کیا آپ قربانی کا سارا گوشت خود رکھ سکتے ہیں؟
شروع سے ہی ہم اپنے گھر اور دیگر جاننے والوں میں یہ دیکھتے آ رہے ہیں کہ قربانی کے گوشت کے لازماً تین حصے کیے جاتے ہیں۔ ایک اپنے لئے، ایک اقربا کے لئے اور ایک ناداروں کے لئے۔ کچھ ایسے خوشحال لوگ بھی ہیں جو ایک سے زیادہ جانور قربان کرتے ہیں اور بہت تھوڑا حصہ اپنے پاس رکھ کر باقی سارا گوشت غربا میں بانٹ دیتے ہیں۔
عید قربان پر یہ چیز اہم ہے کہ ان غربا کو بھی گوشت کھانے کو مل جاتا ہے جو باقی سارا سال اسے کھانے سے محروم رہتے ہیں۔ صدر ایردوان کا ستم ٹوٹنے سے پہلے پاکستان میں ہمارے ترک دوستوں کو بیرون ملک سے اچھی خاصی مقدار میں عطیات ملتے تھے کہ ہماری طرف سے قربانی کر کے سارا گوشت بانٹ دو۔ ان کا صرف مظفر گڑھ کا سینٹر دو سو سے زیادہ گائیں قربان کر کے غریبوں میں بانٹ دیتا تھا۔ ادھر کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک مرتبہ ایک ترک نے بتایا کہ اس نے گوشت کا حصہ ایک بڑھیا کو دیا تو وہ جھولی اٹھا اٹھا کر دعائیں دینے لگی کہ بیٹا تمہاری وجہ سے اب ہمیں سال میں ایک مرتبہ گوشت کھانا نصیب ہونے لگا ہے۔
امرا کے لئے قربانی کے جانور کی قیمت زیادہ نہیں ہوتی اور وہ کھلے دل سے غریبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ہمارے جیسے نسبتاً خوشحال مڈل کلاسیے بھی گزارا کر لیتے ہیں اور اچھی مقدار میں گوشت تقسیم کر دیتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جو بمشکل قربانی کر سکتے ہیں، کیا ان کے لئے لازم ہے کہ وہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کریں اور خود صرف ایک تہائی گوشت رکھ کر باقی گوشت اقارب اور غربا میں بانٹ دیں، یا پھر وہ سارا گوشت خود استعمال کر سکتے ہیں؟ ان کے علاوہ وہ خوش خوراک افراد بھی جو اپنا سالم بیل یا اونٹ خود کھانے کی خواہش رکھتے ہیں اور فریزر میں رکھ لیتے ہیں لیکن اپنے ضمیر کی خلش ان کو پریشان کر چھوڑتی ہے، کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں یا نہیں؟
دار الافتا دیوبند کے دو فتوے ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مالی طور پر تنگ دست افراد کے لئے راحت کا باعث ہوں گے اور اپنے سالم اونٹ کو نوش کرنے کا ارادہ رکھنے والے صاحب حیثیت افراد کو بھی کچھ تسلی دیں گے۔ علمائے دیوبند کے مطابق آپ قربانی کا سارا گوشت خود استعمال کر سکتے ہیں۔ تین حصے کر کے تقسیم کرنا مستحب تو ہے، مگر واجب یا فرض نہیں۔
پہلا فتوی
سوال نمبر 153831: بخدمت صدر مفتی صاحب دامت برکاتہم، مادر علمی دار العلوم دیوبند، حضرت والا الموقر کے دربار عالیہ میں عرض یہ کہ گندہ بندہ کو اس مسئلہ کا حل قرآن و سنہ کے روشنی میں دیجئے کہ ہمارے سماج میں ایک رسم و رواج ہیں کہ قربانی دینے والا عید اضحیٰ میں اپنی جانور کے گوشتوں کو تین قسم پر تقسیم کرتے ہیں، پہلا حصہ خود کھانے کے لئے جمع رکھتا ہے، دوسرا حصہ فقراء اور مساکین اور دوست احباب میں تقسیم کرتا ہے، اور تیسرا حصہ سماج والوں نے زبردستی کرکے مجبوراً لے جاتا ہے بلکہ اس تیسرا حصہ کو قربانی دینے والا سے زبردستی کرکے لیا جاتا ہے اکثر وقت قربانی دینے والا اس پر ناراض رہتا ہے مع جھگڑا بھی ہوتا ہے سماج والوں کی ساتھ، اسی طرح محلہ کے ہر فرد سے لیا جاتا ہے اور سب گوشتوں کو جمع کرکے عوام ( قربانی دینے والا، قربانی نہ دینے والا، مالدار، فقراء، مساکین، سب کے سب ) میں تقسیم کیا جاتا ہے، قربانی دینے والوں میں سے بہت افراد کے قربانی منت کا بھی ہوتا ہے اور حرام مال سے بھی دیا جاتا ہے۔
اب بندہ جاننا چاہتا ہے کہ:
(1) اصول مذکورہ پر گوشتوں کی سماجی تقسیم عوام میں کرنے کو شریعت کیا کہتے ہیں؟ جائز ہے یا نہیں؟
(2) میری قربانی کے گوشت کو سماج کے تمام لوگوں میں سماج کی مذکورہ اصول پر تقسیم کر سکتا ہوں یا نہیں؟ اور اسی اصول پر ہم بھی گوشت کو لے سکتا ہوں یا نہیں؟
(3) سماج کے کل افراد کے گوشت کو جمع کرکے تقسیم کرنے کے لئے شریعت کا کیا فیصلہ؟ اگر کوء اصول ہوں بتا دیجئے۔
اگر فوری طور پر جواب دیا جائے تو انشاء اللہ ہمارا سماج قرآن و سنہ پر عمل کر سکتا ہے۔ مع السلام۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: Fatwa: 1427۔ 1378/L=12/1438
قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ خود رکھ لینا، ایک حصہ کو اعزاء اقرباء میں تقسیم کردینا اور ایک حصہ فقراء کو دیدینا مستحب ہے، واجب اور ضروری نہیں ہے، اگر قربانی کرنے والا پورا گوشت خود استعمال کرلے تو اس کی بھی گنجائش ہے پھر تقسیم کرنے میں قربانی کرنے والاخود مختارہے وہ جہاں چاہے اور جس کو چاہے دے ؛اس لیے سماج والوں کا ایک حصہ زبردستی لے لینا جائز نہیں؛البتہ اگر کوئی خوشی سے تقسیم کا اختیار سماج کو دے دے تو سماج والوں کے لیے اس کو تقسیم کرنے کی اجازت ہوگی۔
دوسرا فتوی
سوال نمبر 163753: محترم جناب مفتی صاحب مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کم آمدنی والا ملازم ہوں میرے چار بچے ہیں، میری شادی کو تقریباً16 سال ہوچکے ہیں، میرے پاس اتنا پیسہ یا جمع پونجی نہیں کہ میں قربانی کر سکوں یا مجھ پر قربانی واجب آئے اور میں نے ابھی تک اپنے بچوں کا عقیقہ بھی نہیں کیا ہے۔
اس بار میں نے یہ سوچا ہے اگر میں اس بار قربانی پر قربانی کے جانور میں سات حصہ لوں اور ہبہ کرلوں مگر خیال رہے کہ میں صاحب استظاعت نہیں ہوں تو میں اس قربانی میں عقیقہ کا حصہ ڈالوں یانہیں اور اگر حصہ ڈال بھی دوں تو اس میں سے گوشت بانٹنے کے حوالے سے کیا حکم ہے؟ کیا میں اُن کو گوشت بانٹ سکتا ہوں جنہوں نے قربانی کی ہوئی ہو یا نہیں یا میں قربانی کی طرح اپنے پاس گوشت رکھ سکتا ہوں؟
براہ کرم، قرآن و سنت کی روشنی میں میرے اس مسئلے کا حل بتائیں۔ اللہ پاک آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے۔
جواب: Fatwa:1191۔ 968/B=11/1439
(1) قربانی کے بڑے جانور میں حصہ لینے سے بھی عقیقہ ادا ہوجاتا ہے، لہٰذا آپ بیٹے کی طرف سے دو اور بیٹی کی طرف سے ایک حصہ لیں۔
(2) اس سلسلے میں مستحب یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرکے، ایک تہائی غریبوں کو صدقہ کردیا جائے، ایک تہائی اقرباء کے درمیان تقسیم کیا جائے اور ایک تہائی گھر میں رکھ لیں، البتہ اگر سارا گوشت گھر میں بھی پکالیں یا رکھ لیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
والأفضل أن یتصدق بالثلث ویتخذ الثلث ضیافة لأقربائہ وأصدقائہ ویدّخر الثلث۔ لو حب سالکل لنفسہ جاز (رد المحتار: 9/ 474، کتاب الأضحیة، ط: ذکریا دیوبند) وکذا لو أراد بعضہم العقیقة عن ولد قد وُلِد لہ من قبل؛ لأن ذلک جہة التقرب بالشکر علی نعمة الولد (رد المحتار: 9/ 472، کتاب الأضحیة، ط: ذکریا) سواء فرق لحمہا نیا أو طبخہ۔ واتخاذہ دعوة أولا۔ رد المحتار: 9/ 485، کتاب الأضحیة/ قبیل باب الحظر والإباحة، ط: ذکریا دیوبند)


