ڈاکٹر فیصل سعید کو معذوری نے کامیابی پانے سے نہیں روکا
س8۔ اس وقت آپ کے کیا تاثرات تھے؟
ج۔ وہ میری زندگی کا سنہرا دور تھا۔ میں جذباتی تھا اور دوسرے طلباء میں ”فٹ ان ‘‘ ( شمولیت )ہونا چاہتا تھا۔ کیونکہ اس عمر میں یہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ میں اپنی معذوری کی وجہ سے الگ نہیں ہونا چاہتا تھا۔ لہذا جہاں تک ممکن ہوسکتا، کالج کے ہر پروگرام میں حصہ لیتا۔ قومی سطح پر ان مقابلوں میں شرکت کرنے سے دوسرے صوبوں اور شہروں کے طلباء سے رابطے استوار کرنے کے مواقع ملے جس سے میرا ذہن مزید کھلا اور میری صلاحیتوں کو جلا ملی۔ میں ٹی وی پر ملکی اور غیرملکی پروگرام دیکھتا تھا جیسے Perry Mason اور Ironside جو ایک معذور وکیل کے کارناموں کے بارے میں تھے اور پھر Six Million Dollar Man جس میں ایک حادثہ کا شکار معذور شخص سائنس کے ذریعے مافوق الفطرت کارنامے کرتا تھا۔ ان ٹی وی پروگراموں سے مجھے حوصلہ ملتا تھا کہ معذوری میرے راستے کی رکاوٹ نہیں اور میں آنے والی زندگی میں بڑے بڑے کام کر سکتا ہوں۔ کاش ہمارے ملک کا میڈیا بھی ایسے بامقصد پروگرام پیش کرسکے جن سے بچوں میں آگے بڑھنے کی ہمت اور حوصلہ پیدا ہو۔
س9۔ غیر نصابی سرگرمیوں کے علاوہ تعلیمی دلچسپی کے متعلق بھی بتائیں؟
ج۔ کالج میں میرے مضامین حساب، شماریات اور معاشیات تھے۔ یہ مضامین آرٹس کے تھے کیونکہ والد کا خیال تھا کہ انجینیرئنگ اور میڈیکل کی تعلیم میں کھڑا رہ کر کام کرنا پڑا کرے گا۔ فرسٹ ائیر کا رزلٹ بہت عمدہ آیا۔ پرنسپل نے کالج کے دس بچے منتخب کیے کہ جن کو اگلے سال گولڈ میڈل لانے کے لیے خاص طور پر تیار کیا جائے گا۔ ان میں میں بھی شامل تھا۔ اگلے سال انٹر میں جس کی اول پوزیشن آ ٰئی، وہ بچہ میں تھا۔ سب بہت خوش تھے۔ خاندان بھر میں اس کامیابی کو نوٹوں والے ہار پہنا کر منایا گیا۔ اخبارات میں خوب انٹرویو چھپے۔ یہ سال تھا 1981ء کا۔ لیکن جب اس رزلٹ کے بعد مارک شیٹ لینے گئے تو بورڈ والوں نے اعلان کیا کہ نتیجہ غلط تھا۔ مجموعی طور پرایک جرنیل کے بیٹے کے نمبر مجھ سے زیادہ قرار دیے گئے۔ اس طرح میرا گولڈ میڈل سلور میڈل میں تبدیل ہو گیا۔ سب غصہ اور حیرت میں تھے۔ لیکن ایک فوجی کو چیلنج کون کرتا؟ یہ نتیجہ ایک ہفتہ بعد بدلا گیا تھا۔
س 10۔ خیر ان کو چیلنج کرنے کی ہمت تو آج بھی کوئی نہیں کرتا۔ آپ یہ بتایئں کہ یہ اس واقعہ کو آپ نے کس طرح لیا؟
ج۔ یہ ایک تکلیف دہ واقعہ تھا۔ مگر میں تو جذباتی صدموں سے نپٹنے لیے بہت عملی انسان تھا۔ میری طاقت اللہ کی دین سمجھئے۔ میں کبھی بھی بہت مذہبی نہیں رہا۔ مگر زندگی کے اتار چڑھاؤکے وقت میرا ایمان ہے کہ رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا۔ میں تو اپنے دادا کی وفات پہ بھی نہیں رویا تھا۔ جبکہ وہ میرے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ تو اس واقعہ سے بھی میں نے اپنی ہمت ٹوٹنے نہیں دی۔ میرا میڈل چھین لیا گیا مگر کامیابی تو پھر بھی مجھے حاصل ہوئی تھی۔
