طرف سے ابھی تک ایسا کوئی خوش کن رد عمل نہیں آیا ہے لیکن پاکستان کی شکست خوردہ سیاسی جماعتوں اور ہندوستانی لے پالک میڈیا دونوں کا رد عمل سامنے آ چکا ہے اور ایک جیسا ہے، بس فرق اتنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کا رد عمل فطری اور ہمارے میڈیا کا رد عمل مصنوعی یا یوں کہہ لیں کہ ’فیڈڈ‘ یا ’حب الوطنی‘ کے عین مطابق ہے۔

اگر آپ پاکستان کو دشمن ملک کے بجائے پڑوسی ملک سمجھتے ہیں تو آپ بھگتوں کے حب الوطنی کے غیر اعلانیہ مگر نافذ کردہ پیمانے پر پورا نہیں اتر رہے ہیں۔ جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو ہارنے والی ’لت خور‘ سیاسی جماعتیں اسے عزت و وقار کے ساتھ تسلیم نہیں کرتیں بلکہ دھاندلی وغیرہ کا الزام عائد کرکے ہزیمت کی ذلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں؛ حالاں کہ اس طرح وہ مزید ذلیل خوار ہی ہوتی ہیں۔ اخلاقی شرافت (اگر ہے تو) کا تقاضا یہ ہے کہ شکست کو تسلیم کرتے ہوئے پیچھے ہٹ جائیں اور نیک تمناؤں کے ساتھ اقتدار نئی حکومت کے حوالے کر دیں۔ اغراض نفسانیہ کے مریض ان سیاست دانوں اور ان کے نفاق و نا اہلی کو جواز فراہم کرنے والے توند پرست فربہ مائل علما کو زمین زادوں نے اس بار بری طرح سے مسترد کر دیا۔

اب بجائے اس کے کہ وہ اپنی ذات کی کثافت و تکدر کو صاف کرتے، جبہ و دستار پر لگی استرداد و انکار کی مہر کو غور سے پڑھتے اور نجابت و کرامت کے نام پر ریشوں اور خلیوں میں سرایت کرگئی تعفن آمیز خباثت و غلاظت کا احتساب کرتے کل جماعتی میٹنگ بلا کر انتخابی نتائج یا با الفاظ دیگر عوامی مینڈیٹ کو مسترد کردیا۔ پی پی پی پی اور مسلم لیگ نواز کا انتخابی نتائج کو مسترد کرنا ایک ’کلاسیکی رد عمل‘ سے زیادہ معنیٰ نہیں رکھتا لیکن متحدہ مجلس عمل کا اقدام بہرحال اہمیت رکھتا ہے کہ یہ جماعت ’انبیا کے وارثین‘ پر مشتمل تھی۔ سو پہلا کام تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ برخود غلط کی شراب پینے اور پلانے کے بجائے اسوہ نبی اقدسﷺ پر عمل کرتے یعنی کہ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ (وانک لعلیٰ خلق عظیم) پیش کرتے اور پھر قرآن مجید کے اس آفاقی پیمانے ’لماتقولون مالاتفعلون‘ کی روشنی میں اپنے ’گناہوں‘ کا جائزہ لیتے، اور کہتے کہ ہم نے زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھا ہے۔ ہم ایک مثالی کردار پیش کرنے میں ناکام رہے اس لیے عوام  نے ہمیں مسترد کر دیا ہے اور ان کا فیصلہ سر آنکھوں پر۔

خیر یہ تو بات رہی تقدس مآب کج کلاہوں کی۔ اب سیاسی بہروپیوں کو بھی دیکھ لیں۔ مسٹر روڈسٹر شہباز شریف ایک طرف تو انتخاب کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں لیکن دوسری طرف پنجاب میں حکومت سازی کا دعویٰ بھی پیش کرتے ہیں کہ عوام نے انھیں دوبارہ مینڈیٹ دیا ہے۔ حسن نثار نے لکھا ہے کہ ’عوام کے شعورکی سطح خطرے کے نشان کو چھو رہی ہے‘۔ حسن نثار یوں تو کچھ زیادہ ہی درست پیش گوئی کر جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سیاسی فہم و فراست خاک دانی حقائق سے عاری ہوکر پارٹی لائن سلوگن ہوجاتی ہے، جو اپنے صوتی طعنے، طنطنے اور طمطراق سے پر ہوتی ہے‘ پھر بھی اگر واقعی ایسا ہے تو پھر عوام کو چاہیے کہ سب سے پہلے ان لوگوں کو نشان زد کرلیں جن کے اندر شکست کو برداشت کرنے کی اعلیٰ ظرفی و بلند حوصلگی نہیں ہے۔

پاکستانی سیاسی جماعتوں کی طرح ہندوستان کی میڈیا کا رد عمل بھی بڑا افسوس ناک رہا ہے۔ ہمارے قومی یا  لے پالک میڈیا نے پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کو فوج اور انتخابی کمیشن کے کھاتے میں ڈال دیا اور چشم زدن میں عمران خان کو ہندوستان کا دشمن بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان کو پاکستانی افواج اور عبوری سیاسی مقتدرہ کے تحت چلنے والے آئینی اداروں کی حمایت و اعانت حاصل تھی لیکن یہ بہت منصوبہ بند حمایت تھی اور عوام کے جوش و جذبے سے مشروط تھی جو مابعد عہد جدید کا بیانیہ دیکھنا، سننا اور گنگنانا چاہتے ہیں۔ عمران خان کی اس فتح کو خالص فوج، عدالت اور آئینی اداروں کا التزام قرار دینا کے پی کے سے کراچی تک امنڈے عوامی جذبات کے سیلاب کی نفی کرنا ہے اور یہ کوئی مستحسن یا منصفانہ فعل نہیں۔ سب کچھ فوج کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی کلید فوج ہی کے ہاتھ میں ہے۔

اس دوران دو بار ایک ٹیلی ویژن چینل جے کے 24X7 نیوز چینل کے لائیو شو میں جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے مضمرات، فوج کی مداخلت اور عدالت کی فعالیت نیز ’یوتھیائی تبدیلی‘ کے ہندوستان پر اثرات جیسے امور پر تبادلہ ٔخیال ہوا۔ پینل میں شامل اکثر شرکا نے مایوسی کا اظہار کیا اور یوں پاکستان میں آنے والی ’یوتھیائی تبدیلی‘ کو فوج کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ اکثر مبصرین اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان میں آنے والی تبدیلی کا ہندوستان پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا، حالات جیسے تھے ویسے ہی رہیں گے۔ جب تک عمران خان دہشت گردی پر لگام نہیں لگائیں گے ان کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔ خاک سار کا کہنا یہ تھا کہ پاکستان میں انتخاب ہندوستان کے ساتھ مذاکرات یا مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے نہیں ہوا ہے، سو ہمیں اس خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر بات چیت کی پیش کش کی جاتی ہے تو اسے قبول کرتے ہوئے گفت گو کی میز پر بیٹھنا چاہیے کہ مسئلہ بات چیت ہی سے حل ہوگا، گولی اور بندوق سے نہیں۔

دوسری بات یہ کہ ندی سے بہت پانی اور بہت خون بہہ چکا ہے، دنیا پوسٹ ماڈرن پیریڈ (عہد مابعد جدید) کی طرف بڑھ گئی ہے سو اب بیانیہ ستر سال پرانا نہیں بلکہ آج کا ہونا چاہیے اور آج کا بیانیہ یہ ہے کہ ہم جینا چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں ایک پرامن زندگی چاہیے، پرامن ماحول چاہیے، روزگار، پیسے اور تحفظ چاہیے۔ لیکن دھرم اور محرومیوں سے گرست خمار زدہ ذہن یہ بات بھلا کہاں سمجھیں گے۔ خواہ پاکستان کے سوٹڈ بوٹڈ لوگ ہوں یا ہمارے یہاں کے جدید روشن خیال لوگ، بات جب سرحد اور کشمیرکی آتی ہے تو سب کی جبینیں تن جاتی ہیں۔ جبین خواہ میری ہو یا آپ کی کج ہو جاتی ہے اور یہیں پر آ کر ساری کوششیں گھٹنے ٹیک دیتی ہیں۔

مجموعی طور پر ہندوستانی میڈیا کا رد عمل انتہائی مایوس کن تھا جس کا اظہارعمران خان نے ’شان دار‘ فتح حاصل کرنے کے بعد قوم کے نام اپنی پہلی تقریر میں خود کیا اور کہا کہ انہیں بالی ووڈ کا ولن بنا کر پیش کیا گیا جب کہ وہ ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو ہندوستان کے ساتھ خوش گوار تعلقات چاہتے ہیں۔ عمران خان کے اس بیان کے باوجود ہمارے میڈیا کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کیوں کہ ہندوستان اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی فوج کے پاس ہوتی ہے اور یہی عمران خان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا کہ کیا وہ جمہوریت کو فوج کے آہنی شکنجے سے نکال کرعوام کے ہاتھ میں دے پائیں گے۔

