علاج معالجے کی اخلاقیات ۔۔۔ سرمئی کے کئی رنگ


انٹرنل میڈیسن کی بورڈ رویو کانفرنس میں‌ جا کر یہ معلوم ہوا کہ پچھلے دس سالوں‌ میں‌ میڈیسن میں‌ کتنی تبدیلیاں‌ آچکی ہیں۔ ایتھکس کا لیکچر کافی دلچسپ تھا۔ اس میں‌ کئی نوعیت کے کیس ڈسکس کیے گئے جن میں‌ سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ امید ہے کہ یہ کیسز قارئین کو سوچنے پر مجبور کریں‌ گے۔

پہلا سوال: آپ کے 56 سالہ مریض‌ کو حال ہی میں‌ گردے کے کینسر کے ساتھ تشخیص کیا گیا ہے۔ یہ اس وقت معلوم ہوا جب وہ گر پڑے اور ان کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ جب ان کی سرجری کے لیے مزید ٹیسٹ کیے جارہے تھے تو پتا چلا کہ ان کو یہ خطرناک کینسر ہے۔ آپ نے ان کو کینسر کے ڈاکٹر کے پاس بھیجا جنہوں‌ نے کیموتھیراپی تجویز کی ہے لیکن آپ کے مریض‌ نے علاج سے انکار کردیا ہے اور صرف بنیادی دیکھ بھال کی درخواست کی ہے۔ ان مریض‌ کے دو بچے ہیں‌ جن کی عمریں‌ 14 اور 17 سال ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہئیے؟

1- مریض کو نالائق قرار دے دیا جائے۔

2- مریض‌ کو دوبارہ کینسر کے ڈاکٹر کے پاس بھیجا جائے تاکہ ان سے مزید گفت و شنید کی جاسکے۔

3- بنیادی دیکھ بھال شروع کی جائے

4- مریض‌ پر دباؤ ڈالیں‌ کہ وہ کیموتھیراپی کے لیے حامی بھر لیں۔

درست جواب: مریض‌ کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے، ان کی درخواست کے مطابق بنیادی دیکھ بھال شروع کی جائے۔ یہ سوال جس نقطے کے گرد گھومتا ہے وہ یہ ہے کہ مریض‌ کی مرضی کو عزت اور اہمیت دی جائے۔ ان کے اس انسانی حق کا احترام کیا جائے کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں‌ فیصلہ کرنے کا پورا اختیار رکھتے ہیں۔

سوال: آپ کے ایک مریض‌ کو آخری سطح کی ایچ آئی وی انفکشن ہے جن کو نمونیا اور کنفیوژن کی شکایات کے ساتھ ہسپتال میں‌ داخل کیا گیا ہے۔ چار دن کے علاج کے بعد ان کی زہنی حالت قدرے بہتر ہوچکی ہے اور وہ آپ سے کہتے ہیں‌ کہ انہیں گھر واپس جانے دیا جائے۔ وہ پہلے بھی ایسا ہی کہہ چکے ہیں‌ جو کہ ان کے فیملی ڈاکٹر کی فائل میں‌ بھی لکھا ہوا ہے۔ آپ کے مریض‌ کا خود کشی کا کوئی ارادہ نہیں‌ لیکن وہ مرنے کے لیے تیار ہیں اور مزید علاج نہیں‌ کروانا چاہتے۔ اس صورت حال میں‌ آپ کو کیا کرنا چاہئیے۔

1- مریض‌ کو بنیادی دیکھ بھال کے ساتھ گھر بھیج دیا جائے۔

2- مریض‌ پر نگاہ رکھنے کے لیئے چوکیدار بٹھا دیا جائے تاکہ وہ خود کشی نہ کریں۔

3- ایک سائکائٹرسٹ کو بلایا جائے تاکہ وہ مریض‌ کی لیاقت جانچنے کے لیئے ان کے دماغ کا معائنہ کریں۔

4- مریض‌ کو نالائق ثابت کرنے کے لیئے کورٹ میں‌ کیس چلایا جائے۔

درست جواب: اگر ایک مریض‌ اپنے ہوش وحواس میں‌ رہتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرے کہ اس کو مزید علاج نہیں‌ کروانا ہے اور گھر واپس جانے کی درخواست کرے تو اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس کو گھر بھیج دیا جائے گا۔ سائکائٹرسٹ کو اس وقت بلانا مناسب ہوگا جب مریض‌ ڈپریشن کا شکار ہو، خودکشی کرنے کی کوشش کرے یا اس کا رویہ اور باتیں‌ یہ ظاہر کریں‌ کہ ان کو کوئی ذہنی بیماری ہے۔ یہاں‌ پر ایتھکس کا اصول "رسپیکٹ فار پیشنٹ آٹونومی” لاگو ہوتا ہے۔

