ڈاکٹر فیصل سعید کو معذوری نے کامیابی پانے سے نہیں روکا
س15۔ پی ایچ ڈی کا خواب تو پورا ہونے لگا لیکن کچھ کلچر شاک کا بھی تو ذکر کریں؟
ج۔ چونکہ میں نے اسکول دسویں جماعت تک گھر میں تعلیم حاصل کی تھی۔ لہذا گھر میں ٹی وی پہ انگریزی موویز اور شوز بہت غور سے دیکھا کرتا تھا۔ اس وجہ سے انگریزی میں روانی آگئی تھی۔ جب امریکہ پہنچا تو وہی انگریزی کام آئی۔ لیکن زبان کے علاوہ بھی کئی کلچر شاکس تھے۔ مثلاً پاکستان میں بجلی کا سوئچ اوپر بند اور نیچے کھلتا ہے۔ وہاں گاڑیاں سیدھے ہاتھ پہ چلتی ہیں۔ یہاں الٹے ہاتھ پہ۔ میں امریکہ میں چھوٹے ٹاؤن میں آیا تھا۔ جہاں عوامی ٹرانسپوٹ یعنی بسیں وغیرہ نہیں تھیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ مجھے گاڑی چاہیے۔ میں نے ڈرائیونگ کا تحریری امتحان تو پاس کرلیا۔ لیکن مجھے لرنر لائسنس نہیں مل رہا تھا۔ کہ میں گاڑی چلانے کی مشق کر سکوں۔
موٹر وہیکل ڈیپارٹمنٹ والے کہتے تھے کہ آپ ڈاکٹر سے لکھوا کے لائیں۔ کہ آپ ڈرائیو کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں پارکنگ پرمٹ بھیج رہے ہیں۔ کہ جس گاڑی میں سفر کرو اسے پارک کر سکتے ہو۔ مگر چلا نہیں سکتے۔ جب تک ڈاکٹر نہ لکھے۔ کہ تم ڈرائیو کر سکتے ہو۔ ادھر ڈاکٹر یہ کہتے تھے کہ جب تک تم ڈرائیونگ کی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی چلاؤ نہیں ہم کیسے کہہ دیں کہ تم ڈرایؤ کر سکتے ہو۔ غرض یہ آٹھ ماہ کی کش مکش تھی۔ اس کے بعد مجھے ایک ڈاکٹر مل گیا کہ جس نے چیک کر نے کے بعد کہا کہ تم ڈرائیو کر سکتے ہو۔ اس سے یہ ”دائرہ ٹوٹا ‘‘ اور مجھے لر نر لائسنس مل گیا۔ پھر ایک پرانی ہونڈا سوک خریدی اور اس پر مشق کی۔ یہ اسٹک شفٹ والی کہ جس میں دو پیروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کے بجائے آٹو میٹک تھی۔ اس طرح جھجک نکل گئی۔ اور ایک ماہ بعد امتحان دے کر پکا لائسنس لے لیا۔
س16۔ ڈرائیونگ لائسنس تو مل گیا ادھر پی ایچ ڈی کا کیا رہا؟
ج۔ اس کو مکمل ہونے میں چھ سال لگے۔ میری دلچسپی کمپیوٹر سائنس کے شعبہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس Artificial Intelligenceمیں تھی اور میری تحقیق کا موضوع ٖFuzzy Logic) ( تھا۔ یہ دور انتہائی محنت کا دور تھا مگر محنت کے ساتھ ساتھ کامیابیاں حاصل ہوتی رہیں۔ عالمی مجلوں میں میرے تحقیقی مقالے شائع ہوئے۔ بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کرتا رہا اور اپنی فیلڈ کے بڑے بڑے سکالرز سے ملنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔
س17۔ کیا فرق لگا پاکستان اور یہاں کے رویوں میں؟
