آپ بتائیں کہ نوازشریف نے کرپشن کی ہے یا نہیں کی؟ کرپشن کی ہے تو ثبوت پیش کریں: جسٹس اطہرمن اللہ


اسلام آباد ہائیکورٹ نے لندن فلیٹس ریفرنس کے فیصلے کے خلاف شریف خاندان کی درخواست پر نیب کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے سزا کی معطلی کی درخواستیں سماعت کے لئے منظور کریں۔  پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل نئے ڈویژن بینچ نے لندن فلیٹس کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

سماعت شروع ہوئی تو نیب پراسیکیوٹرسردارمظفر نے شریف خاندان کی سزا معطلی کی درخواستوں کی مخالفت کی۔ جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے نیب کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے سزا معطلی کی درخواستیں سننے کی ہدایت کی۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سزا معطلی کی درخواست پر پہلے سماعت کریں گے۔ نیب پراسیکیوٹرسردار مظفرعباسی نے اعتراض کیا اور کہا کہ اپیلیں پہلے سنی جائیں جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپیل پہلے نہیں سن سکتے بلکہ سزا معطلی کی درخواست پہلے سنیں گے، اپیل اپنے نمبر پر سنی جائے گی۔

سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نوازشریف نے 3 بار اس ملک کے وزیراعظم کا حلف لیا یہ ثبوت کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔ اب آپ ثبوت کے ساتھ کہیں کہ نوازشریف نے کرپشن کی۔ جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ آپ ہمیں تیاری کے لئے کچھ وقت دے دیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ تیاری کے ساتھ نہیں آئے؟ 12 رینجرز اہلکار تو آپ کے ساتھ آئے ہیں اور آپ کا جونیئر اتنی فائیلوں کے ساتھ آیا ہے کچھ  تو تیاری ہو گی آپ کی؟ جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ آپ ہمیں نئی تاریخ دے دیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رات 12 بجے تک یہیں ہیں۔ 12 بجے کے بعد تاریخ بدل جائے گی۔ نیب وکیل نے کہا کہ مجھے جانے دیں۔ میرا ایک اور بھی کیس ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وکیل صاحب سب عدالتوں کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے آپ نے کہا آپ میرے سوال کا جواب دیں گے کہ کرپشن نوازشریف نے کی ہے یا نہیں۔  نیب وکیل نے کہا کہ احتساب عدالت نے نوازشریف کو سزا دی ہے جس پر اطہر من اللہ نے کہا کہ احتساب عدالت نے فیصلے میں کہاں لکھا ہے کہ نوازشریف نے کرپشن کی؟ نیب وکیل نے کہا کہ کہیں نہیں لکھا لیکن سزا ہوئی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نوازشریف کو سزا کس جرم پر ہوئی ؟ نیب وکیل نے کہا کہ کرپشن ہوئی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر نوازشریف نے کرپشن کی تو ثبوت کہاں ہیں؟ نیب وکیل نے کہ وہ احتساب عدالت سے سزا یافتہ ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وکیل صاحب کس جرم میں سزا یافتہ ہے؟ نیب وکیل نے پھر کہا کہ کرپشن پر سزا ہوئی جس پر اطہر من اللہ نے کہا کہ اچھا پھر کرپشن کے ثبوت دیں۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے کہا کہ پانی پی سکتا ہوں جس پر اطہر من اللہ نے کہا کہ پانی پی سکتے ہیں لیکن ہماری آنکھوں پر پانی نہیں پھیر سکتے۔ اس موقع پر نیب وکیل نے کہا کہ آپ نوازشریف صاحب کے وکیل سے بھی سوال کریں جس پر اطہر من اللہ نے کہاکہ کیا سوال کروں آپ ہی بتا دیں۔ وہ تو یہاں آئے ہیں کہ ان کے موکل نے کرپشن نہیں کی۔ جس پر نیب وکیل نے کہا کہ آپ مجھے دو سے چار دن کا وقت دیں۔ جس پر اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کسی بے قصور کو جیل میں رکھنا کتنا بڑا جرم ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے نیب وکیل سے کہاکہ عدالت برخاست نہیں ہو گی۔ اگر سپریم کورٹ رات 12 بجے تک لگ سکتی ہے تو میری عدالت بھی لگ سکتی ہے۔ آپ اطمینان رکھیں اور ثابت کریں کرپشن کہاں ہوئی۔ سماعت کے دور ان جناب بیرسٹر حامد آمین صاحب نے نیب کے وکیل کو پانی لا کر دیا۔

جسٹس اطہر من اللہ  نے سوال کیا کہ بغیر ثبوت کے کیسے کسی شخص کو حراست میں رکھا جا سکتا ہے؟ کیسے کسی کو سزا ہو سکتی ہے؟ ہمارے ملک میں ایک ہوا چلی ہوئی ہے غداری کی؟ مولانا صاحب مشرف کے ساتھ تھے تو غدار نہیں تھے۔ آج غدار ہو گئے۔ ہو سکتا ہے کہ عدالت ختم ہوتے ہی مجھے بھی غدار بنا دیا جائے۔ اطہر من اللہ نے نیب وکیل سے کہا کہ آپ کو ثابت کرنا ہے کہ کرپشن ہوئی۔ اس کے بعد کہاں کہاں ہوئی اور کیسے ہوئی؟ یہ بعد میں پوچھیں گے۔  آپ عدالت میں ثبوت دیں کہ کرپشن ہوئی ہے۔ اگر نہیں ہوئی تو جے آئی ٹی کی رپوٹ غلط ہے اور سزا غیر قانونی ہے۔ اس پر تو ریاست کو دھوکا دینے کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔

نیب کے وکیل نے جسٹس اطہر امن اللہ پر اعتراض کر دیا اور کہا آپ وکلاء تحریک میں نوازشریف کے ساتھ لانگ مارچ میں تھے۔ اس لیے آپ یہ کیس نہیں سن سکتے۔ جس پر جسٹس اطہر امن اللہ نے کہا تو پھر احتساب عدالت کا جج بھی یہ کیس نہیں سن سکتا، وہ بھی مارچ میں شامل تھا۔ آپ بہانے نہ بنائیں۔ کرپشن کا ثبوت دیں۔ ہو سکتا ہے کل جسٹس شوکت صدیقی کی طرح میرے خلاف بھی غداری کی مہم شروع ہو جائے۔ اس ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کو اس وقت تک جانے نہیں دوں گا جب تک آپ ثابت نہ کر دیں کہ نوازشریف نے کرپشن کی۔ یہ میری عدالت ہے اور میں نے اللہ کو جواب دینا ہے۔ میرا اور میرے بچوں کا اللہ مالک ہے۔ جو رات قبر میں ہے، باہر نہیں آئے گی۔ آپ ثابت کریں کہ نوازشریف نے یہ یہ اور یہاں یہاں کرپشن کی۔ نیب وکیل نے کہا کہ یہ فیصلہ میں لکھا ہے کہ مریم نواز  نے اثاثے چھپانے میں نوازشریف کی مدد کی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا مدد کرنے سے کوئی شریک مجرم ہوتا ہے۔ جس پر نیب وکیل نے کہا کہ جی ہوتا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اچھا تو بیرسٹر صاحب نے آپ کو پانی پلانے میں مدد کی تو کیا یہ آپ کے ساتھ کیس میں شامل ہو گئے؟ نیب وکیل نے کہا کہ مریم نواز نوازشریف کی بیٹی ہے اور اثاثے چھپانے میں مدد کرتی رہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بیٹی تو میری بھی ہے اور وہ اپنے بھائی سے میرا قلم چھپا کر رکھتی ہے تو کیا اس معاملہ پر میں بھی اس جرم کا مجرم ہوں۔ نیب وکیل نے کہاکہ جی یہ بات الگ ہے۔ جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیسے الگ ہے؟ کیا آپ کی انگریزی الگ ہے اور ہماری الگ ہے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی۔

Facebook Comments HS