رنگوں کی کمپلین ہے صاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بٹورا گلیشیئر کے دھانے پر دوستوں کے منتظر وقار ملک، رات کے گھپ اندھیرے میں بتاتے رہے کہ بٹورا جھیل کیسے دکھتی ہے؟ غالباً ہاتھ سے اشارے بھی کیے ہوں گے جو میں نہیں دیکھ سکا۔ اب ایسا اندھیر بھی نہیں مچا تھا کہ موبائل کی روشنی میں ایک دوسرے کو دیکھ نہ پاتے مگر مشکل یہ تھی کہ حاشر ابن ارشاد شفاف آسمان میں ستاروں کی کہکشاؤں کو کیمرے کے پردے پر اتارنا چاہتے تھے، سو اس اندھیرے میں وقار ملک کی کوشش تھی کہ میں بٹورا جھیل کے ہرے پانیوں کا تصور کروں۔ ایسا شفاف نیلا پانی جس میں ہرا غالب ہو۔ معلوم نہیں اندھیرے میں ہرا پانی کس رنگ کا ہوتا ہو گا؟ آسمان پر اندھیرا ہو تو شاید سفید، نیلا اور ہرا پانی بھی کالا نظر آتا ہو گا۔

وقار ملک پسو کیوں گیا؟ حاشر ابن ارشاد نے پردے پر کتنے ستارے رکھے؟ برف کا معبد نانگا پربت تین مختلف سمتوں سے کتنا اچھوتا، کس قدر حسین اور کیوں ہیبت ناک ہے؟ دیوسائی، جہاں ہزاروں رنگوں کے کروڑوں پھول تھے، کی نا ختم ہونے والی وسعت میں خیمے کی رات کیوں پراسرار تھی؟ پھنڈر کو اونچائی سے دیکھ کر کیوں لگتا تھا کہ کسی مصور نے جنت کینوس پر اتار دی ہو؟ ڈومیل کے جنگلوں میں آدی واسیوں کے لکڑی سے بنے گھروں پر کیوں گمان ہوتا تھا کہ بدھا کی روایت کا پالن کرنے والا لامہ اگر کہیں جنم لے سکتا ہے تو وہ یہی مقدس گھر ہیں جو چار دیواری سے بے نیاز تھے۔ یہ سارے مستقل موضوعات ہیں۔ ہر باب ایک کہانی کا عنوان ہے۔ یہ کہانیاں پھر سہی۔

گلگت بلتستان جانے کی جہاں دیگر وجوہات ہیں وہاں سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ سیاست سے من اوبھ گیا تھا۔ یونانی ٹرائے کے باسیوں کو تو علم نہیں تھا کہ لکڑی کا جو گھوڑا آرہا ہے اس کے اندر اسلحے سے لیس سپاہی موجود ہیں۔ ادھر مشکل یہ ہے کہ جانتے بوجھتے ٹروجن ہارس کو تقدس کی مالائیں پہنائی جا رہی ہیں۔

واپس پلٹے تو وہی دنیا منتظر تھی۔ عمران خان کی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے ساتھ ہاتھ ملاتے تصاویر دیکھیں۔ ایم کیو ایم اورق لیگ کے ساتھ شراکت اقتدار کی خبریں دیکھیں۔ خان صاحب کو علم ہوا کہ عمل کے میدان اور سیاسی جلسے میں فرق ہوتا ہے، یہ اچھا ہے۔ اس سے اچھی بات یہ ہے کہ ہمیں بھی علم ہوا کہ سارے سیاست دان چور نہیں ہوتے یا کم از کم اتنے بھی چور نہیں ہوتے جن سے کوئی مفاہمت ہی نہ کی جا سکے۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ پاک فوج نے وطن عزیز کو سرسبز و شاداب بنانے کے لئے دو ملیین درخت لگائے۔ ایک معذور ووٹر خاتون کو نوکری کی پیشکش کی گئی۔ اجمل جامی کے بقول فیاض ماہی کی مدد کا بیڑا بھی اٹھا لیا گیا ہے۔ اچھی بات ہے۔ اچھی بات ہو تو تعریف کرنی چاہیے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کون کر رہا ہے۔ نوکری ملنی چاہیے۔ درخت لگنے چاہئیں۔ سیاست میں شفافیت آنی چاہیے۔ ڈیمز بننے چاہئیں۔ کس کا کام کون کر رہا ہے یہ بے معنی سوال ہیں۔

