اگست 1947 اور ماموں رفیق کی کہانی
بچپن میں یاد نہیں کہ کب ماموں رفیق سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ میری والدہ اور والد دونوں کے رشتے کے بھائی تھے۔ شاید وہ ہمارے گھر آئے تھے یا ہم اُن کے گھر گئے تھے۔ اُن کے گھر جانے کی ملاقات کے علاوہ بھی وجہ ہوتی، سو اماں ابا عید تہوار سے قبل اُن کی طرف جاتے تھے۔
لاہور میں انجینئرنگ یونیورسٹی سے جی ٹی روڈ پر شہر کی طرف چلیں تو سڑک ریلوے لائن کے ساتھ چلتی جاتی ہے۔ گھڑی شاہو کا پل اتر کر بائیں مڑیں تو اسی جی ٹی رو ڈ پر چڑھیں گے۔ شروع میں بائیں طرف ریلوے ملازموں کی کالونیاں ہیں اور دائیں طرف پرانی آبادیاں ہیں؛ سوامی نگر، تیزاب احاطہ، سلطان پورہ، آگے چمڑہ منڈی اور پھر جی ٹی روڈ ریلوے لائن کے متوازی ہو جاتی ہے۔ ایک موریہ پل اور دو موریہ پل، جو پل نہیں بلکہ ریلوے لائن کے نیچے سے نکلتے راستے ہیں کہ جن سے نکل کر سرکلر روڈ سے ہوکر اکبری منڈی، شاہ عالمی اور اندرون لاہور جاسکتے ہیں۔ سوامی نگر، تیزاب احاطہ کے علاقے عمومی طور پر متوسط، سفید پوشوں کے علاقے تھے۔ ایک بہت بڑی تعداد ریلوے کے ملازمین کی تھی، بکنگ کلرک، گارڈ، کانٹا بدلنے والے، ریلوے کے ورکشاپوں میں کام کرنے والے محنت کش اور ان علاقوں میں نسبتاً مزید غریب محلوں میں رہتے قلی۔
ماموں پڑھے لکھے اتنے نہ تھے۔ ریلوے میں کانٹا بدلنے کی نوکری کرتے تھے، کانٹا مین کہلاتے تھے۔ ایک پٹڑی سے آتی ریل گاڑی کو دوسری لائن پر ڈالنے کے لیے پٹڑیوں کے ساتھ لگے بڑے بڑے لیورز کو زور لگا کر کھینچ کر سائیڈ لائن سے مین لائن پر اور مین لائن سے سائیڈ لائن پر گاڑی ڈالتے تھے۔
رہائش تیزاب احاطہ کے علاقے کی ایک تنگ گلی میں تھی۔ موٹر سائیکل اور سائیکل ہی گلی میں جا سکتی تھی۔ گلی میں داخل ہوں تو دونوں طرف گندے پانی کے نکاس کی نالیاں بہہ رہی تھیں، آگے جائیے تو گلی کے ایک کونے میں ہینڈ پمپ لگا تھا کہ رہائشی پانی لے سکیں۔ ہینڈ پمپ کے ساتھ ہی ایک کمرے کی مسجد تھی۔ مسجد کے سامنے پرانے سے بنے گھر تھے۔ تقسیم کے بعد مہاجر لٹ پٹ کر آئے تو ہندوں کے خالی کیے ان گھروں کو سر چھپانے کے لیے غنیمت جانا۔ تاریک سی سیڑھیاں اوپر چڑھتی تھیں، پہلی منزل پر دائیں کے گھر میں ماموں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ تاریک سے کمرے کہ دھوپ مشکل سے گھر میں داخل ہوتی تھی، برآمدے کی چھت میں ایک چوکور حصہ چھوڑا گیا تھا، جس میں سلاخیں لگی تھیں کہ روشنی اور ہوا گھر میں آسکیں، مگر یہ ناکافی محسوس ہوتی تھیں۔
ایک کانٹا بدلنے والے کی ریلوے میں اتنی تنخواہ نہیں ہوتی، سو ماموں نوکری کے علاوہ گلیوں میں پھیری لگا کر کپڑا بیچتے تھے۔ سائیکل کا پچھلا کیرئیر تبدیل کرکے اس کی سطح بڑھا لی تھی۔ شاہ عالمی کی تھوک مارکیٹ سے کپڑا لاتے اور سائیکل کے پیچھے کپڑے کا ایک گٹھڑ لاد کر گلیوں گلیوں آواز لگاتے پھرتے۔ ماپ کا گز سائیکل کے ڈنڈے پر باندھا ہوتا۔ گلی محلے میں عورتیں ادھار پر کپڑا خریدتیں، کہ پہلی کی پہلی گھر تنخواہ آنے پر ادائیگی ہوتی۔ ماموں کی حساب کی کاپی کئی غریبوں کے حال کی راز دار تھی۔ اُنکے گھر جانا ہوتا تو بلب کی ناکافی روشنی میں تاریک سے کمرے میں گٹھڑ کھلتا اور اماں کپڑے پسند کر رہی ہوتیں اور خریدتیں۔
ماموں نے داڑھی رکھی تھی، مگر داڑھی چہرے کے بائیں گڑھے کو چھپانے میں ناکام تھی، یوں محسوس ہوتا تھا کہ جبڑے کی ہڈی درمیان میں نہیں ہے۔ داڑھی سے اوپر بھی زخم کا ایک نشان نظر آتا تھا، مندمل ہو چکا تھا مگر نشان چھوڑ چکا تھا۔ ایک دفعہ بنیان میں بیٹھے تھے تو دیکھا کہ بایاں کندھے کے درمیان میں گوشت نہ تھا، ایک گہرا گھاؤ تھا، مندمل ہوچکا تھا مگر نشان چھوڑ چکا تھا۔
ایک بچے کا تجسس تھا اور ایک بڑے کی کہانی تھی۔ کہانی جو ایک فرد کی کہانی نہ تھی بلکہ ایک نسل کی کہانی ہے۔ 1947 میں ماموں گیارہ بارہ سال کے ہوں گے اور گورداسپور کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ گورداسپور ابتدائی اعلان کے مطابق پاکستان کا حصہ تھا، اس بنا پر وہاں کے لوگ مطمن تھے۔ عین وقت پر نقشہ تبدیل کر دیا گیا، اور ایک قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔ مسلمان گاؤں اور گھرانوں پر حملے ہوئے، عصمتیں پامال ہوئیں، جوان، بوڑھے، عورتیں، بچے، نومولود سب نشانہ تھے، کوئی جائے اماں نہ تھی۔ ماموں کے گاؤں پر جب سکھوں نے حملہ کیا تو یہ گیارہ سال کا بچہ بھی نشانہِ قاتل تھا۔ ایک برچھی نے کاندھے کا حصہ علیحدہ کیا، دوسرے وار نے منہ مسخ کر ڈالا۔ حملہ آوروں نےبکھری لاشوں میں اس بچے کو بھی اک لاش ہی جانا۔ مگر وہ بچہ ابھی سانس لے رہا تھا، زخمی، خوف زدہ، بے اماں۔
گھر ہوتے گھر نہ رہا تھا، ماں باپ نہ رہے تھے، رشتہ دار نہ رہےتھے، دوست نہ رہے، فقط دشمن تھے، پشتوں سے ساتھ رہتے اب دشمن تھے، جان کے درپے، ایک گیارہ سال کے بچے کی جان کے درپے۔ اپنے دیس میں وہ یک دم اجنبی تھا، اجنبی، بے یارو مددگار، زخمی اور خون آلود۔ ایک رشتہ دار جو پولیس میں تھے، بعد میں گارڈ کے ہمراہ ایک ٹرک لے کر پہنچے، ماموں کی حالت دیکھی تو محسوس کیا کہ وہ نہ بچیں گے۔ ایک لاش کو کدھر اٹھاتے پھریں، سو انہیں وہیں چھوڑ دیا۔ کیا قیامت کی گھڑی ہو گی کہ ایک چچا اپنے زخمی بھتیجے کو مرنے کی لیے چھوڑ دے، کھلے میں، بے گور و کفن، چھوڑدے کہ وہ مجبور ہے کہ اُس نے زندوں کو مرنے والوں پر فوقیت دینی ہے۔ زندگی کے تقاضے بڑے بے رحم ہوتے ہیں۔ یہ اس مملکتِ خداداد کی کہانی ہے، زخم خوردہ و خون آلود۔
ماموں زندگی اور موت کی پرچھائیوں میں ایک سے نکل کر دوسرے میں آتے جاتے رہے۔ ہوش اور گم ہوتے ہوش میں بس زندہ رہنے کی بے ساختہ خواہش ہی اُس بچے کی رہبر تھی۔ گھسٹتے ایک کھیت میں اپنے آپ کو چھپا لیا۔ مٹی اور پودے اپنے زخموں پر لیپ دیے کہ خون روکنے کو یہی پایا تھا۔
گاؤں کے کچھ ہم عمر بھی کھیتوں میں چھپے تھے، ان میں سے کوئی اُن تک پہنچ گیا۔ اپنے لحاظ سے ان کی تیمارداری کی۔ اور مارنے والے سے بچانے والے کی ذات بڑی ہے، سو سانس چلتا رہا۔ دوسرے ہم عمر کچھ کھلاتے پلاتے رہے۔ پانچویں دن فوج کا ٹرک گاؤں پہنچا تو اپنے ان کم عمر ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان پہنچے۔ والٹن کے کیمپ میں رہے، کچھ علاج بھی شروع ہوگیا۔ اور وہی چچا، جو مردہ سمجھ کر چھوڑ آئے تھے، انہوں نے کیمپ میں ڈھونڈ لیا۔ واقعی مارنے والے سے بچانے والے کی ذات بڑی ہے۔
ماموں کی زندگی پاکستان میں محنت سے بھرپور رہی، ریل کے کانٹے بدلتے اور گلیوں میں آواز لگا کر کپڑا بیچتے۔ آج لاہور کے ایک عام سے قبرستان میں دفن ہیں، مگر یقین ہے کہ دیکھتے ہوں گے کہ کب پاکستان کے سفر کی پٹڑی کا کانٹا بدلے گا اور سائیڈ لائن سے مین لائن کا سفر شروع ہوگا۔ ماموں رفیق جیسے بہت سے محنت کش ان پٹڑی بدلنے والے لیورز پر زور آزما رہے، اپنی پوری طاقت کے ساتھ۔ اور آج بھی کئی زور لگار ہے ہیں، کہ زندہ رہنے کی بے ساختہ خواہش نہیں مر سکتی۔
اور لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، ہم بھی دیکھیں گے کہ پٹڑی بدلے گی۔


