چلا آ رہا ہوں تبدیلیوں کے وصال سے۔۔۔


منو بھائی مرحوم بہت بذلہ سنج اور حاضر جواب تھے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر لال خان کے پاس جدوجہد کے دفتر جو لکشمی چوک میں واقع ہے بیٹھے تھے کہ ایک صاحب جو کسی انقلابی دوست کے ساتھ تشریف لائے اور آ تے ہی جاء نماز کا پوچھنے لگے۔ گو کہ بڑے بڑے مارکسسٹ مذہبی رحجان بھی رکھتے تھے مثلاً حسرت موہانی اور ڈاکٹر اشرف جیسے لوگ اور آ ج بھی ہمارے محترم استاد احمد جاوید صاحب خیال اور مادے کو identical گردانتے ہوئے مارکس، مذہب، کانٹ اور ہیگل کو بیک وقت سچائی کر راستے پر گامزن دیکھتے ہیں۔

خیر! ان صاحب کو جاء نماز تو نہ ملا البتہ ایک کپڑا بچھا کر نماز ادا کر لی اور ہوں دل ہلکا ہو گیا۔ قدرے اطمینان قلب کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے اور منو بھائی سے گویا ہوئے، ” بس منو بھائی! فرض ادا کیے ہیں۔ جنت میں بھی تو جانا ہے نا “۔ منو بھائی جو تمام تر کوشش کے باوجود جائے نماز تلاش نہیں کر سکے تھے بولے، ”ہاں جی! جنت دے وچ جان دا شوق تے ساریاں نوں اے پر چھیتی کسے نوں نہیں“ یعنی جنت میں جانے کا شوق تو سب کو ہے لیکن جلدی کسی کو نہیں۔

پارلیمنٹ میں جپھیاں پپیاں دیکھ کر لگتا ہے کہ تبدیلی لانے کا شوق تو سب کو ہے لیکن جلدی کسی کو نہیں۔ تبدیلی بھی بجائے خود ایک دلچسپ دھوکا ہے بالکل ایسے ہی جیسے ”چہرے نہیں نظام کو بدلو“، ”سیاست نہیں ریاست بچاؤ“، ” ظا لمو! قاضی آ رہا ہے“۔ اسی طرح سوشلسٹوں کے بھی کمال نعرے ہوتے تھے، ” اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں“، ” سرخ ہے سرخ ہے ایشیاء سرخ ہے “۔ قاضی بے چارہ ملک عدم سدھار گیا، زندان اللّٰہ کے فضل و کرم سے آباد ہیں گو کہ جسٹس اطہر من اللہ جیسے لوگ بیوی بچوں کی جاں صدقہ کیے پوجھتے ہیں کہ بھائی جیل ہی بھرنا مقصود تھا تو کسی چرسی بھنگی کو ڈال دیتے۔ وزیر اعظم اور اس کی بیٹی کو کیوں ڈال رکھا ہے جیل میں؟ رپورٹ میں کہیں آ پ نے لکھا بھی نہیں کہ کرپشن کی ہے۔

بادشاہ آدمی ہیں جسٹس اطہر من اللہ جنہیں یہ بھی احساس نہیں کہ قوم کے دل کو پتہ ہے کہ کرپشن ہوئی ہے تو جج بشیر کی نیت پر شک کیوں۔ قوم تبدیلی چاہتی ہے چاہے کسی بھی طرح آئے۔ ایک بار پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو مصطفیٰ قریشی صاحب ٹی وی پر آئے اور کہا کہ، ” حکومت تبدیل ہو گئی ہے۔ تبدیلی جیسی بھی ہو اچھی ہوتی ہے“۔ میرا بھائی جو کہ تبدیلی کے نام پر حکومت کی تبدیلی پر یہ سمجھ رہا تھا کہ اسے بیوقوف بنایا گیا ہے، یکلخت بولا، “ اس فادر ملت کی سنو۔ اوئے! تیری جنس بدل جائے تو یہ تبدیلی اچھی ہو گی؟ “۔ گو کہ جنس کی تبدیلی کوئی اچنبھے کی بات نہیں لیکن نوری نت کا خیال آ تے ہی یہ خیال بہت مضحکہ خیز لگا۔

پچھلے دنوں ہمارے ایک بہت اچھے کامیڈین ندیم برال نے خوب فقرہ چست کیا۔ کہتے ہیں، ” سارا پشاور کھدا پڑا ہے۔ پتہ نہیں تبدیلی نیچے سے آ رہی ہے اس بار“۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ تبدیلی آنی کدھر سے ہے۔ خان صاحب کا خیال ہے تبدیلی اوپر سے آئے گی لہذا نواز شریف کو اوپر ہی اوپر سے اڈیالہ بھیج دیا گیا ہے۔ سراج الحق کا خیال ہے کہ تبدیلی سارے پاناما زدوں کو پکڑنے سے آئے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاناما پر تو سزا دینا بہت مشکل ہے اور ہر کوئی اقامہ لیے پھر نہیں رہا۔

زرداری صاحب سمجھتے ہیں تبدیلی مزید جمہوریت سے آئے گی لیکن قوم کہتی ہے کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔ صاحب ثروت لوگ سمجھتے ہیں کہ تبدیلی خود کو بدل لینے سے آئے گی لیکن سرمایہ دارانہ جمہوریتوں میں بندہ خود کو کتنا بدل سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ جہاں دو بکرے دیتا ہے وہاں تین دینا شروع کر دے۔ کمائی کے جائز اور ناجائز کے چکر میں پڑ کر عاقبت تو شاید سنور جائے لیکن عاکفت خراب ہو جاتی ہے۔

تبدیلی کی باتیں کرتے پروفیسر ممتاز یاد آ گئے جنہیں پتہ چلا کہ بروک شیلڈ نے ایک فلم میں سب سے زیادہ کپڑے تبدیل کیے تو موصوف بے ساختہ بول اٹھے، ” ساریاں دے سامنے؟ “۔ تبدیلی وہ جو آنکھوں کے سامنے آئے کیونکہ مزہ اور مقصد مربوط ہو جائیں تو سونے پہ سہاگہ ہے۔ مارکس نے تو خواہ مخواہ یہ ثابت کرنے میں عمر گنوائی کہ تبدیلی ہمہ وقت آ رہی ہوتی ہے اور یہ کہ انسانی سماج بھی سائنسی بنیادوں پر تبدیل ہو رہا ہوتا ہے۔ ایک قباحت جو تبدیلی کو ”نافذ“ کرنے میں در آتی ہے وہ ہے جھٹکا۔ جھٹکے سے لائی جانے والی تبدیلی کو بڑے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں اور یہ تبدیلی کیونکہ نامعلوم سمت سے آ تی ہے لھذا اس کی رفتار اور رمز جاننا مشکل ہے۔

Facebook Comments HS