اس بیچ جشن آزادی کا دن پہنچ گیا۔ رات گئے وٹس ایپ پر کوئٹہ سے ایک دوست امر سنگھ نے جشن آزادی کی مبارکباد کے ساتھ اپنی تصویر بھیجی۔ پاکستانی جھنڈے والی شرٹ اور سر پر ہرے اور سفید رنگ والی پٹیالہ شاہی پگ۔ کافی دیر تصویر کو دیکھتا رہا اور پھر جانے کیوں ذہن پر فلم ”رمن راگوو‘‘ میں نواز الدین صدیقی کے ڈائیلاگز چلنے لگے۔

”صاب رات میں کیا ہے نا، یہ گاڑی والا لوگ سراب پی کے گاڑی چلاتا ہے نا، تو سڑک پہ چلنا تھوڑا ڈینجر ہوتا ہے اور اپن کی عادت ہے سڑک کے کنارے چبوترے پر چلنے کی، یا بیچ میں۔ جہاں وہ شطرنج کا کھیل بچھا ہوتا ہے نا۔ ایسا۔ وہ ایسا۔ ایسا کالا سفید باری باری سا ہوتا ہے۔ اپن کیا ہے نا صاب! صرف کالے پہ چلتا ہے۔ سفید پہ پیر رکھا مطلب آوٹ۔ اور گنتی کرتا ہے۔ اس میں پتہ ہی نہیں چلتا ٹائم کا۔ تو ایسے اپن کالے سے کالے پہ پیر رکھ کر چلنے لگا۔ ادھر وہ بیچ میں سڑک آ گیا اور اپنا کالا ختم۔ اور اپنے کو تو آوٹ ہونے کا ہی نہیں۔ تو بھگوان نے بچپن سے میرے کو ایسا جادو دیا ہے، میں جور لگا کے ایسا سوچتا ہے نا۔ تو ویسا ہی دیکھنے لگتا ہے۔ تو سڑک پہ کالا سفید بچھتا چلا گیا اور اپن پھر کالے پہ چلنے لگا۔ وہ پتہ نہیں سامنے۔ وہ کدھر سے آ گیا؟ میں اس کو بولا کہ ہٹ جا یار۔ وہ ہٹے ہی نا۔ اوپر سے پیئے لا تھا۔ میں اس کو بولا، دیکھ! وہ سمجھ ہی نہیں رہا تھا۔ میں پہلے اس کو پیار سے سمجھایا۔ پھر میرے اندر کا جانور جاگ گیا صاب۔ وہ میرے کو ایسا دیکھ ریلا تھا جیسے کو پتہ ہی نہیں کہ اپن کون! وہ میرے کالے پہ کھڑا تھا۔ میونسپلٹی کا لگایا ہوا کالا ہوتا تو الگ بات تھی۔ یہ کالا تو اپن نے بچھایا تھا، ذہن سے، من سے۔ میں بولا بھائی۔ دیکھ! میں سندھی تلوائی ہے۔ اس کو سمجھا نہیں۔ میں اس کو دھکا دیا۔ وہ گر گیا، گرا بھی تو ادھر، میرے کالے پہ۔ میرے رستے پر، میں تو ادھر کھڑا نہیں رہ سکتا نا۔ اوپر سے پیئے لا تھا۔ گر کے ادھر ہی سو گیا۔ ابھی میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میرا دماغ سٹک گیا۔ ادھر ہی پاس میں پتھر پڑا تھا، پتھر کو اٹھا کے اس کے سر پہ دے مارا۔ ابھی جب وہ مر کے بھی نہیں ہٹا تو، میں سوچا کیا کرے؟ تو میں ادھر آ گیا کمپلین کرنے‘‘۔

لوگ بھاگ کہہ رہے ہیں کہ آوازوں پر پابندی کا موسم ہے۔ معلوم نہیں یہ کیا قصہ ہے صاب۔ میں تو بس اتنا کہنے آیا تھا کہ امر سنگھ نے سفید میں جنم لیا تھا مگر ہرے کا سہارا درکار ہے۔ میں تو پیدا ہی ہرے میں ہوا تھا مگر گواہی لازم ہے۔ بٹورا کا ہرا پانی رات میں کالا پڑ جاتا ہے۔ آپ مائی باپ ہیں صاب۔ میں کالے پانی میں جھلملاتے ستاروں کے دیکھنے کا امکان پوچھنے نہیں آیا۔ میں تو بس رنگوں کی کمپلین کرنے آیا ہوں۔ آوازوں کی طرح رنگ بھی بولنے لگتے ہیں۔ سب کو یک رنگا کر دیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 181 posts and counting.See all posts by zafarullah