پرویز خٹک اب سیاسی دیگ پکائیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

استخارے کے سیاسی استعمال پر ایک شرارتی سی پوسٹ لگا دی اپنی وال پر۔ اس میں بنی گالا کا احوال لکھا تھا کہ اہم عہدوں کا اعلان اس لیے نہیں ہو رہا کہ ابھی استخارہ نہیں ہو سکا۔ اس پر کپتان کے مداحوں نے کرلام مچا دیا۔

یہ سب پہلے ہی تپے بیٹھے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ”کپتان پانچ سیٹوں سے ہار رہا“ کوئی رپورٹ نہیں سازش تھی میری جو ناکام ہوئی۔ اس پانچ سیٹ پر ہارنے کے بارے میں دو بلاگ لکھے تھے۔ ان میں باقی باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا تھا کہ میرا اپنا یقین نہیں ہے کہ ایسا ہو سکتا۔ جیت ہر بات کا جواب ہوتی۔ کپتان جیت گیا پانچوں سیٹ سے۔ اب چار سیٹ چھوڑنی ہیں انہی کی وجہ سے اکثریت حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

اب تک تین سو بہتر کے ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے درکار ایک سو بہتر کا نمبر حاصل نہیں ہو سکا۔ یہ شاید انتخاب کے دن تک حاصل ہو بھی جائے۔ نہ بھی ہوا تو کپتان اگلا وزیراعظم ہے یہ بات واضح ہے۔

استخارے والی پوسٹ لگائی تو اس پر ایک ٹیلی فون کال بھی موصول ہوئی۔ ”تہ یخ نہ شوے“، تمھیں ابھی ٹھنڈ نہیں پڑی۔ ابھی تک تو تمھاری پانچ سیٹ والے بلاگ پر درگت بن رہی ہے۔ بتا مزہ آ رہا کہ نہیں۔ یہ تبدیلی خٹک تھے۔ ظاہر ہے یہ ان کا اصل نام نہیں ہے۔ دوستوں نے پیار سے رکھ چھوڑا ہے۔

تبدیلی خٹک سے فوری اقرار کیا کہ بہت مزہ آ رہا بہترین خاطر ہو رہی ہے پانچ سیٹ والے بلاگ پر۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ تمھیں تو حقیقت معلوم ہے۔

تبدیلی خٹک فوری بولے کہ ہاں پتہ ہے لیکن ساتھ ہی تسلی دی کی خاطر اپنی اپنی۔ وسی بابے تمھارے ساتھ جو ہو رہی اس پر دلی مسرت ہوتی ہے۔ یہ کم ہوئی ہے زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ ہمارے ورکر تمھارے ساتھ بہت گزارا کرتے ہیں کہ تمھیں پسند بھی کرتے۔

کے پی سے متوقع وزراعلی پر ایک چھوٹا سا پروفائل لکھا تھا۔ اس میں بتایا تھا کہ کون کیوں امیدوار ہو سکتا۔ کپتان کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے ہیں۔ اس کی پرفارمنس کیسی رہی۔ اس مختصر سی تحریر کی تعریف بھی تبدیلی خٹک نے کر دی۔ اس کے بعد اطلاع دی کہ وزراعلی کے لیے جتنے نام آ رہے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک پر بھی بنی گالہ میں غور نہیں ہو رہا۔

علی امین گنڈا پور، ڈاکٹر حیدر علی، اسد قیصر اور پرویز خٹک قومی صوبائی سیٹ سے منتخب ہوئے تھے۔ کپتان نے ان سب کو بلا کر کہہ دیا ہے کہ صوبائی سیٹ چھوڑنی ہو گی اور مرکز میں حلف اٹھانا ہو گا۔ شاہ فرمان کا نام اگر وزیر اعلی کے لیے زیر غور تھا بھی تو اب وہ ری کاؤنٹنگ میں اپنے گھر والی سیٹ ہار گئے ہیں۔ اس وجہ سے شاید امیدوار کی حیثیت سے بھی فارغ ہو گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے پی سے دوبارہ بھاری اکثریت سے منتخب ہوئی ہے۔ یہ اپنی اس کامیابی کو تعلیم صحت بلدیات اور توانائی منصوبوں سے جوڑتی ہے۔ بلدیات کی وزارت جماعت اسلامی کے پاس تھی۔ صالحین کی جماعت اپنا کوئی کریڈٹ اگر تھا تو ایم ایم اے میں جا کر ڈبو چکی۔ فائدہ سارا پی ٹی آئی کو ہوا۔