ج۔ پاکستان میں لوگ یہ سمجھتے ہوئے کہ جو معذور افراد ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے اور معاشرے پر ڈیپنڈنٹ (dependant)ہیں۔ ہر ایک آپ کی جتنی مدد کر سکتا ہے کرتا ہے۔ یہاں مدد کا انداز مختلف ہے۔ یہاں معذور افراد کے لئے محتاجی کے بغیر(independant living) زندگی گزارنے کا تصور ہے۔ لوگ نہ بہت زیادہ نہ بہت کم مدد کرتے ہیں۔ اور یہ سوچ کر کہ کہیں برا نہ لگ جائے۔ مدد سے پہلے پوچھ لیتے ہیں۔ ایک مثال کے طور پر پاکستان میں اگر کوئی معذور شخص تھیٹر(cinema) میں جائے تو لوگ برا مانتے ہیں کہ آنے کی کیا ضرورت تھی۔ گھر میں بیٹھے رہتے۔ جبکہ یہاں لوگوں اور انتظامیہ کا رویہ ہے کہ ” یہ سہولت مہیا کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور معذور افراد کے لیے گنجائش نکالی جانی چاہیے۔ ‘‘
س18۔ ازدواجی رشتہ کب بنا۔ ؟
ج۔ میرے چچا ورجینیا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کوشش کی۔ چچی پاکستان گئیں تو انہوں نے ملنے والوں میں بات طے کی۔ اور شادی با لکل ارینج بلکہ بات کیے بغیر ہوئی۔ میں نے محض تصویر دیکھی تھی۔ میری ہونے والی شریک حیات بھی تعلیم یافتہ اور خود مختار تھیں اور گھر سے دور ایک لڑکیوں کے کالج میں رہتی اور پڑھا رہی تھیں۔ اس طرح 2003ء میں شادی انجام پائی۔ پہلے فون پہ نکاح ہوا۔ پھر یہ یہاں آگئیں۔ ان کے سارے رشتہ دار کینیڈا میں جمع ہو گئے۔ اور اس طرح پورے خاندان کی موجودگی میں یہ تقریب انجام پائی۔
س19۔ شادی کاتجربہ کیسا رہا۔ شادی کے بعد کا سفر کیسا لگا؟
ج۔ میں کینیڈا میں اکیلا ہی تھا۔ میرے اور بیگم کے سب رشتے دار امریکہ میں تھے۔ جیسے تیسے جو ہو سکا کیا۔ اس میں میرے دوستوں نے بہت مدد کی۔ شادی میں تین سو سے زیادہ افراد تھے۔ شادی کے ہنگاموں میں تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔ شادی کے بعد یہ ہمارے اپارٹمنٹ میں آگئیں۔ ایک دوسرے سے ایڈجسٹمنٹ تو لمبا سفر ہے۔ جو ابھی تک چل رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ارینج میرج کی خوبصورتی یہ ہے کہ شادی کے بعد ایک دوسرے کو سمجھنا ہوتا ہے جبکہ ڈیٹنگ میں بہت سی چیزیں پہلے ہی ہو جاتی ہیں۔ میں اپنی شادی شدہ زندگی سے بہت مطمئن ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک ہم مزاج ساتھی خدا کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ہم دونوں مختلف قسم کی تفریحات کے مگر ملتے جلتے شوق رکھتے ہیں۔ ہم دونوں نئے نئے مقامات پر گھومنا، مختلف اقسام کے کھانے کھانا اور ادبی، معاشرتی اور سیاسی تقریبات میں شرکت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
س20۔ آپ ان سرگرمیوں کی کچھ تفصیلات بتائیں۔
ج۔ میرے لئے سب سے اہم ایسی سرگرمیاں ہیں جن سے معاشرے میں معذوروں کے لئے محتاجی کے بغیر زندگی گزارنا(independant living) آسان تر ہو سکے۔ اس کے لئے میں ایک غیر سرکاری ادارے (NGO) کے انتظامات کی نگرانی کرتا ہوں۔ یہ ادارہ۔ ”پولیو کینیڈا Polio Canada ”۔ کے نام سے شروع ہوا اور اس کا مقصد کینیڈا میں پولیو کے متاثرین کی بحالی تھا۔ بعد میں یہ دیگر معذوریوں کی بحالی بھی کرنے لگے۔ میری نگرانی میں یہ ادارہ ”مارچ آف ڈائمز کینیڈاMarch of Dimes Canada ”کے نام سے کینیڈا بھر میں پھیل گیا۔ اس کے علاوہ پچھلے 18 برس سے میں ہر سال“۔ “People in Motion میں شرکت کرتا ہوں جو کینیڈا میں معذوروں کی بحالی کی سب سے بڑی سالانہ قومی نمائش ہوتی ہے جہاں ہر سال نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جاتی ہے، اور تمام بڑے ادارے معذوروں کے لئے اپنے خدمات متعارف کرواتے ہیں۔