سنڈی اور چارلی کا ذکر اس سے پہلے بھی ایک مضمون میں‌ کیا تھا۔ کچھ مہینے پہلے چارلی کے ایک گھٹنے کی سرجری ہوئی۔ سرجری کے بعد اس میں‌ انفکشن ہوگئی جس کی وجہ سے وہ کئی بار ایمرجنسی روم گئے اور چوتھی بار ان کو ہسپتال میں‌ داخل کیا گیا۔ انفکشن، اینٹی بایوٹکس اور پھر درد کی نشے کی دواؤں‌ سے ان کا دماغ ٹھیک سے کام نہیں‌ کررہا تھا۔ وہ بہکی بہکی باتیں کر رہے تھے۔ شام میں‌ کلینک ختم کرکے میں‌ ان کو دیکھنے ہسپتال گئی تو وہ اپنا گاؤن تک جسم پر برداشت نہیں‌ کر رہے تھے اور بار بار کمبل اور گاؤن اپنے اوپر سے ہٹا دیتے۔ کھڑکی کی طرف اشارہ کرکے ٹوٹی پھوٹی زبان میں‌ کہہ رہے تھے کہ باہر کشتی کھڑی ہے حالانکہ باہر کچھ بھی نہیں تھا۔ آرتھوپیڈک سرجن نے راؤنڈ کیا تو مجھ سے پوچھا کہ کیا اس مریض‌ پر اینڈوکرائن کو بھی کانسلٹ کیا گیا ہے تو میں‌ نے ان سے کہا کہ میں‌ چارلی اور سنڈی کو مریضوں کے طور پر نہیں بلکہ دوستی کی وجہ سے دیکھنے آئی ہوں۔ ظاہر ہے کہ اس حالت میں‌ چارلی اگر کہیں‌ کہ مجھے مرجانے دو، مجھے گھر جانے دو تو اس وقت ان کی بات کو وہ وزن حاصل نہیں‌ ہوگا جیسا کہ اوپر بتائے ہوئے پہلے دو مریضوں‌ کو تھا۔

امریکی عدالتوں‌ میں‌ چلے ہوئے کیسز سے یہ اصول و ضوابط ترتیب دیئے گئے کہ مذہبی بنیادوں‌ پر مریض‌ علاج سے انکار کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جاہووا وٹنس مذہب کے پیروکار ضرورت پڑنے کے باوجود خون کا عطیہ قبول نہیں‌ کرتے۔ یہاں‌ پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر ایک حادثے میں‌ ایک جاہووا وٹنس فیملی کے کئی افراد زخمی ہوگئے ہوں‌ جن میں‌ بچے بھی شامل ہوں‌ تو بالغ افراد اپنے لیے تو علاج سے انکار کرسکتے ہیں‌ لیکن کم عمر بچوں‌ کو قانون کے مطابق تحفظ حاصل ہے۔ یعنی کہ اگر ایک نو سال کا بچہ ہے جس کو خون چڑھانے کی ضرورت ہے ورنہ وہ مر سکتا ہے تو اس کے والدین کے انکار کرنے کے باوجود اس کو خون دے دیا جائے گا۔ جو لوگ ضرورت سے زیادہ مذہبی ہوں‌ وہ ایسے ہی اپنا دماغ استعمال نہیں‌ کرتے اوران کے پیاروں‌ کی زندگی پر برا اثر پڑتا ہے۔ ایسی صورت حال میں‌ کسی بھی ملک کے تعلیم یافتہ اور باشعور افراد کو کمزور اور مجبور انسانوں‌ کی بھلائی کے لیے کچھ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین اور ضوابط قائم کرنے کی ضرورت ہوگی۔

سوال: ایک 21 سالہ کالج کے اسٹوڈنٹ کو اس کے روم میٹ ایمرجنسی روم لائے کیونکہ اس کو سر میں‌ شدید درد ہے اور اس کی گردن اکڑ گئی ہے۔ مریض نیند میں‌ ہے لیکن پکارنے پر جاگ جاتا ہے۔ مریض نے لمبر پنکچر کی اجازت دے دی ہے جس سے اس کی کمر میں‌ سے پانی نکال کر مناسب اینٹی بایوٹک دی جائے۔ مریض نے آپ کی بات سن کر اینٹی بایوٹک لینے سے انکار کردیا۔ آپ نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر فوراً اینٹی بایوٹک نہ دی جائے تو گردن توڑ بخار سے موت واقع ہوسکتی ہے لیکن مریض نے پھر بھی انکار کردیا اور بے ہوش ہوگیا۔ اب آپ کو کیا کرنا چاہئیے؟

1- صرف نارمل سیلین یا نمکین پانی کی ڈرپ چڑھائیں کیونکہ مریض‌ نے اینٹی بایوٹک لینے سے انکار کردیا ہے۔

2- چونکہ مریض‌ کو جان لیوا بیماری ہے، اس لیے اس کے انکار کرنے کے باوجود علاج کرنا مناسب ہے۔

3- عدالت سے رجوع کریں‌ اور تب تک علاج روکیں‌ جب تک فیصلہ ہو جائے۔

4- مریض کے روم میٹ سے اجازت لے کر علاج شروع کر دیں۔

درست جواب: یہاں‌ پر چونکہ مریض بخار میں‌ درست طریقے سے سوچنے کی صلاحیت عارضی طور پر کھو چکا ہے اور اینٹی بایوٹک کے بغیر اس کی جان جا سکتی ہے، فوراً علاج شروع کرنا مناسب ہوگا۔ روم میٹ اجازت دینے کی پوزیشن میں‌ نہیں‌ ہے۔ اس طرح‌ کی اجازت صرف کسی مریض کے والدین، بالغ اولاد یا شوہر یا بیوی ہی دے سکتے ہیں۔ عدالت میں‌ جانا مناسب نہیں۔ جب تک فیصلہ ہو، مریض‌ شائد مرچکا ہوگا۔ قانونی نظام اورعدالتیں‌ سست رو ہیں اور فوری فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہاں‌ پر اس صورت حال میں‌ ایتھکس کا "پرنسپل آف بنیفسنس” لاگو ہوتا ہے۔

میڈیسن کا پہلا اصول ہے کہ "ڈو نو ہارم” یعنی کسی کو نقصان نہ پہنچائیں۔ کسی بھی سوال کا جواب انفرادی صورت حال پر مبنی ہوتا ہے۔ دنیا میں‌ کالا سفید کچھ بھی نہیں۔ ان کے بیچ میں‌ سرمئی کے کئی رنگ ہیں۔

Facebook Comments HS