میاں محمد نواز شریف نیلسن مینڈیلا نہیں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو نیب کی عدالت نے دس سال کی قید ان کی لندن کی پراپرٹی پر دی ہے جو انہوں نے مبینہ طور پر نوے کی دہائی میں خریدی تھی۔ ان کی بیٹی مریم نواز کو سات سال کی قید سنائی ہے۔ دونوں اس وقت بیگم کلثوم نواز کے پاس تھے جو لندن کے ہسپتال میں کومے کی حالت میں ہیں۔ دونوں لندن سے واپس آکر پاکستان کی جیل میں ہیں اور اس سزا پر اپیل کر رہے ہیں۔

میاں محمد نواز شریف کے مخالفین جن میں بیرون ملک میں رہنے والوں کی اکثریت ہے کہتے ہیں کہ وہ نیلسن مینڈیلا نہیں ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کو پچھلے ہفتے پمز ہسپتال میں منتقل کیا گیا تو پی ٹی آئی کے کچھ لوگ ان کے خلاف احتجاج کے لئے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو وی آئی پی ٹریٹ منٹ نہیں ملنا چاہیے۔ ان کو ایک عام قیدی کی طرح رکھنا چاہیے۔ کچھ تو قید بامشقت کی بات کرتے ہیں اور کچھ اس سے زیادہ سنگین سزاؤں کا ذکر کرتے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق دو ڈاکٹروں نے ان کاعلاج کرنے سے انکار کیا۔ اور ان کے خلاف نعرے لگائے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پمز کو فورا اس بات کا نوٹس لینا چاہیے اور ان دو ڈاکٹروں کے خلاف قرار واقعی ڈسپلنری ایکشن لینا چاہیے۔

بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی اکثریت پہلے جنرل مشرف کو سپورٹ کرتی تھی۔ ان کو، اور کچھ پاکستان کے لبرلز کو جرنل مشرف نے کامیابی سے پروپیگینڈا کر کے یہ یقین دلایا تھا کہ وہ روشن خیال پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ لہذا اس وقت امریکہ میں گنتی کے چند لوگ ہی تھے جو جنرل مشرف کی قوم اور آئین کے خلاف جارحیت کی مذمت کرتے تھے۔

اس وقت بیرون ملک پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کو سپورٹ کرتی ہے وہ ان کے اس مو قف کی تائید کرتی ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سیاست دانوں کی خصوصا نواز شریف کی کرپشن ہے۔ امریکہ میں لوگ عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال کے لئے فراخ دلی سے چندہ دیتے ہیں۔ 2006 میں پاکستانی ڈاکٹروں نے عمران خان کو ان کی تنظیم میں شرکت کے موقع پر ایک دن میں ستر ہزار ڈالر جمع کر کے دیے۔

میری نظر میں نواز شریف کا احترام اس وقت بڑھا جب انہوں نے انڈیا کے سابق وزیراعظم، اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ مل کر برابری کی بنیاد پر پاکستان اور انڈیا کے امن کی سنجیدہ کوششیں شروع کی تھیں۔ علاقائی امن کے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ جب تک پاکستان اپنے محدود ذرائع جنگوں کی تیاری پر خرچ کرتا رہے گا تب تک عوام کی بہبودی کے کام رکے رہیں گے۔ بدقسمتی سے امن کی اس کوشش کا نتیجہ انہیں ملک بدر ہونے کی صورت میں ملا اور قوم کو کارگل کی جنگ بھگتنا پڑی جس میں کئی ماؤں کے بچے شہید ہوئے۔

سن 2011 میں میاں نواز شریف نے سفما (SAFMA) کے سالانہ اجلاس میں تقریرکی جس میں انہوں نے انڈیا کے ساتھ امن کی پھر بات کی۔ اس میں انہوں نے دونوں ملکوں کی ترقی کی خاطر انسانیت کی بنیاد پر اپنے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ ان کی اس تقریر کے کچھ الفاظ کو استعمال کر کے ان کے خلاف مذہب اور حب الوطنی کے کارڈز استعمال کیے گئے۔ اس تقریر کا لنک اس کالم کے آخر میں درج ہے۔ ان کا پرائم منسٹر نریندر مودی کو پاکستان بلانا بھی اس امن کی کوشش کا ایک حصہ تھا۔ اس کے لیے مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کا نعرہ ایجاد کیا گیا اور خوب استعمال ہوا۔

میاں نواز شریف کو یہ احساس ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم رواداری اور مذہب کے نام پر قتل و غارت پاکستان کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے انصاف کے تقاضوں کے مطابق گورنر تاثیر کے قاتل کو مذہبی جماعتوں کی بے پناہ مخالفت کے باوجود عدالت میں دی گئی پھانسی کو سپورٹ کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ اس کے نتیجے میں ان کےووٹ بینک کو کافی نقصان پہنچے گا مگر پاکستان کے مستقبل کی خاطر انہوں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی۔ 2018 کے الیکشن میں ان کے خلاف اس بات کو تقریبا سب پارٹیوں نے استعمال کیا۔