اس کے علاوہ ہر سال میں ”Man in Motion“ کے سالانہ مقابلوں میں حصہ لیتا ہوں جن میں دکھایا جاتا ہے کہ معذور افراد کس طرح روزمرہ کے فرائض انجام دے سکتے ہیں اور معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان مختلف سرگرمیوں کے لئے ٹورانٹو مئیر جان ٹوری، اونٹاریو کے سابق پریمیر مائیکل میگوینٹی، کینیڈا کے سابق وزیر اعظم سٹیفن ہارپر نے مجھے مختلف اعزازات سے نوازا اور کینیڈا کے موجودہ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی میری حوصلہ افزائی کی۔ یہاں میں اس بات کا خصوصی ذکر کرنا چاہوں گا کہ ان تمام سرگرمیوں میں میری بیگم شانہ بشانہ میرے ساتھ شامل رہتی ہیں۔
س 21۔ کوئی مشورہ ان افراد کے لیے جن کو معذوری کا سامنا ہے؟
ج۔ میرا مشورہ ہے کہ رکنا نہیں چاہیے جو کر سکتے ہیں کریں۔ راستہ تھوڑا سا مختلف ہے اور مشکل بھی لیکن اگر ہمت آپ چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے تو راستہ آسان نہیں بنے گا۔ ذاتی طور پر میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ نہ صرف اپنے لئے راستہ بناؤں بلکہ آنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کروں۔ اسی لئے جاب کے علاوہ معاشرتی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتا ہوں۔ اس انٹرویو کا مقصد بھی ذاتی نمائش نہیں بلکہ دوسرے معذور افراد کی حوصلہ افزائی مقصود ہے کہ ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا
س22۔ ایک آخری اور اہم سوال پاکستانیوں میں پولیو کی بڑھتی ہوئی شرح سے ہے۔ آپ اس صورتحال کے متعلق کیا محسوس کرتے ہیں؟
ج۔ یہ واقعی افسوس ناک صورتحال ہے۔ پولیو ایک خطرناک مرض ہے جس کا دنیا بھر سے خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اس وقت دنیا کے ان مٹھی بھر ممالک میں شامل ہے جہاں یہ موذی مرض ابھی بھی پنپ رہا ہے اور معصوم بچوں کو اپنا شکار بنا رہا ہے۔ ہم لوگ محض اپنی جہالت کی وجہ سے اس کا مقابلہ نہیں کر پاتے ہیں۔ حالانکہ اس کا بہت آسان علاج ہے۔ ہم لو گوں کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے سوچنا چاہیے۔ یہ جہالت اور بیماری ایک مستقل لعنت ہے اس کا کیوں نہ سد باب کیا جائے۔ جہالت کی وجہ سے مزاحمتی گروپ کو خدشات ہیں جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ یہ بے ضرر سی ویکسین ساری دنیا کو پولیو سے بچارہی ہے۔ اسمیں کوئی خطرناک بات یا خدشات نہیں ہونے چاہیے۔ ضرورت ہے کہ جہالت کو پس پشت ڈال کر بچوں کو صحت مند مستقبل دیں اور معذوری سے بچائیں۔

