مولانا فضل الرحمٰن کی آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید: اندرونی کہانی
اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ( اے پی سی ) کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ تمام جماعتوں نے باہمی مشاورت کے بغیر اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار نامزد کرنے پر پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کی۔ مولانا فضل الرحمان نے تو پیپلز پارٹی کے وفد کو کھری کھری سنا دیں، اس پر پیپلز پارٹی کو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنا پڑا۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والی اے پی سی میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کئی گلے شکوے بھی ہوئے تاہم مسلم لیگ ن نے مشروط رضا مندی ظاہر کر تے ہوئے کہہ دیا کہ صدارتی امیدوار بے شک پیپلز پارٹی کا ہو مگر اعتزاز احسن کی بجائے کوئی اور ہو۔
پاکستان کا نیا صدر کون ہوگا؟ جس کا انتخاب 4 ستمبر کو ہونے جا رہا ہے اور آج ہونے والی اے پی سی میں اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار لانے کا بھی اصولی فیصلہ ہو گیا اور مسلم لیگ ن بھی صدارتی امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کا لانے پر راضی ہو گئی ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مری اجلاس میں متحدہ اپوزیشن میں اتفاق پایا گیا کہ مشترکہ صدارتی امیدوار پیپلز پارٹی کا ہی ہوگا تاہم اس کی قیادت کی جانب سے 3 نام قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو پیش کیے جائیں گے، جن میں سے وہ ایک نام کا اعلان کل یعنی اتوار کو کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے وفد نے علیحدگی میں مشاورت کی، جس میں انہوں نے قیادت سے رابطے کی کوشش کی، پھر اجلاس میں واپس آ کر بتایا کہ قیادت سے رابطہ نہیں ہو سکا،جس کے بعد بعض شرکاء نے ان پر طنز بھی کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کی طرف سے معاہدے کے باوجود شہباز شریف کو ووٹ نہ دینے پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو ہدف تنقید بنایا، پیپلز پارٹی کے وفد نے کہا ان کی پارٹی نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا جس پر وہ قائم رہی۔ پیپلز پارٹی کی جب باری آئی توانہوں نے سینیٹر پرویز رشید کے اس بیان پر اعتراض اٹھایا کہ ان کے صدارتی امیدوار اعتزاز احسن پہلے نواز شریف سے معافی مانگیں، اس کے جواب میں خواجہ آصف نے واضح کیا کہ یہ بیان پرویز رشید کا ذاتی تھا، وہ مسلم لیگ ن کی پالیسی نہیں تھی۔