یہ ایک مشکل کام ہوگا اور غالباً عمران خان کا یہ مطمح نظر بھی نہیں۔ عمران خان کی کوشش یہی ہوگی کہ انھیں جس کام کے لیے لایا گیا ہے اسے بہ احسن طریقے سے انجام دیں، پاکستانی معیشت ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہے، نظم و نسق کی صورت احوال انتہائی مخدوش ہے، تعلیمی ادارے زوال کی طرف گام زن ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور دو تہائی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے، عمران خان کی یہ بنیادی ترجیحات تھیں اور اسی کام کے لیے انھیں فوج و عوام نے منتخب کیا ہے، ہندوستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے نہیں۔

ہاں یہ ضرور ہوگا کہ ہندوستان کے ساتھ رسمی تعلقات جوں کے توں رہیں گے، بہت ممکن ہے کہ عمران خان کی تقریب حلف برداری میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اپنی ’ہگپلومیسی‘ کے ساتھ شریک ہوں، ایک دو راؤنڈ مذاکرات بھی ہوں بس، اس سے زیادہ کچھ اور کی توقع نہیں رکھ سکتے کہ عمران خان ہندوستان کے ساتھ نارمل تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

نوازشریف کے ساتھ مودی جی کی اکویشن (Equation) بہت بہتر خیال کی جارہی تھی لیکن کیا اس کیمسٹری کے باوجود کوئی مذاکرات ہوئے؟ نہیں ہوئے بلکہ اس کے برعکس سرحد پر جنگ کے حالات رہے لہٰذا ایک بڑا ملک اور ایک بڑی جمہوریت ہونے کے ناتے سے ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ پاکستان کے استحکام میں اپنا مثبت کردار اداکریں کہ بقول واجپائی جی ہم خوش حال پڑوسی چاہتے ہیں، کنگال پڑوسی نہیں۔ یہ بہت ممکن ہے کہ خوش حال خاک زادے جنگ کے بجائے امن کی بات کریں لہٰذا عمران خان کی مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

عمران خان کے لیے داخلہ اور خارجہ پالیسی کے درمیان توازن کو برقراررکھتے ہوئے ملکی انتظام و انصرام کو چلانا اتنا آسان نہیں ہوگا اور کہیں نہ کہیں انھیں فوج کے سامنے کچھ سرنگوں ہونا پڑے گا کہ پاکستانی فوج کے لیے کسی ابھرتے ہوئے سیاست دان کا اسکرو ٹائٹ کرنا کوئی مشکل کام نہیں اور یہ کوئی غیر تاریخی عمل بھی نہیں ہوگا۔

برطانیہ میں مقیم معروف پاکستانی ادیب افسانہ نگارخرم بقا اپنے ملک کو بہترسمجھتے ہیں۔ انھوں نے اس ضمن میں اپنا تجزیہ کچھ یوں پیش کیا ہے کہ ”سردست عمران خان کی ترجیحات میں معیشت، لا اینڈ آرڈر اور خارجہ پالیسی سر فہرست ہیں۔ خارجہ پالیسی فوج متعین کرتی ہے“۔ وہ آگے سوال کرتے ہیں کہ ”کیا ایسی صورت میں عمران خان آزادانہ طور پر بالخصوص ہندوستان کے ساتھ کوئی خارجہ پالیسی تشکیل دے پائیں گے یہ دیکھنے کی بات ہے اور صرف وقت ہی اس کا جواب دے سکتا ہے“؟!

چلتے چلتے ایک بات اور یاد دلانا چاہوں گا۔ جیسے 2014ء کے پارلیمانی انتخاب میں مودی کی سونامی آئی تھی کچھ ایسی ہی لہر پاکستان میں بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ مودی بھگتوں کا خیال تھا کہ وہ بڑا چمتکار لائیں گے، چمتکار تو کچھ نہیں ہوا، ہاں کانگریس کو روز کوس رہے ہیں کہ 70 سال کا گند صاف کر رہا ہوں، اس میں وقت لگے گا۔ میری ہم دردیاں پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ عمران خان بھی مودی بن جائیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو عمران خان کسے کوسیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد ہاشم خان

مصنف افسانہ نگار ناقد اور صحافی ہیں، ممبئی، ہندوستان سے تعلق ہے

hashim-khan-mumbai has 10 posts and counting.See all posts by hashim-khan-mumbai