صحت کارڈ نے پی ٹی آئی کو دوبارہ ووٹ ڈلوائے ہیں۔ یہ پی ٹی آئی کا اپنا خیال ہے۔ تعلیم کی وزارت میں عاطف خان کی کارکردگی سے کپتان بہت مطمئن ہیں۔ دونوں کا براہ راست بہت قریبی دوستانہ تعلق بھی ہے۔ کپتان کو کچھ ناراضی عاطف خان سے بجلی منصوبوں کے حوالے سے تھی۔ ساڑھے تین سو ڈیم بنانے کا وعدہ پورا کرنے میں وہ ناکام رہے۔ یہ ذمہ داری انہیں کے پاس تھی۔

تبدیلی خٹک نے یہ بتا کر حیران کیا کہ رن آف ریور پر بننے والے یہ چھوٹے منصوبے دو سو کے قریب بن چکے ہیں۔ باقی اپنے اپنے مقررہ وقت پر بن جائیں گے۔ کپتان کو عاطف خان کی کارکردگی معلوم ہے اور اس کے دستاویزی ثبوت وہ دیکھ چکے ہیں۔

اب دیکھتے ہیں کہ عاطف خان وزیراعلی بنتے ہیں یا نہیں۔ نہ بننے کی ایک ہی وجہ ہو گی اور وہ ہے پرویز خٹک۔ جنہیں کپتان نے مرکز میں بلا لیا ہے۔ دونوں ایچی سن میں ہم جماعت رہے ہیں۔ تعلق پرانا دوستانہ ہے اور گہرا بھی۔

پرویز خٹک مرکز جانے پر تیار تو ہو گئے ہیں۔ آرم سے بیٹھنے کو وہ ہرگز تیار نہیں ہیں۔ وہ اب یہ چاہ رہے ہیں کہ وزیراعلی ان کی مرضی سے ان کا نامزد کردہ بندہ ہی بنے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی وہ باریک سیاست آزمانی شروع کر دی ہے جس کے لیے وہ مشہور ہیں۔

پارٹی حلقے پرویزخٹک کی کارکردگی سے بہت مطمئن نہیں ہیں۔ بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ اسی وجہ سے انہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے دوست نے خٹک صاحب کو مرکز بلوانے کی وجہ بہت ہی حیران کن بیان کی ہے۔

وجہ اتنی دلچسپ ہے کہ کپتان کی سیاسی سوجھ بوجھ کو داد دینی پڑتی ہے۔ ہم جیسے لوگ اس کی سیاست پر شکی رہتے ہیں۔ اس کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ اس کو سیاسی ذہن ہی نہیں مانتے۔

کپتان کا ماننا ہے کہ پرویز خٹک کی اصل سیاسی مہارت ہے اقلیتی حکومت بنانا اور چلانا۔ یہ ضلع ناظم بھی رہے ہیں۔ سیاسی سفر کے آغاز میں شیرپاؤ کے اہم ساتھی رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے میں ان کا کردار تھا۔ اس سے پہلے اٹھاسی میں جب اے این پی اور پی پی کی مخلوط حکومت کا خاتمہ ہوا تب بھی نگ پورے کر کے حکومت برقرار رکھنے میں ان کا اہم رول تھا۔

دھرنوں کے دوران یہ بہت کامیابی سے اپنی اقلیتی حکومت کو نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ اپنے پارٹی لیڈر کپتان سے بھی بچائے رکھنے میں کامیاب رہے۔

ہمارے تبدیلی خٹک کا کہنا ہے کہ کپتان نے پرویز خٹک کو بلایا۔ انہیں ساتھ بٹھا کر کہا کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے وفاق میں۔ اب حکومت چلانے میں تمھاری مدد اور صلاحیت درکار ہے۔ ہر پارٹی اجلاس میں بیٹھو مذاکرات میں حصہ لو۔ فیصلوں میں میری مدد کرو۔ نمبر گیم پوری رکھو اور سیاست سنبھالو۔

جہانگیر ترین شاہ محمود قریشی اور باقی سب کا نام تو لیا جاتا ہے کہ یہ پارٹی کے اہم لوگ ہیں۔ پرویز خٹک پیچھے بیٹھے کارروائی ڈالتے رہتے ہیں۔ اب جب کپتان انہیں پورے اختیارات کے ساتھ مرکز میں لا رہا ہے تو دیکھیں یہ کیا کرتے ہیں۔ مرکز میں تو جو سیاسی دیگ چڑھائیں گے وہ پتہ لگ جائے گا لیکن اپنی پہلی اور پرانی محبت کے پی کی سیاسی ہانڈی میں بھی ساتھ ساتھ ڈوئی چلاتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 367 posts and counting.See all posts by wisi