س11۔ انٹر کے بعد بی۔ اے، ایم۔ اے اور مزید تعلیمی سفر کس طرح طے ہوا؟
ج۔ بی۔ اے بھی انہیں مضامین میں کیا یعنی میتھس، اسٹیٹسٹکس اور اکنامکس۔ یہ ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے ملی تھی۔ میں نے سوچا ہوا تھا کہ قائد اعظم یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کرنا ہے۔ یاد رہے کہ ان دنوں یہ مضمون صرف قائد اعظم یونیورسٹی میں ہی پڑھایا جاتا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی نے نتیجہ کا اعلان ایک ماہ تاخیر سے کیا۔ اس وقت تک قائد اعظم یونیورسٹی کے داخلہ کی تاریخ نکل گئی تھی۔ میں نے داخلہ کے لیے عدالت میں اپیل کی۔ اس کے علاوہ قائد اعظم یونیورسٹی اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے بھی اپیل کی مگر داخلہ کی درخواست مسترد ہو گئی۔ صدر مملکت ضیا ء الحق صاحب نے کہا کہ ” ملک میں بیس اوریونیورسٹیاں ہیں۔ ان میں سے کسی بھی یونیورسٹی میں داخلہ لے لو ‘‘ مگر ہماری ضد کہ ہمیں قائد اعظم ہی میں پڑھنا ہے۔ اس مسئلہ کا درمیانی راستہ یہ نکلا کہ یونیورسٹٰی میں ایک پوسٹ گریجویٹ کورس تھا کمپیوٹر سے متعلق، اس میں داخلہ لے لیا۔ وہ پڑھنے کے بعد اگلے سال ایم ایس سی میں داخلہ مل گیا۔ میری اس جدوجہد میں میرے والد ساتھ تھے۔ اس وقت تک انہوں نے اس حیثیت کو جان لیا تھا کہ بچہ کسی قابل ہے۔
س12۔ ایم ایس سی کے داخلہ میں مزید کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوئی؟
ج۔ اس میں داخلہ کے لیے مقابلہ کا امتحان ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ کوٹا سسٹم بھی لا گو تھا۔ یعنی کل تیس سیٹوں میں سے ہر صوبہ کے لئے سیٹیں مختص تھیں۔ میں پنجاب یونیورسٹی سے تھا تو میرا مقابلہ پنجاب کے کوٹے میں تھا مگر جب داخلے کی فہرست بنی توپورے پاکستان میں سے میرا تیسرا نمبر تھا۔ اس طرح داخلہ ہوگیا۔ اور تعلیم کے ساتھ ساتھ دوسری کچھ سرگرمیوں میں اضافہ بھی ہو گیا۔ تقریری اور معلوماتی مقابلے تو تھے ہی۔ شاعری کے نام پر تک بندی پر بھی ہاتھ صاف کیا (مسکراہٹ)۔ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ پہاڑی علاقوں پہ سیر وتفریح کے لیے جاتے۔ کبھی چشموں پہ پک نک مناتے۔ میرے لیے مشکل ہو تا تھا کہ اوپر جاؤں تو میرے دوست بہت تعاون کرتے اور مجھے موٹر سائیکل پر لے جاتے۔ پھر یونیورسٹی مکمل ہوئی۔ اور اب اگلا مرحلہ نوکری حاصل کرنے کا تھا۔
س13۔ اتنی جد وجہد کے بعد نوکری کا مرحلہ تو اتنا دشوار نہیں رہا ہو گا؟
ج۔ ایسا نہیں تھا۔ ان دنوں پاکستان میں اکثریت سرکاری نوکری کرتی تھی اور مجھے بھی سرکاری نوکری حاصل کرنی تھی۔ حکومت ( اس زمانے میں ضیاء الحق صاحب ) نے معذور افراد کے لیے ایک فی صد کوٹہ مقرر کر دیا تھا۔ گریجویشن کے بعد دو تین سرکاری اداروں سے مجھے نوکری کی آفر ز تھیں۔ مگر جب میں نے نوکری کے لیے میڈیکل ٹیسٹ دیا تو ناکام ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تم اتنے تندرست (able) نہیں ہو کہ باقاعدہ انداز میں کام کر سکو۔ اور اتنے معذور (disabled) نہیں کہ کوٹہ کے معیار پہ پورے اتر سکو۔ اب یہ میری زندگی میں ایک انتہائی جذباتی بحران تھاکہ جتنی تعلیم حاصل کی وہ بیکارہے۔ اگر نوکری کے دروازے مجھ پہ بند ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے اس وقت غصہ میں چلا کرانٹرویو پینل سے پوچھا کہ ” آخر مجھے پڑھنے ہی کیوں دیاتھا اگر نوکری نہ دینی تھی۔ ‘‘ انہوں نے کہا ” ہم نے تمہیں پڑھنے سے نہیں روکا اور مزید بھی پڑھ لو مگر نوکری نہیں ملے گی۔ ‘‘ پھر اللہ نے دروازہ کھولا۔ میرا انٹرویو وزیر تعلیم کے ساتھ رکھ دیا گیا۔ اس انٹرویو میں مجھے اپنی اردو کے ورڈ پروسیسر پروگرام کی پریزنٹیشن دینی تھی۔ واضح ہو کہ پاکستان میں پہلی بار میں نے اس کمپیوٹر پروگرام کی تشکیل کی تھی۔ اس وقت وزیر تعلیم نسیم آہیر تھے۔ میں نے ان کے سامنے آدھ گھنٹے کی پریزنٹیشن دی جس کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ” مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں ایسے نظام تعلیم کا وزیر ہوں کہ جس میں ایسے جوہر پیدا ہوتے ہیں۔ ‘‘ غرض انہوں نے احکامات جاری کر دیے کہ” اس کو نوکری دی جائے۔ ‘‘
یہ ملازمت وزارت تعلیم میں تھی۔ اس ملازمت کے بعد لوگوں کا رویہ بدل گیا۔ پہلے یہ تھا کہ یہ ایک ذمہ داری ہے۔ اب یہ کہ یہ بچہ اپنا بوجھ خود اٹھا سکتا ہے۔ اب میں نے امریکہ میں اعلی تعلیم کے داخلہ کے لیے کوشش شروع کر دی۔ اس کے جواب میں مجھے مختلف جگہ سے داخلہ کی پیش کش آنے لگیں۔ میں آرٹیفیشل انٹیلیی جنس (Artificial Intelligence) میں تحقیقی کام کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ میں نے اوکلا ہوما اسٹیٹ یونیورسٹی کا ا نتخاب کیا۔ جب میں پہلی بار وہاں کی سرزمین پہ اترا تو میری ملاقات اپنے ایڈوائزر ڈاکٹر چانڈلرسے ہوئی۔ میں آیا تو تھا ماسٹرز میں داخلہ لے کر۔ مگر میرا قائداعظم یونیورسٹی کے تعلیمی ریکارڈ کی تفصیل دیکھ کرانہوں نے کہا یہ چیزیں تو تم پہلے ہی پڑھ چکے ہو۔ انہوں نے مجھے پی۔ ایچ۔ ڈی میں داخل کرا دیا۔ اس وقت مجھے بہت فخر محسوس ہوا کہ پاکستان کے تعلیمی ادارے عالمی سطح پر کسی سے کم نہیں۔ یہ 1988ء کا زمانہ تھا۔
س14۔ نئی جگہ اور پی ایچ ڈی میں خلاف توقع داخلہ مشکل رہا ہوگا؟
ج۔ اسی پہلی ملاقات میں میرے ایڈوائزر نے کہا ” تم بہت کام کے آدمی ہو۔ پڑھاؤ گے یہاں؟ ‘‘ وہ زمانہ سردی اور ٹھنڈی ہواوں اور برف باری کا تھا۔ میں نے بطور پی۔ ایچ ڈی اسٹوڈنٹ پڑھنا اور جونئیر طلباء کوپڑھانا شروع کر دیا۔ اور خوب جم کے کام کیا۔ پھر رمضان کا زمانہ بھی آگیا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ میں پوری پوری رات کمپیوٹر لیباریٹری میں کام کرتا اور سحری کرنے گھر واپس آتا۔ اس کے بعدتھوڑا سا سوتا اور نو بجے کلاس پڑھانے چلا جاتا۔ دوپہر میں اپنی پڑھائی دیکھتا۔ پھرشام میں افطاری کے بعد کیمپس پہنچ جاتا۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


