نواز شریف کے فالورز کو کہیں احتیاط کریں
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت بغیر کارروائی کے 2؍ اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ دوران سماعت جسٹس گل حسن نے خواجہ حارث سے کہا کہ یاد رکھیں یہ سپریم کورٹ یا احتساب عدالت نہیں ہے، ہم قانون کے مطابق چلیں گے چاہے کسی کے بھی خلاف ہو، نواز شریف کے فالورز کو بھی کہیں احتیاط کریں۔
خواجہ حارث نے نواز شریف فیملی کے خلاف دو ریفرنسز کی منتقلی کی درخواست پر دلائل دئیے کہ ایون فیلڈ ریفرنس پر فیصلہ کے بعد جج صاحب اپنا ذہن ظاہر کر چکے ہیں۔ کیس سماعت کے لئے کسی اور عدالت کو منتقل کیا جائے۔ منگل کو عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے نواز شریف فیملی کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے کہا کہ پہلے دیگر دو ریفرنسز کی منتقلی کی درخواست پر دلائل دیں۔ نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ سبسے پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ نواز شریف فیملی کے خلاف تینوں ریفرنسز آمدن سے زائد اثاثہ جات سے متعلق ہیں۔ احتساب عدالت ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کا فیصلہ سنا چکی ہے۔
دیگر دو ریفرنسز میں بھی قانونی نکات اور حقائق ایک جیسےاور وہی آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے۔ تینوں ریفرنسز میں مشترکہ گواہ ہیں۔ اسٹار گواہ بھی واجد ضیا ہیں۔چونکہ جج صاحب اپنا ذہن بنا چکے ہیں اسلئے باقی دو ریفرنسز کسی اور عدالت کو منتقل کر دیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ریفرنس دوسری عدالت منتقلی کیلئے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی؟ خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہماری درخواست سنی ہی نہیں۔ احتساب عدالت میں تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست بھی دی تھی مگر ریفرنس یکجا نہیں ہوئے۔ عدالت نے اپنے حکم میں تمام ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ سنانے کا کہا مگر اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ جج جن باتوں پر اپنا ذہن ظاہر کر چکے اس پر کیسے فیصلہ کرینگے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دئیے کہ جج کو تو وکلا نے اپنے دلائل سے قائل کرنا ہوتا ہے ، بعض اوقات وکلا اپنے دلائل سے میرا ذہن بدل دیتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ دونوں ریفرنسز اسلام آباد میں کسی اور احتساب عدالت میں منتقل کر دئیے جائیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ جی بالکل کیونکہ ایون فیلڈ ریفرنس پر فیصلہ کے بعد جج صاحب اپنا مائنڈ ڈسکلوز کر چکے ہیں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا ماضی میں ایسی نوعیت کے کسی کیس میں ٹرائل ٹرانسفر کی روایت موجود ہے ؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ، یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد معاملہ ہے تاہم اس سے ملتی جلتی نظیریں ضرور موجود ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا تینوں ریفرنسز میں تفتیشی افسران الگ الگ ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جی بالکل تینوں ریفرنسز کے تفتیشی افسران مختلف ہیں۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ سزا معطلی والی درخوا ست کے قابل سماعت ہونے پر ہمارا اعتراض ہے لہٰذا اس درخواست کو سماعت کیلئے مقرر نہ کیا جائے۔ جسٹس عامر فاروق نے انہیں کہا کہ غیر ضروری اعتراضات نہ اٹھائیں۔ دوران سماعت خواجہ حارث اور جسٹس میاں گل حسن اورنگز یب کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ خواجہ حارث نےکہا کہ فیئر ٹرائل کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ٹرائل مکمل غیر جانبدار ہو، تو اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت سے سب خوش گئے، اگلے دن آپ کو منقول کر کے خبر چھپی کہ آپ سے ناانصافی ہو رہی ہے، آپ کی جانب سے اس خبر کی کوئی تردید بھی نہیں آئی۔ ہم نے اس بات کو انتہائی سیریس لیا ہے۔
فاضل جسٹس نے کہا کہ یاد رکھیں یہ سپریم کورٹ یا احتساب عدالت نہیں ہے، ہم قانون کے مطابق چلیں گے چاہے کسی کے بھی خلاف ہو، نواز شریف کے فالورز کو بھی کہیں احتیاط کریں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں مشاہد اللہ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی بھی عدلیہ کی بالادستی کیلئے عدالت میں پیش ہورہے ہیں، ووٹ کو عزت دو کا نعرہ مقبول ہو رہا ہے۔ اداروں کا تقدس پامال نہیں ہونے دیں گے، اداروں کے کردار سے پاکستان کا دنیا بھر میں تشخص خراب ہوا۔ طلال چوہدری نے کہا کہ مدینے کی ریاست کے طرز پر حکومت بنانے والوں نے چند روز میں منافقت ظاہر کردی، لوگوں کو پیسے دیکر خریدا جارہا ہے۔ پرویز الہٰی سے متعلق گفتگو کے دوران نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ” کل کا ڈاکو آج کا بھائی پرویز الٰہی پرویز الٰہی“۔

