انگریزی علیہ السلام کی امت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی آپ کی ملاقات فر فر انگریزی بولنے والے کسی شخص سے ہوئی ہے۔ ایسا شخص جس کو دیکھ کر یہ تاثر پیدا ہو کہ یہ شخص پڑھا لکھا ہے، اگر آپ پر ایسا کوئی تاثر پیدا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ احساس کمتری کا شکار ہیں اور اپنے علم اور اپنی انگریزی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ رشتہ لگانے والی ایک ماما گھروں پر گھوم گھوم کر اکثر یہ اعلان کرتی ہیں کہ لڑکی اچھے گھرانے کی ہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، گوری چٹی ہے اور کیا تیز انگریزی میں بات کرتی ہے کہ آپ منہ ہی تاکتے رہ جائیں۔ یہ بھوت کیسے لوگوں کے سر پر منڈرایا کہ انسان انگریزی پڑھا ہوا ہو تو پڑھا لکھا ہوتا ہے، بصورت دیگر اس کی سوچ، اس کے خیالات، اس کی فکر اور اس کے علم کو سوالیہ نشان کے ساتھ دماغوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ کسی زبان کا جاننا بہت اچھی بات ہے، اور پھر ایسی زبان کی تو بات ہی کیا، جس میں دنیا بھر کے مختلف علوم بھرے پڑے ہوں، مگر کتابوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا، باتوں کو سوچ سوچ کر کرنا اس کے مقابلے میں کافی اہم ہے کہ انسان بغیر سوچے سمجھے بتیاتا پھرے۔

مجھے یاد ہے کہ اب سے قریب پندرہ سولہ سال پہلے جب میں اردو کے بیشتر ناولز پڑھا کرتا تھا تو ڈکشنری کی مدد لیا کرتا تھا۔ الفاظ کا ذخیرہ جتنا جمع ہوسکے ایک لکھنے والے کےلیے اتنا ہی کارگر ہے۔ مگر محض الفاظ لکھتے وقت آپ کا ساتھ نہیں دیتے۔ جو چیز زیادہ اہم ہے، وہ ہے فکر اور فکری رویہ۔ قابلیت کسی تنہا زبان کی غلام نہیں ہے۔ آج بھی جب میں فکشن یا نان فکشن پڑھتا ہوں تو بہت سی اصطلاحوں پر اٹکتا ہوں، لفظوں کو چھانتا پھٹکتا ہوں اور میرے پڑھنے کی رفتار نہایت سست ہے۔ انگریزی تو دور کی بات ہے اردو کا کوئی ناول بھی میں ایک ہفتے میں ختم نہیں کرسکتا۔ وجہ یہ ہے کہ مجھے جملے، پیراگراف یا پھر ان کی زبان، اسلوب اور بیانیہ روکتا ہے، کئی دفعہ میں ان پر غور کرنے میں کچھ زیادہ وقت صرف کرتا ہوں۔ چیزیں سمجھ میں آجائیں تو آگے کی جانب بڑھتا ہوں۔ انگریزی تحریریں اور انگریزی ناولز پڑھنا اسی طرح کا ایک تجربہ ہے۔ اس میں بڑا لطف آتا ہے، آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں اور نئی سےنئی باتیں جانتے ہیں۔ پڑھتے ہیں، دوبارہ پڑھتے ہیں، پھر بھولتے ہیں، پھر یاد کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ سلسلہ مستقل اسی طور پر چلتا رہتا ہے اور یہی سیکھنے کا عمل ہے۔ جب تک آپ اس سیکھنے کے عمل سے جان چرائیں گے اور اس کی جگہ اس بات پر زور دیں گے کہ آپ کسی کال سینٹر میں انٹرویو دینے کے لائق ہوجائیں، انگریزی کے چند جملےنہایت تیزی سے دوسروں کی طرف اچھالنے میں ماہرہوجائیں۔ آپ ایک غلط سمت میں دوڑتے رہیں گے۔

زبان ایک خوبصورت جنگل ہے۔ جس میں طرح طرح کے پھول، نت نئے قسم کی پتیاں، عجیب و غریب راستے، پگڈنڈیاں اور تناور یا کھوکھلے سبھی قسم کے درخت پائے جاتے ہیں۔ اس جنگل میں گھوم کر اس کو ٹھیک سے دیکھنا چاہیے، یہاں کے جانوروں، درندوں، پرندوں کی خوبصورتی، ان کے رویے اور ان کے جنم مرن کا ٹھیک سے ادھین کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے اگر آپ زبان کو ایک سیدھی چکنی سڑک بنادیں۔ چند سو الفاظ کے سہارے اپنی زندگی گزارنے پر اکتفا کرلیں تو آپ نے کیا کھویا ہے، اس کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے۔ زبانیں رعب جمانے کے لیے نہیں، علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ یہ ذریعہ ایک خوبصورت دنیا کے سفر پر لے جانے پر قادر ہے، مگر اسے کسی پیر پیغمبر یا مقدس فرشتے کا درجہ دے دینا بے حد بے وقوفی کی بات ہے۔

