احمدی، شعائر اسلام کی خلاف ورزی کا قانون اور جعلسازی


الحمدللہ پاکستان کے مسلمان آج نئے پاکستان کی پہلی عید، عید الاضحیٰ منا رہے ہیں۔ مسلمان یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیش کی گئی قربانی کی یاد میں مناتے ہیں۔

آج کے دن پاکستان کے رہنے والے مسلمان حسب توفیق بکرے، دنبے، بیل یا اونٹ وغیرہ کی قربانی اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔

مگر جہاں مسلمان پوری مذہبی عقیدت سے یہ قربانی کرتے ہیں وہیں پر پاکستان میں ایک ایسی مظلوم اقلیت بھی ہے جسے مذہبی عقیدت سے اس قربانی کو پیش کرنے پر تین سال قید اور جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے قوانین میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 (سی) ایک ایسی دفعہ ہے جو پاکستانی احمدیوں کو شعائر اسلامی اپنانے پر تین سال تک کی قید اور جرمانے کی سزا کا حق دار ٹھہراتی ہے۔

اس سلسلے میں ہر سال پاکستان کے مختلف شہروں میں احمدیوں کے خلاف بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں جن پر کبھی تو احمدیوں کو قربانی کرنے سے باز رہنے کی تنبیہ کی جاتی ہے تو کبھی مسلمانوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اپنے آس پاس رہنے والے احمدیوں پر نظر رکھیں اور اگر کوئی احمدی قربانی کرتا ہوا پایا جائے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جائے تاکہ وہ آئینی غیرمسلموں کی جانب سے شعائر اسلامی کی پیروی کرنے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 (سی) کے تحت مقدمہ قائم کر سکے۔

اس مرتبہ بھی یہ کام پورے جوش و خروش اور عقیدت سے سر انجام دیا گیا (مذہبی جوش و خروش اور عقیدت کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ آگے آ رہی ہے)۔ لاہور میں تحفظ ختم نبوت فورم پاکستان کے صدر محمد گلزار کی جانب سے بینرز آویزاں کیے گئے جن میں مسلمانوں کو یہ معلومات دی گئیں کہ پاکستان کے قانون 298 (سی) کے مطابق قادیانی (احمدی) ”شعائر اسلام“ یعنی قربانی نہیں کر سکتے۔ خلاف ورزی کرنے والے کے بارے میں پولیس کو اطلاع دیں۔

انہی بینرز میں یہ عزم بھی ظاہر کیا گیا کہ پاکستان کے آئین کی پاسداری کرنا محمد گلزار صاحب اور دیگر مسلمانان پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے۔

حیرت مگر اس بات پر ہوتی ہے کہ احمدیوں کے شعائر اسلام یعنی قربانی پیش کرنے کے بارے میں جس پولیس کو اطلاع دینے کے بارے میں کہا جا رہا ہے وہی پولیس اگر خود غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام میں ملوث پائی جائے تو پھر استغفراللہ کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

عید سے دو روز قبل سوشل میڈیا پر پنجاب پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آپریشن کے دستخطوں سے جاری کردہ ایک سرکلر اپ لوڈ کیا گیا جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ آئی جی پنجاب نے تمام شہروں کے ڈی پی اوز کو احکامات دیے ہیں کہ اگر کہیں کوئی قادیانی قانون 298 (سی) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قربانی کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ پولیس کو اطلاع کرنا آپ کا اسلامی اور قومی فریضہ ہے کیونکہ قربانی اور نماز عید اسلامی شعائر ہیں اور قادیانی اسلامی شعائر استعمال نہیں کر سکتے۔ پولیس کو اطلاع کر کے اپنے شعائر کو محفوظ بنائیں یا ہم سے رابطہ کیجیے۔

سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر سے احمدی کمیونٹی میں اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی۔ تاہم جب یہ معاملہ اے آئی جی آپریشن (جن کے دستخطوں سے یہ سرکلر جاری کیا گیا تھا) کے علم میں آیا تو انہوں نے اس سرکلر کو جاری کرنے کی تردید کی اور فوری طور پر اس کی تحقیق اور تفتیش کے احکامات جاری کر دیے۔

معاملے کی جانچ کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ پولیس کے ایک سینیئر کلرک عبد الرشید نے جونیئر کلرک سرمد رسول کی مدد سے مذکورہ جعلی لیٹر تیار کروایا۔ اس پر اے آئی جی آپریشن کے جعلی دستخط کیے اور جعلی حوالہ نمبر لگا کر حسن ولد حافظ سلیمان سکنہ سنگھ پورہ کے حوالے کیا جس نے اسے سوشل میڈیا پر جاری کر دیا۔ حسن کے بارے میں کہا جا رہا ہے اس کا قریبی تعلق مبینہ طور پر لاہور کی ایک نمایاں مذہبی شخصیت سے ہے۔

تینوں ملزمان کے خلاف تھانہ انارکلی لاہور میں ایف آئی آر نمبر 18/387 زیر دفعہ 420 (دھوکا دہی، بددیانتی)، 468 (جعلی دستاویز بنانا)، 471 (جعلی دستاویز کو اصل کی حیثیت میں استعمال کرنا) درج کی جا چکی ہے۔

قانون تو اپنا کام کرتا رہے گا مگر یہاں اور ایک حساس نوعیت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ ختم نبوت ایک حساس معاملہ اور مسلمانوں کے لیے جذباتی حیثیت رکھتا ہے۔ ختم نبوت کے نام پر اس طرح کی جعل سازی اور دھوکا دہی کرنا کیا خود ایک بڑا جرم نہیں ہے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ ختم نبوت کے ایسے جھوٹے محافظین کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس حساس ترین مسئلے پر عوامی جذبات کو مشتعل کرنے سے گریز کیا جائے۔ احمدی ویسے ہی پاکستان میں نہایت خوف بھری زندگیاں گذار رہے ہیں۔ اس قسم کی اشتعال انگیزی ان کے خلاف کسی نئے فساد اور خون ریزی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

پاکستان میں نئی حکومت نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ اس حکومت کا دعویٰ نیا پاکستان بنانے کا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں اقلیتوں کی حفاظت کا بھی ذکر کیا تھا۔ ختم نبوت کے نام پر یہ جعل سازی ان کی حکومت کے پہلے دن میں ہی کی گئی ہے۔ کاش وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کر سکیں۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad