”کتا تو مر گیا خان صاحب “


آپ نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں حضرت عمرؓ کے سنہری دور خلافت کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا وہ مشہور قول دہرایا کہ ”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مرتا ہے، تو اُس کا ذمہ دار میں (حضرت عمر فاروقؓ) ہوں گا۔ “۔ یقینا آپ تک یہ اطلاع پہنچ چکی ہوگی کہ آپ کی تقریر کے اگلے ہی دن ایک کتا آپ کی پارٹی کا پرچم لپیٹے بنوں کی ایک گلی میں مر گیا۔ بھوک سے نہیں، غصہ کی وجہ سے۔ وہ غصہ جو اُس کا اپنا نہیں تھا، اُن دو نوجوانوں کا تھا، جسے پستول کی گولیوں کی صورت میں اُنہوں نے اُس کتے پر اتارا تھا۔

خدا کرے کہ ایسا نہ ہو، مگر ایسا بعید بھی نہیں کہ یہ غصہ مزید کئی جانوروں کی جان لے لے۔ کیونکہ پچھلے دنوں ایک گدھا بھی کچھ غصیلے نوجوانوں کے ہاتھوں مارا گیا اور خاکم بدہن، یہ غصہ انسانی جانوں کا رُخ بھی کرسکتا ہے۔

آپ نے اپنی تقریر میں جو مفاہمانہ اور مدبرانہ لہجہ اختیار کیا، وہ آپ کے مخالفین کے لئے بھی قابل حیرت و تحسین ہے۔ حالانکہ آپ کا یہ لب و لہجہ نیا نہیں ہے، آپ بنیادی طور پر اسی لب و لہجے کے مالک ہیں۔ کسی کو یقین نہ آئے تو وہ آپ کے سیاسی سفر کے آغاز کی تقریریں سن لے۔ یہ تو برا ہو اس ملک کے بدعنوان سیاسی کلچر کا جس میں کوئی بھی کھرا انسان یا تو کُڑھتا ہے، یا پھر اُبلتا ہے۔ اور اگر انسان کھلاڑی بھی ہو۔ اور پویلین میں بیٹھ کر میدان میں اناڑیوں کو کھیلتا ہوا دیکھ رہا ہو، پھر تو اضطراب کا گرجنا بنتا ہی ہے۔ اور جو لوگ آپ کے تندو تیز لب و لہجے پہ معترض ہیں، اُن کے اپنے لب و لہجوں کی تاریخ ان ہی جلسہ گاہوں میں آج تک گونج رہی ہے۔

کم از کم تین دہائیوں سے اس ملک کا یہی سیاسی کلچر رہا ہے۔ دلیل کے بجائے دُشنام اور تنقید کے بجائے دھتکار کی سی گفتگو ہوتی رہی ہے۔ مسلسل مارشلائی اور نیم مارشلائی کیفیت کی وجہ سے نظریاتی سیاست تو کب کا دم گھٹ کر مرچکی ہے۔ سوشلزم اور سیکولرازم تو پہلے ہی مار کھا کر کونے کھدروں میں کراہ رہے تھے، خود نظریہ پاکستان، مینار پاکستان کے اونچے دریچوں سے (جہاں اب عام لوگوں کو خود کشی کے شک میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہے) جھانک جھانک کر اُن رنگین پگڑیوں کو دیکھ رہا ہے، جو اُس کے نام پر فرزندان توحید نے ایک دوسرے سے سیاسی طور پر منفرد ہونے کے لئے پہن رکھی ہیں۔ عموماً تو ان میں سے ہر کوئی اپنا شملہ اونچا کرنے کے شغل میں مصروف رہتا ہے لیکن انتخابی معرکہ سر کرنے کے لئے سب آپس میں مل کر آنجہانی سیکولرازم کی لاش کو دوبارہ سے نکال کر علامتی پھانسی کا اہتمام کرتے ہیں اور پرانے صندوقچے سے شریعت کے نفاذ کا چوغہ پہن کر اسلامی نظام کے قیام کا ترانہ بیک آواز پڑھنے لگتے ہیں۔ باقی بچی دوسری پارٹیاں تو وہ اسٹیلشمنٹ کے نام کی ایک لکیر کھینچ کر ذاتیات کا ایک ایسا والی بال کھیلنا شروع کردیتی ہیں، کہ بیچاری عوام گردن گھماتی تھک جاتی ہے اور پھر ذات، برادری اور فرقوں کی ٹولیوں میں بٹ کر دوبارہ اُسی روایتی انتخابی ثقافت کا حصہ بن جاتی ہے۔ جہاں نظریات کے قبرستان بنے ہوئے ہیں۔

نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ نعرے، گالیاں اور بینرز، گالیوں جیسی تصویریں بن گئی ہیں۔ پگڑیاں اچھالتے اچھالتے بات کپڑے اتارنے تک بڑھ گئی ہے۔ حمایتی منچلوں کی ٹولیاں بنی ہوئی ہیں اور اُن کے ہاتھ میں فیس بکی قینچیاں اور ٹیوٹری پتھر ہیں۔ کپڑے پھاڑنے اور سنگسار کرنے کا تماشا ہر اکاﺅنٹ پر جاری ہے۔

آیت تو کفر و اسلام کی کشمکش میں جذباتی صحابہ کرامؓ کو شائستگی کے دائرے میں رکھنے کے لئے اُتری تھی، کہ وہ دوسروں کے خداﺅں کو برا بھلا کہنے سے اجتناب کریں تاکہ دوسری جانب سے اُن کو بھی ویسے ہی گستاخانہ فقرے سننے کو نہ ملیں۔ رب کائنات کی غیرت نے اپنے اور اپنے محبوب کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی زبان کھینچنے سے پہلے اپنے جانثاروں کو شائستگی کا دامن پکڑنے کی ہدایت کی

میری آپ سے فقط اتنی گزارش ہے کہ آپ دور مدینہ اور خلافت راشدہ کے ادوار کے ساتھ ساتھ اپنے جا نثاروں کو اُس دور کے انقلابیوں کی شائستگی کے بھی حوالے دیں کیونکہ تبدیلی کے بدخواہ اب اور بھی بپھریں گے۔ کرسیوں سے اُتر کر تھڑوں پر بیٹھنے والوں کے پاس اور کوئی کام نہیں رہتا، سوائے اُکسانے کے۔ ذرا سی جلتی پر تیل ڈالنے کے لئے بہت سے تیار کھڑے ہوں گے۔ ادھر کسی نے تیلی دکھادی، تو اُدھر شعلے بھڑک اٹھیں گے۔

کپتان صاحب، کھیل کے میدان میں آپ کی اسپورٹس مین اسپرٹ مثالی رہی ہے۔ آپ جس جارحانہ انداز میں باﺅلنگ کرتے تھے، اُتنی شائستگی سے آﺅٹ ہونے والے کو رخصت کیا کرتے تھے۔ آپ کا وہی تشخص میدان سیاست میں بھی درکار ہے۔ یہاں آﺅٹ ہونے والے میدان سے باہر نہیں جاتے۔ امپائر کے فیصلے کے باوجود کریز پہ کھڑے رہتے ہیں۔ یہاں تو کرکٹ کے میدان سے بھی زیادہ تحمل درکار ہے اور آپ سے کہیں زیادہ آپ کے سپورٹرز کو، ورنہ میدان میں ہونے والی لڑائی میدان سے باہر لڑی جائے گی۔ اور مجبوراً میدان سے دوسری ٹیم کے ساتھ آپ کو بھی باہر نکلنا پڑے گا۔ آپ کی ٹیم کے ساتھ سپورٹرز کو بھی برداشت کا لب و لہجہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اُنہیں سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت میں ووٹ سے کہیں زیادہ اہمیت برداشت کی ہوتی ہے۔ دشنام دلائل بن جائیں اور افواہیں حقائق، تو اس ہلڑ بازی کا انجام خانہ جنگی تک پہنچتا ہے۔

اس ملک میں ”تبدیلی “یا پھر ”ترقی“ کا پھل تو ہر کسی نے کھانا ہے۔ یا پھر آپ اُن کے منہ سے چھین لیں گے، جو آپ کے ووٹر نہیں تھے۔ اورنج ٹرین یا میٹرو بس پہ مخالفین کو چڑھنے کی ممانعت ہو گی؟ یا پھر پرائم منسٹر ہاﺅس میں بننے والی یونیورسٹی میں کچھ طلبا پہ پتھراﺅ کیا جائے گا ؟ یہ خارج از امکان نہیں ہے، کیونکہ یہ اس ملک میں ہوتا رہا ہے۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں میں ایسی غلاظتیں آج تک موجود ہیں۔ اگر یہ غلاظتیں مزید پروان چڑھتی ہیں، تو یہ نیا پاکستان نہیں ہوگا۔ یہ تو وہی پرانا بوسیدہ پاکستان، بلکہ اُس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک، جہاں آج گلیوں میں بے زبان جانور ہلاک کئے جارہے ہیں، وہاں کل بے گناہ انسان مارے جائیں گے۔

کتا تو مر گیا خان صاحب، اب ہمیں انسان کو بچانا ہے۔

Facebook Comments HS