حامد میر اور جیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صحافت کے میدان میں صحافیوں کا کسی ایک ادارے سے منسلک ہونا اور بعد میں ادارہ تبدیل کرنا آج کل بہت معمولی بات ہے اس میں کوئی انوکھی بات نہیں مگر حیرت کا مقام تب آتا ہے جب کوئی صحافی سالہا سال کسی ایک ادارے سے منسلک رہنے کے بعد اچانک اُس ادارے کو خیر آباد کہہ دے جیسا کہ آجکل حامد میر صاحب کے بہت چرچے ہیں کہ انہوں نے جیو کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔

حامد میر کا شمار پاکستان کے معروف صحافیوں میں ہوتا ہے۔ حامد میر نے52 سالہ زندگی میں 3 دہائیاں صحافت کے میدان میں گزاریں جبکہ 2 دہائیاں وہ ایک ہی میڈیا گروپ جنگ اور جیو سے منسلک رہے اور اب یہ اطلاعات ہیں کہ انہوں نے بطور صدر ایک نئے ادارے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ 1987ء میں حامد میر روزنامہ جنگ میں بطور سب ایڈیٹر، رپورٹر، فیچر رائٹر اور ایڈیشن انچارج شامل ہوئے لیکن بامِ عروج تب حاصل ہوا جب انہوں نے جیو نیوز کا پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ ہوسٹ کرنا شروع کیا۔

کیپیٹل ٹاک کرنے کے علاوہ وہ جنگ اخبار میں متواتر کالم بھی لکھا کرتے تھے اور ان کے کالموں کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا تھا اور ان کے کالموں کا ہندی ترجمہ بھارت کے اخباروں کی زینت بن چکا ہے۔ جیو سے منسلک رہتے ہوئے حامد میر نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن کا انٹرویو کرنے کے علاوہ مختلف عالمی لیڈروں جن میں جان کیری، ہیلری کلنٹن، ٹونی بلیئر، کولن پاول، نیلسن منڈیلا اور شیمون پیرس شامل ہیں کا انٹرویو بھی کر چکے ہیں۔

جنوری 2006ء میں حامد میر تنقید کا نشانہ اس وقت بنے جب انہوں نے امریکی ڈرون حملے کے بعد باجوڑ ایجنسی کا دورہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اس ڈرون حملے میں صرف معصوم شہری، بچے اور عورتیں ماری گئی ہیں نہ کہ القاعدہ کے عسکریت پسند۔ 2007ء میں آمر جنرل مشرف نے حامد میر پہ القاعدہ کا حمایتی ہونے کا الزام لگا کر 4 مہینے کے لئے بین کر دیا تھا۔ دسمبر 2008ء میں حامد میر نے نیوز لائن کراچی میں اپنے اور مشرف کے اختلافات کو واضح کیا اور بتایا کہ طالبان پہ‘ investigative stories ’ لکھنے پر مجھے عسکریت پسندوں کی طرف سے کھلی دھمکیاں ملا کرتی تھیں۔

حامد میر اور جیو، جنگ میڈیا گروپ کا ساتھ 1987ء سے ہے اور حامد میر کی صحافتی قابلیت پر کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہے مگر آجکل جو بات زبان زد عام ہے وہ یہ کہ حامد میر نے جیو کو خیر آباد کیوں کہا جب کہ دو دہائیاں انہوں نے اس میڈیا گروپ کے ساتھ گزاریں ہیں اور اچھا بُرا وقت بھی اسی میڈیا گروپ کے ساتھ دیکھا ہے۔ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ انہوں نے جیو عمران خان کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے چھوڑا ہے کیونکہ اب یہی افواہیں گردش میں ہیں کہ چونکہ حامد میر اور جیو عمران خان سے خار کھاتے تھے اور اسی میڈیم پہ بیٹھ کر بہت سے (ن) لیگی ارکان یہ کہتے سنے گئے کہ عمران خان کے ہاتھ میں وزیراعظم بننے کی لکیر نہیں ہے تو کہیں حامد میر تحریک انصاف کے عتاب میں نہ آجائیں اس لئے جیو کو خیر آباد کہنا پڑا۔

حامد میر کی طرف سے بذات خود ابھی تک کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی جیو اور جنگ کی طرف سے اس بات کی تائید و تردید ہوئی ہے جبکہ یہ ضروری بھی نہیں ہے اور صحافتی اقدار کے خلاف بھی نہیں ہے۔ وجہ کوئی بھی ہو مگر صحافتی شعبے میں حامد میر کی خدمات کو سراہا جاتا تھا اور آگے بھی امید ہے کہ سراہا جاتا رہے گا کیونکہ حامد میر ان چند صحافیوں میں سے ایک ہیں جو اپنے کام سے غداری نہیں کرتے اور جہاں تک بات ادارہ چھوڑنے کی ہے وہ ان کا انتہائی ذاتی معاملہ ہے جس میں کسی کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔

تبدیلی قدرت کا قانون ہے اور ہر تبدیلی کو مثبت سوچ کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں جانا ایک تبدیلی ہی کہلاتا ہے اور اس تبدیلی کو مثبت سوچ سے دیکھنے اور قبول کرنے کی ضرورت ہے اور حامد میر کو بطور صدر ایک نئے ادارے میں شامل ہونے پر ہمیں ان کو مبارکباد دینی چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>