حب الوطنی اور مذہب کے کارڈ کو استعمال کرنے کے بعد بھی یوں لگتا تھا کہ نواز شریف شاید دوبارہ اقتدار میں آ جائیں تو کرپشن کے الزام میں ان کو پھنسا لیا گیا اور ان کو نا اہل قرار دے کر پھر سے ملک بدر کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے پچھلے دور حکومت میں ہر ممکن کوشش کی گئی کہ وہ اپنی حکومت بچانے کے چکروں میں ہی پڑے رہیں اور کہیں انڈیا کے ساتھ پھر امن کی کوشش نہ شروع کر دیں۔

میاں صاحب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ دھیمے مزاج کے ہیں اور گفتگو میں ان کا لہجہ شائستہ ہے۔ وہ جب لندن میں بستر مرگ پر پڑی اپنی بیگم کو دیکھنے جا رہے تھے تو کچھ لوگوں نے ان سے بہت بد تمیزی کی اور ان پر فرنیچر وغیرہ بھی پھینکا۔ جہاز میں بھی ایک عورت نے ان سے بدتمیزی کی۔ انہوں نے نا تو ان لوگوں کو دھکے دیے اور نا مکے مارے جو کہ کسی اور لیڈر کا وتیرہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب لوگ اشتعال انگیز تقاریر سن سن کر طیش میں آجاتے ہیں۔ امید ہے کہ اب پی ٹی آئی کو اقتدار ملنے کے بعد ان مشتعل تقریروں میں کمی آئے گی۔ اور اس طرح کے واقعات دیکھنے کو کم ملیں گے۔

میاں نواز شریف کی ایک اور بات جس کا میں بہت زیادہ احترام کرتی ہوں وہ یہ ہے کہ ایک بہت اچھے مسلمان ہونے کے باوجود وہ الیکشن میں مذہب کو استعمال نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ سائنس اور بیالوجی وغیرہ کو مشرف با اسلام کرنے کی بات نہیں کرتے۔ سائنس اور مذہب کو مکس کرنے سے دونوں کے بارے میں کنفیوژن بڑھتی ہے۔ نیم ملا اقتدار میں آکر سائنس اور بیالوجی میں دخل اندازی شروع کر دیں تو سائنس اور مذہب کے بارے میں ہماری قوم مزید کنفیوژن کا شکار ہو سکتی ہے۔

یہ بات نہیں کہ میاں صاحب نے غلطیاں نہیں کیں۔ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کا ادارک بھی رکھتے ہیں۔ ماضی میں فوجی ڈکٹیٹرشپ کو سپو رٹ کرنے اور اپنے سیاسی مخالفوں کے خلاف اقدامات کرنے کی غلطیوں کا وہ اعتراف کرتے ہیں۔ کچھ غلطیاں انہوں نے بار بار کی ہیں۔ اس بار ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ پشتون اور بلوچیوں کے حقوق کے لیے کھل کر نہیں بولے۔ انہوں نے سندھ کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ انہوں نے مسنگ پرسنز پر بھی بات نہیں کی۔ انہوں نے اوکاڑہ کے فارمرز کے ساتھ کیے اپنے الیکشن کے وعدے کو بھی پورا نہیں کیا۔ شاید وہ اپنی پارٹی کے ان لوگوں کی وجہ سے چپ تھے جو محاذ آرائی کے قا ئل نہیں ہیں۔ لیکن یہ محاذ آرائی جلد یا بدیر کرنا پڑی ہے۔ اگر عوام کی مکمل سپورٹ کے ساتھ ہوتی تو شاید نتیجہ مختلف ہوتا۔

اس بارمیاں نواز شریف کو پورا احساس تھا کہ اس الیکشن میں بہت بڑے پیمانے پر جوڑ توڑ ہو رہا تھا اور اس کا نتیجہ شاید ان کے حق میں نہ ہو۔ انہیں معلوم تھا کہ ان پر جیل میں پریشر ڈالا جائے گا مگر اس کے باوجود وہ قوم کو سپورٹ کرنے کے لئے وطن واپس آ کر جیل میں گئے ہیں۔ ہماری اکثریت کو اس بات کا احساس ہے کہ 20 کروڑ لوگوں میں سے صرف نواز شریف اور مریم نواز ہی کرپٹ نہیں ہیں اور یہ کچھ اور ہی معاملہ ہے۔ میاں صاحب مجرم نہیں ہیں۔ وہ سیاسی قیدی ہیں۔ میرے مطابق وہ قوم کے ضمیر کے قیدی ہیں۔

نواز شریف شوگر اور دل کے مریض ہیں۔ شوگر کے مریض کے گردے بہت کمزور ہوتے ہیں۔ انہیں بغیر ائر کنڈیشنڈ کمرے میں رکھنے سے ان کے جسم میں پانی کی کمی ہو گئی تھی اور وہ بیمار ہو گئے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ عام قیدیوں والا سلوک ہونا چائیَے انہیں شاید یہ علم نہیں کہ ہر قیدی کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کا فرض ہے۔ ان کا جسم اس گرمی کے لئے ابھی
Acclimatize
یعنی عادی نہیں ہوا تھا۔ انہیں جان بوجھ کر گرمی کی مار دے کر بیمار کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر غزالہ قاضی

Dr. Ghazala Kazi practices Occupational Medicine (work related injuries and illnesses) in USA. She also has a master’s degree in Epidemiology and Preventive Medicine.

dr-ghazala-kazi has 35 posts and counting.See all posts by dr-ghazala-kazi