سیدھی چکنی سڑک پر چلنے سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان پھسلتا جاتا ہے، اس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔ مگر جنگل میں موسموں کے ساتھ بدلائو ہوتے ہیں۔ زبان بھی اسی طرح کے مستقل رد و بدل کا ایک مرکز ہے۔ اس کو جامد سمجھ لینا ایک بھول ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کی مختلف زبانوں کی لغات بعض دفعہ اپنے وجود میں ایسی رنگا رنگ، لائق مطالعہ اور دلچسپ ہوتی ہیں کہ ان کا مقابلہ بہتر سے بہتر ناول نہیں کرسکتا۔ معنی کی دنیا کثیر ہے۔ پھر بولنے اور سمجھنے والی وہ زبان جو مقامی ہے، اپنے مقامی رخ سے دور ہوتے ہوئے کچھ الگ ہوجاتی ہے، ان اختلافات کو سمجھنے کا تجربہ اتنا شاندار ہے کہ ہم ان پرجتنا غور کریں انہیں اتنا ہی بہترین پائیں گے۔

کچھ باتیں سمجھنے کی ہیں۔ آپ نے کتاب انگریزی میں پڑھی ہے یا اردو میں۔ یہ ضمنی مسئلہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے کتاب پڑھی ہے یا نہیں۔ دوسری بات آپ کسی مقامی زبان میں سوچتے ہیں یا عالمی زبان میں، یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ سوچتے بھی ہیں یا نہیں۔ میں نے بالی ووڈ کی کسی فلم میں ایک اداکارہ کے منہ سے یہ الفاظ سنے تھے جو یاد رکھنے کے لائق ہیں کہ’ ہم نےنئے دور میں معلومات کو اس درجہ اہمیت دی ہے کہ ہم فکر و دانائی کو بالکل بھلا چکے ہیں۔

آئے دن ہم ان باتوں پر بحث کرتے ہیں کہ انگریزی سکول میں اپنے بچوں کو پڑھانے والے والدین فخر بے جا کا شکار ہیں یا نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس سے زیادہ ضروری مباحث کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ والدین اپنے بچوں کو نئی چیزیں جاننے کی جانب کس حد تک راغب کرتے ہیں۔ یہ سوال ان والدین کے لیے بھی اہم ہونا چاہیے، جو اپنے بچوں کو محض اردو یا ہندی اس لیے پڑھاتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو ہماری مادری زبان کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ زبانوں کا وجود و عدم کچھ نہیں ہوتا۔ لوگوں کا ہوتا ہے، ضرورتوں کا ہوتا ہے۔ جو زبان جس معاشرے کے لیے جتنی غیر ضروری ہوگی، اس کو کتنا ہی گھٹنے کی نیچے دبانے کی کوشش کرلیجیے، وہ پھسل ہی جائے گی۔ مگر یہ سوچنا بھی اہم ہے کہ معاشی ترقی اور دماغی ترقی دونوں باتیں ضروری ہیں۔ معاشی ترقی یہ ہے کہ انسان اپنے گھر میں رہتا ہو، اس کے پاس رہنے، کھانے پینے کی بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ کتابیں یا اپنے شوق کی دیگر چیزیں خریدنے یا انہیں پورا کرنے کے لیے اسے اس کا اس کا منہ نہ تاکنا پڑتا ہو، اور گھر میں وہ تمام بنیادی ضرورت کی اشیا ہوں جو کاموں کو آسان کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جیسے فرج کھانا سڑنے سے بچانے میں اور واشنگ مشین کپڑے دھونے میں۔ مگر اس سے زیادہ اگر کسی چیز کو آپ معاشی ترقی سمجھتے ہیں تو آپ معاشی ترقی کے کسی غیرضروری اور زائد تصور سے وابستہ ہیں۔ اسی طرح دماغی ترقی یہ نہیں کہ انسان غزل یا نظم گڑھ لیتا ہو، دماغی ترقی انسان اور اس کے ماحول میں ایک امید افزا اور بہتر نقطہ نظر کی تشکیل کی طرف لے جانے والی چیز ہے۔ تیزی سے انگریزی بولنا ایک قسم کا ایک میکانزم ہوسکتا ہے، ترقی نہیں۔ ترقی انسانی حال اور مستقبل سے متعلق ایک بہتر فکر کی نمائندگی کے لائق ہونا ہے۔ سماج اورمذہب کے اصولوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے، پرکھنے، اپنانے یا رد کرنے کے اصول قائم کرنے کے لائق ہونا ہے۔

ایسا دماغ جو کوئی بھی زبان مقامی افراد کی طرح بولنے میں خود کو صرف کرتا ہے، دراصل خود کو ایک ایسے کام میں لگاتا ہے، جو ضمنی ہے، اصل نہیں۔ پہیے سے لے کر کونڈم کی ایجاد کرنے والوں تک، کبھی کسی کے لیے یہ خیال نہیں آتا کہ ان کی مادری زبان کیا تھی، تھی بھی یا نہیں۔ مگر یہ نکتہ بے حد دلچسپ لگتا ہے کہ کیسے انہیں ان باتوں کا خیال آیا۔ اور انہی باتوں سے محسوس ہوتا ہے کہ فکر وہ بنیادی چیز ہے، جس کے بغیر انسان کا اصل معنوں میں ارتقا غیر ممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •