سلیم صافی اور سادگی کی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دنوں سے سلیم صافی کے متعلق سوشل میڈیا پر واویلا ہے ان کے اس بیان سے متعلق کہ سابق وزیراعظم نواز شریف وزیراعظم ہاوس کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے یہ باتیں محترم صافی صاحب نے تب فرمائی جب وزیراعظم پاکستان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے بجائے اس کے روایتی طور پر ایک تقریر کرتے اور کہتے کہ ہم پانچ سال میں دنیا فتح کرلیں گے۔ کشمیر فوری طور پر انڈیا سے چھین لیں گے۔ امریکہ کی اب ایک نہیں چلنے دیں گے۔ پاکستان کے دریاوں اور سمندر پر موٹروے کا جال بیچھا دیں گے ۔ پاکستانی معشیت کی غلامی امریکی ڈالر سے بھی کروائیں گے۔ لیکن انہوں نے ایسے موضوعات پر تقریر کی۔ جن پر نہ کبھی میں نے رپورٹنگ کی ہوگی اور نہ میرے محترم سیلم صافی نے اپنے پروگرام میں ان موضوعات پر بحث کی ہوگی۔

لہذا جب خطاب کا اختتام ہوا تب سیلم صافی صاحب سے تجزیہ لینے کی باری آئی تو موصوف بجائے اس کہ خطاب کے ان پہلو پر بات کرتے جو عام آدمی سے جڑیں ہیں جن کا ذکر اب تک پاکستان کے کسی بھی حکمران نے نہیں کیا۔ بجائے اس کہ کہ لاکھوں لوگ سیلم صافی جیسے قابل صافی کی بات نہ صرف سنتے ہیں بلکہ اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اس لیے وہ کہتے کہ ہاں عمران خان نے جن مسائل کی نشاندہی کی اس کے لیے میڈیا اور بالخصوص وہ کردار ادا کریں گےتاکہ قوم متحد ہوکر ان حالات کا مقابلہ کرے۔

بجائے اس کہ کہ وہ کہتے کہ پاکستان میں پینے کا صاف پانی کی کمی۔ زچگی کے دوران پاکستانی ماؤں اور بچوں کی اموات پر بات کرنا ضروری تھی بجائے اس کہ وہ کہتے کہ عمران خان نے ایک نئی ڈاکٹرائن پیش کردی ہے۔ بجائے وہ موازنہ کراتے کہ امریکہ آج جو سپر پاور ہے اپنی تاریخ کہ ہمیشہ نازک ادوار میں یہی پالیساں اختیار کرتا رہا ہے چاہے وہ پہلی جنگ عظیم ہو یا ساٹھ اور ستر کی دہائی میں پیش کی گئی جانسن ڈاکٹرائن۔ جس میں دنیا کے بجائے اپنی قوم کی فکر اور سوچ کی باتیں تھی کہ اپنے ملک کو بہتر بنانا ہے لیکن میرے قابل احترام نے صرف اس بات پر زور دیا کہ عمران خان جو سادگی کی باتیں کررہے ہیں وہ ہو ہی نہیں سکتا گو اپنی اس ایک بات سے ان تمام لوگوں کی خواہش بھی بدل دی جو عمران خان کی تقریر سنتے ہوئے یہ سوچ رہے تھے کہ اب وقت ہے خود کو بدلنے کا۔

پھر موصوف نے ایک ایسے صاحب کی مثال دی جو اپنی شاہ خرچیوں کے لیے مشہور تھے۔ چارٹر جہاز سے اپنے لیے پائے منگوانے کی بات ہو یا مری میں گرمیاں گزارتے ہوئے خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھانا منگوانے کا چرچا۔ بیرونی دوروں پر فوج ظفر موج کے قصے ہوں۔ وزرا اور مشیروں کی لمبی فہرست ہوں یا صوابدیدی فنڈز کا بے دریغ استعمال سمیت کئی اور حقائق ہیں جن کے سامنے یہ بات مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ نواز شریف وزیراعظم ہاوس کے اخراجات جیب سے ادا کرتے تھے۔

یہ تمام باتیں کرنے کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ ہر انسان کہیں نہ کہیں کسی کے ساتھ جانبداری رکھتا ہے چاہے وہ مانے یا نہ مانے اور اسی طرح ہر انسان کسی نہ کسی مقام پر کسی نہ کسی سے نفرت کرتا ہے لیکن بطور صحافی یہ ہماری ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہم نہ صرف اپنی تحاریر سے اپنی جانبداری کے عنصر کو سامنے نہ آنے دیں۔ کیونکہ لوگ نہ صرف ہماری باتوں کو سچا مانتے ہیں بلکہ ہم سے یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ ہمارا کام معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ لیکن جب بھی ہم اس لکیر کو عبور کریں گے لوگ ہمارا اسی طرح مذاق اڑاتے رہیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ذیشان انور کی دیگر تحریریں
ذیشان انور کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں