بارھواں خواب نامہ۔۔۔۔۔ دوستی کو اپنے ہی تاریک پہلووں سے بھی بچانا ہو تا ہے
19 مئی 2018
درویش رابعہ کی خدمت میں نیک خواہشات کا تحفہ پیش کرتا ہے
درویش رابعہ کی ہمت اور صبر کی داد دیتا ہے کہ وہ پندرہ سولہ گھنٹے کے روزے رکھتی ہے۔ رابعہ کا خط پڑھتے ہوئے درویش چشمِ تصور سے دیکھ رہا تھا کہ رابعہ کے گھر کے پاس درخت ہیں‘نہر ہے‘ راہداریاں ہیں اور پگڈنڈیاں ہیں جہاں لوگ سیر کے لیے جاتے ہیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ سڑکوں کے اوپر درختوں کا آپس میں سرگوشیاں کرنا کتنا سندر منظر ہے۔
درویش کینیڈا کے شہر ٹورانٹو سے پچاس کلو میٹر دور ایک چھوٹے سے شہر میں رہتا ہے جس کا نام وھٹبی WHITBY ہے۔ یہ شہر ایک جھیل LAKE ONTARIOکے کنارے واقع ہے۔درویش کو وہ جھیل کچھ زیادہ پسند نہیں کیونکہ وہ اتنی بڑی اور پھیلی ہوئی ہے کہ اس پر سمندر کا گماں ہوتا ہے۔ درویش کو لیک سکوگوگ LAKE SCUGOGزیادہ پسند ہے جو وھٹبی سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر شہر پورٹ پیری PORT PERRYمیں بہتی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں درویش نے اس جھیل کے کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر گرمیوں کی ان گنت سہ پہریں اور شامیں گزاری ہیں‘کتابیں پڑھی ہیں اور غزلیں اور نظمیں تخلیق کی ہیں۔ درویش سے جب کوئی دوست ملنے آتا ہے یا آتی ہے تو وہ اسے لیک سکوگوگ سے ملوانے لے جاتا ہے اور اس کی خدمت میں اس کی پسندیدہ آئس کریم پیش کرتا ہے۔ اگر کبھی رابعہ اس سے ملنے آئی تو وہ بھی اپنی پسندیدہ آئس کریم کھا سکے گی۔ درویش کو تو مینگو اور سٹروبیری کی آئس کریمز بہت پسند ہیں۔ درویش کو وہ جھیل اس لیے زیادہ پسند ہے کیونکہ اس کے ایک کنارے سے دوسرا کنارہ اور جھیل میں تیرتی کشتیاں نظر آتی ہیں۔ اپنی پسندیدہ جھیل کی باتیں کرتے ہوئے اسے اپنی ایک پرانی نظم یاد آ رہی ہے جو وہ رابعہ کو سنانا چاہتا ہے
کشتیاں
سمندر کے کنارے
ان گنت رنگوں کی سندر کشتیاں
اس سوچ میں ڈوبی ہوئی رہتی ہیں کب
ان کا مقدر جاگ جائے گا
وہ کب اتریں گی گہرے پانیوں میں
اور پہنچیں گی جزیروں تک
جزیرے
جن پہ خوابوں کی حسیں شہزادیاں صدیوں سے بستی ہیں
اس جھیل کے کنارے ایک پارک ہے اور اس میں جوزف پامر JOSEPH PALMER کا مجسمہ ہے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کائروپریکٹر CHIROPRACTERکے علاج کا بانی جوزف پامر تھا جو پورٹ پیری کا باشندہ تھا۔ جوزف پامر کے مجسمے پر اس کا مشہور قول بھی درج ہے جو کچھ یوں ہے
I NEVER CONSIDERED IT BENEATH MY DIGNITY TO DO ANYTHING TO RELIEVE HUMAN SUFFERING
درویش جب کسی کائروپریکٹر سے ملتا ہے جو مریضوں کے پٹھوں اور جوڑوں کا علاج کرتا ہے تو اسے پاکستان کے پہلوان یاد آ جاتے ہیں جو اکھاڑے میں پہلوانی کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے جوڑوں کا علاج بھی کرتے ہیں۔
رابعہ نے درویش سے اس کی رومانوی محبت کے تجربے اور فلسفے کے بارے میں پوچھا ہے۔ درویش اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہے کہ اس نے زندگی میں ایک بار نہیں کئی بار محبت کی ہے۔ درویش کا عورت سے رشتہ بنیادی طور پر دوستی کا رہا ہے۔ درویش نے عورتوں کی دوستی اور محبت سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان رشتوں نے اسے ایک بہتر دوست‘ تھیریپسٹ‘ ادیب اور انسان بنایا ہے۔۔
درویش رابعہ کو اپنی محبت کے بارے میں بتانا چاہتا ہے تا کہ اپنے موقف کی وضاحت کر سکے۔ درویش کی بے ٹی ڈیوس BETTE DAVISسے ملاقات میموریل یونیورسٹی کے طالب علمی کے زمانے میں ہوئی تھی
بے ٹی نرس تھی اور وہ ڈاکٹر۔ دونوں کو سائیکو تھیریپسٹ بننے کا شوق تھا۔ کام کرنے کے دوران وہ دوست بن گئے۔ جب درویش شہر چھوڑ کر چلا بھی گیا تب بھی ان کا خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔
بے ٹی کو ماں بننے کا بہت شوق تھا۔ تین دفعہ اسقاط کے بعد وہ رومینیا گئی اور اس نے دو ہفتے کی ایک بچی adopt کر لی جس کا نام ایڈرئینا ADRIANAتھا۔ درویش اور بے ٹی کی دوستی جب محبت میں بدلی تو
بے ٹی اپنی بیٹی لو لے کر وھٹبی آ گئی۔ پہلے بے ٹی اور درویش کلینک میں اکٹھے کام کرتے تھے پھر وہ اکٹھے رہنے بھی لگے۔
تیرہ سال ساتھ رہنے کے بعد ان کے راستے جدا ہو گئے۔ جدا ہوتے وقت درویش نے ایڈرئینا سے پوچھا ’بٹیا اب آپ کی امی اور میں اکٹھے نہیں رہیں گے۔ آپ کس کے ساتھ رہنا چاہیں گی؟‘ ایڈرینا نے کہا ’آپ کے ساتھ‘۔ درویش نے بے ٹی کی طرف دیکھا تو اسے کوئی اعتراض نہ تھا۔
اب درویش اپنی کٹیا میں رہتا ہے جس میں تین بیڈروم ہیں ایک ایڈرئینا کا ایک درویش کا اور ایک مہمانوں کا۔
درویش کو اس بات کی خوشی ہے کہ بے ٹی سے جدائی کے باوجود ان کے درمیان کبھی کوئی غصے اور تلخی کی بات نہیں ہوئی۔ وہ پہلے بھی دوست تھے اور اب بھی دوست ہیں۔ جب درویش اور بے ٹی ڈیوس جدا ہو رہے تھے تو انہوں نے ایک دوسرے پوچھا کہ انہوں نے ایک دوسرے سے کیا سیکھا۔
درویش نے کہا کہ اس نے بے ٹی ڈیوس سے یہ سیکھا ہے کہ
Friendship is the cake and romance is the icing
بے ٹی ڈیوس نے کہا کہ درویش نے اسے ایک دفعہ بتایا تھا کہ ہماری دوستی اتنی اہم ہے کہ ہمیں اسے اوروں سے نہیں خود سے بھی بچا کر رکھنا ہے۔ ہر انسان کی شخصیت کا ایک مثبت پہلو ہوتا ہے اور ایک تاریک۔ ہمیں اپنی دوستی کو اپنے تاریک پہلو سے بچانا ہے تا کہ وہ وہ ہماری دوستی کو مجروح نہ کر دے۔ اسی لیے ہم جدائی کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں احترام کرتے ہیں اور اب ہم عمر بھر کے دوست رہیں گے۔ بے ٹی دیوس نے کہا کہ بہت کم جوڑے جدائی کے بعد بھی دوستی نبھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
درویش بھی رابعہ کی طرح خلیل جبران کو بہت پسند کرتا ہے اور اسے خلیل جبران کا محبت کے بارے میں یہ جملہ بہت پسند ہے
DO NOT EVER THINK YOU CAN GUIDE LOVE. IF LOVE FINDS YOU WORTHY SHE WILL GUIDE YOU.
درویش جب محبت کے بارے میں سوچ رہا تھا تو اسے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ درویش جب بچہ تھا تو وہ ایک ایسی جگہ رہتا تھا جہاں لوگوں کے گھروں میں پانی نہیں تھا۔ وہ دریا سے پانی لاتے تھے۔ ایک دفعہ درویش نے ہمسایوں کو کنواں کھودتے دیکھا۔ جب لوگوں نے پانچ فٹ زمین کھود لی تو پانی نظر آیا۔ درویش بہت خوش ہوا لیکن اس کے والد نے کہا کہ وہ پانی صاف نہیں ہے اس میں آلائشین ہیں۔ اس پانی سے کپڑے تودھوئے جا سکتے ہیں لیکن وہ پانی پیا نہیں جا سکتا۔ لوگوں نے زمین اور کھودی تو بیس فٹ کی گہرائی پر پھر پانی نظر آیا۔ درویش کے والد نے کہا کہ وہ پانی صاف تھا اور اسے پیا جا سکتا تھا۔
درویش سمجھتا ہے کہ انسانی دل بھی دو طرح کی محبت کر سکتا ہے۔سطحی محبت جس میں غصہ نفرت تلخی اور حسد کی آ لائشیں ہوتی ہیں اور گہری محبت جس میں دوستی‘ امن‘ سکون‘ خلوص اور اپنائیت ہوتی ہے۔انسانوں کی اکثریت سطحی محبت کر سکتی ہے لیکن گہری محبت صرف ایک اقلیت ہی کر سکتی ہے۔ گہری محبت کرنے والی اقلیت خوش قسمت ہوتی ہے۔
رابعہ کا خط پڑھ کر درویش کو اندازہ ہو اکہ وہ اسے ایک تکلیف دہ کہانی سنانا چاہتی ہے لیکن مناسب وقت اور یکسوئی کا انتظار کر رہی ہے۔ درویش بھی صابر انسان ہے وہ انتظار کر سکتا ہے۔
ہرمن ہیس کے ناول سدھارتھا میں جب شہزادی سدھارتھا سے پوچھتی ہے کہ جنگلوں کی برسوں کی ریاضت اور تپسیا سے تم نے کیا سیکھا ہے تو وہ کہتا ہے ’تین چیزیں‘
I can think. I can fast. I can wait.
رابعہ کا تخلیقی ہمسفر۔
۔۔درویش


