بلاول قائد اعظم سے کیوں ملنا چاہتا تھا؟
13 سالہ بلاول عرف راجہ کوری ریاست خیر پور کے شہر گمبٹ میں ٹائروں کی دکان پر کام کرتا تھا اور ٹائروں کے پکنچر لگانا ہی اس کی زندگی کا معمول تھا۔ بلال عرف راجہ کوری کو پڑھنے کا تو بہت شوق تھا مگر معاشرے کے پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے غربت، بھوک افلاس اور استحصال اس کا مقدر بن گیا تھا۔ غربت کی وجہ سے کام کر کے ہی وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے روزی روٹی کماتا تھا۔ بلاول کوری نے یہ سن رکھا تھا کہ 14 اگست کو پاکستان انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا تھا اور اب وہ ایک آزاد ملک کا حصہ ہے جہاں ہر بچے اور بوڑھے کو شخصی آزادی سے لے کر مذہبی آزادی میسر ہے اور یہاں سب برابر ہیں۔ مگر اپنی زندگی کو دیکھ کر بلاول کو قائد اعظم کا آزاد خود مختار پاکستان تو کہیں بھی نظر نہیں آتا تھا جہاں وہ اپنی زندگی آزادی کے ساتھ گزار سکے۔
بیس روپے یومیہ اجرت کے ساتھ ڈھیروں گالیاں اور مار پیٹ اس کا روزانہ کا مقدر تھا۔ اس لیے کبھی کبھار بلاول گمبٹ کے لوگوں سے پوچھتا تھا کہ کیا میں پاکستان میں رہتا ہوں تو جواب ہاں میں ملتا تھا۔ پھر بلاول سوچتا تھا کہ قائد اعظم والا پاکستان شاید صرف 14 اگست کو ہی ہوتا ہوگا۔ اس لیے اس نے یہ تہیہ کر لیا کہ وہ 14 اگست کو قائد اعظم سے ملاقات کر کہ یہ ضرور پوچھے گا کہ انہوں نے یہ آزاد ملک کس کے لیے بنایا تھا اور آزادی ملنے کے باوجود میں ابھی تک کیوں غلاموں کی طرح زندگی گذار رہا ہوں؟ اب رات دن صرف بلاول 14 اگسٹ کا انتظار کرنے لگا کہ وہ آزادی کے دن پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لے کر دوسروں بچوں کی طرح پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کرے گا۔ مگر 14 اگست 2018 سے دو دن پہلے ہی بلاول عرف راجہ کوری ٹائروں کے دکان میں پھانسی کا پھندا لگا مردہ حالت میں پایا گیا اور خبر ملی ہے کہ بلاول کوری نے خودکشی کر لی ہے۔
14 اگست سے دو دن پہلے ہی بلاول بانی پاکستان کے پاس پہنچ گیا۔ بلاول کے والدین کا کہنا ہے کہ بلاول کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ بلاول کے ساتھ جنسی زیادتی اور بیہمانہ قتل کے بعد گمبٹ، کھوڑا اور ٹنڈو مستی پولیس کی حدود کی تکرار میں بلاول بیچارے کی لاش لٹکتی رہی اور تینوں تھانوں کی پولیس یہ کہہ کر کیس لینے سے منع کرتی رہی کہ یہ کیس ان کہ حدود میں نہیں آتا۔ والدین اور اہل علاقہ کے شدید احتجاج پر سندھ پولیس کے بالا افسر نے واقعہ کا نوٹس تو لے لیا ہے مگر تفتیش ابھی باقی ہے۔ بلاول کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ پولیس ملزمان کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور ان کو انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔
اس دنیا میں تو شاید بلاول قائد اعظم سے سوال نہیں کر سکا تھا چلو خیر اس دنیا میں جا کے وہ ضرور پوچھ لے گا کہ انہوں نے آزاد پاکستان کس کے لیے بنایا تھا۔ انگریزوں اور ہندوؤں سے تو آزادی دلادی تھی مگر اپنوں کے ظلم سے کون آزاد کرائے گا؟ مگر افسوس کہ قائد اعظم بلاول کو کیا جواب دیں گے کہ ہم نے خود ان کو خراب ایمبیولنس اسے لیے دی تھی کہ وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ ہم نے ان کی بہن فاطمہ جناح کو ساز باز کر کے انتخابات میں اس لیے ہرایا تھا کہ کہیں وہ اپنے بھائی کے نقش قدم پر نہ چل پڑیں۔ اور لیاقت علی خان کا قتل بھی ابھی معمہ ہی تھا کہ ہم نے قائد اعظم کے پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیے۔ ابھی وہ ناسور بھرا ہی نہ تھا کہ ہم نے عوام کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر انصاف کا قتل کر دیا۔
کئی سالوں تک اندرون اور بیرون ملک سے وزراء اعظموں کی امپورٹ اور ایکسپورٹ جاری رہی۔ جمہوریت، کرپشن اور قومی سلامتی کے نام پر ملک میں نئے نئے تجربے ہوتے رہے۔ اس سال اس آزادی کے مہینے جسں میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔ کیا وزیر اعظم عمران خان مدینے جیسی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو پائیں گے جس کا انہوں نے اعلان کیا تھا جہاں بلاول کوری جیسے لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولتیں اور انصاف میسر کر کے انہیں زندگی کی بنیادی خوشیوں کی ضمانت دے سکیں یا پھر وقت گزرنے کے ساتھ دوسرے سیاسدانوں کی طرح پھر کسی آزادی کے مہینے میں خود بھی حالات کی دہائی دیتے نظر آئیں گے۔


