ترکی میں امریکی پادری کی گرفتاری اور امریکہ سے بگڑتے تعلقات
ترکی اورامریکہ کے بگڑے تعلقات پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں اول تو دونوں ممالک امریکہ اور ترکی سے پاکستان کے تعلقات کی ایک اہمیت موجودہے دوئم ترکی سے گہرے ذہنی روابط بھی پاکستانی اور پاکستان کے لیے ایک اہم امر ہے۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ پاکستانی ابھی سے ترکی کرنسی لیرا خریدنے پر اتر آئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر العظیم تو لاہور میں اس مہم کی قیادت بھی کر رہے ہیں امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں بگاڑ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب ترکی نے گرفتاری پادری اینڈریو برنسن کو رہا کرنے سے ترک حکومت نے انکار کر دیا۔
یہ پادری ترکی کے شہر ازمیر کے ایک گرجا گھر سے وابستہ ہے اور اس پر ترک حکومت نے یہ الزام عائد کیا کہ یہ فتح اللہ گولن کی تحریک اور کردستان ورکرز پارٹی سے روابط رکھتا ہے۔ اکتوبر 2016ء میں یہ گرفتاری عمل میں آئی۔ پادری اینڈریو برنسن نے ان معاملات میں ملوث ہونے سے انکار کیا مگر ترک عدالت نے تاحال اس کو رہا کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکہ نے اس حوالے سے ترکی پر کچھ اقتصادی پابندیاں اور سختیاں عائد کردیں۔ اور اس کے نتیجے میں ترکی کی کرنسی لیرا ایک تہائی اپنی قدر کھو بیٹھی اور ترکی میں ایک اقتصادی بحران کی کیفیت پیدا ہو گئی مگر یہ معاملہ صرف یہاں تک محدود نہیں ہے اور نہ ہی تنہا یہ واقعہ ان تمام واقعات کا سبب بنا بلکہ دونوں ممالک میں کشیدگی کے حالات درحقیقت شام میں جاری خانہ جنگی کے حالات سے جڑے ہوئے ہیں۔
ترکی ایک طویل عرصے سے کرد علیحدگی پسندوں سے نبردآزما ہیں اور وہ ان پر دہشت گردی کے الزامات بھی عائد کر تا رہتا ہے جب شام میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو امریکہ نے بشارالاسد حکومت گرانے کی غرض سے ہر حربہ اختیار کیا وہاں پر جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا ہونے دیے کہ داعش اپنے قدم جما لیے اور پھر داعش کے خلاف کارروائی کا بہانہ کرتے ہوئے کردوں کو وسائل فراہم کرنا شروع کردیئے کہ یہ داعش سے لڑینگے ترکی کے لیے خطرے کا سائرن بج گیا کیونکہ مسلح کردوں کی موجودگی کا بالآخر حقیقی نقصان ترکی کی علاقائی سالمیت کو ہی پہنچنا تھا لہذا ترکی نے ان امریکی حمایت یافتہ کردوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا اور امریکہ کے گیم پلان کو خراب کرنا شروع کر دیا امریکہ اس سے بہت کبیدہ خاطر ہوا اسی دوران صدر اردگان نے امریکی فوجیوں کے حوالے سے بھی سخت بیان دے ڈالے۔
امریکہ نے ایک فضائی اڈا فوراً اپنے استعمال میں لانا چاہا مگر ترکی اس معاملے پر اس سے تقریباً ایک سال تک گفتگو کرتا رہا امریکہ میں یہ خیال تقویت پا گیا کہ ایسا ترکی جان بوجھ کر رہا ہے پھر ترکی نے ایران کے معاملے پر بھی امریکہ کی حکمت عملیوں کا ساتھ نہ دیتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار کیا کہ جس سے ایران کو اس معاملے پر بہت سہارا مل گیا اور امریکہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اس کے ترکی کے بین الاقوامی مفادات میں یکسانیت نہیں رہی۔ اسی دوران ترکی نے روس سے S400 ایڈوانسڈ ائیر ڈیفنس سسٹم کی خریداری کے لیے کامیاب مذاکرات کر لیے۔
نیٹو کا ساتھی ملک اور روس سے اس نوعیت کا دفاعی معاہدہ ترکی بدلتے تیور بالکل سامنے آگئے۔ امریکہ کا ترکی سے ایسا تو کوئی معاہدہ تو نہیں تھا کہ وہ اس معاہدے سے ترکی کو روک سکتا مگر اس نے یہ طریقہ کار اختیار کیا کیونکہ ترکی جدید ترین F35 طیارے استعمال کر رہا ہے اور روس سے S400 سسٹم خریدنے کے بعد روس کی رسائی ان طیاروں پر ہو سکتی ہے اور روس اس طرح ان طیاروں کو Detect کرنے کے لیے ضروری معلومات حاصل کر سکتا ہے چنانچہ ترکی کو روس سے ایسا معاہدہ نہیں کرنا چاہیے مگر ترکی امریکہ کو بالکل خاطر میں نہیں لایا۔
ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے ترک حکومت کے خیال میں فتح اللہ گولن اور ان کی گولن تحریک کا ہاتھ تھا۔ ترکی امریکہ سے یہ چاہتا ہے کہ وہ فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کر دے لیکن امریکہ نے مؤقف اختیار کر رکھا ہے کہ وہ امریکی گرین کارڈ کے حامل ہیں اس لیے امریکہ ان کو ترکی کے حوالے نہیں کر سکتا۔ اسی دوران امریکہ اور ترکی کی دوہری شہریت کے حامل پندرہ سے بیس افراد کو ترکی میں گولن تحریک سے وابستہ اور ناکام فوجی بغاوت میں شمولیت کے الزامات میں دھر لیا گیا۔ ان افراد میں ناسا کا ایک سائنسدان بھی شامل ہے۔ ترکی نے تین ان ترک باشندوں کو بھی انہیں الزامات کے تحت حراست میں لے لیا جو امریکی سفارتخانے میں ملازمت کرتے تھے۔
امریکہ نے ان تمام افراد کی رہائی کی غرض سے ترکی پر زبردست دباؤ ڈالنا شروع کر دیا مگر ترکی فتح اللہ گولن کی حوالگی پر ہی مصر رہا۔ ترکی کے حوالے سے ایک اور بھی معاملہ سامنے آیا ہے کہ ترکی یہ چاہتا ہے کہ اگر فتح اللہ گولن کو حوالے نہ کیا جائے تو کم از کم اس ترک بینکار کو ضرور حوالے کر دیا جائے جس کو نیو یارک کی ایک عدالت نے ایران پر پابندیوں کے باوجود ایران کی مدد کرنے کے الزام میں پابند سلاسل کر رکھا ہے۔ لیکن امریکہ ان دونوں افراد کو ترکی کے حوالے کرنے پر رضامند نہیں۔
ان تمام حالات کے باوجود امریکہ میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو امریکہ سے ترکی کے تعلقات اور ترک میعشت کو بچانے کی غرض سے تین نکاتی، پانچ نکاتی اور دس نکاتی لائحہ عمل پیش کر رہے ہیں لیکن صدر ٹرمپ کے سخت ٹویٹس واضح کرتے ہیں کہ وہ فی الوقت اس کشیدگی کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ کا یہ بیان کہ ”وہ اینڈریو کو رہا کر دیں ورنہ ہمارے پاس اور بھی سخت پلان موجود ہے“ اس امر کا عکاس ہے کہ معاملہ الجھتا چلا جائے گا۔
ترکی بھی اپنی کرنسی کو بچانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اس لیے امریکی مصنوعات کاروں، الکوحل اور تمباکو پر ٹیرف کو بڑھا دیا ہے۔ اس سبب سے ترکی کی کرنسی کو ہلکی سی بہتری نصیب ہوئی ہے۔ ترکی کے وزیر خزانہ بیرات البیراک، جو ترک صدر اردگان کے داماد بھی ہیں، نے معیشت کو بچانے کے لیے تین نکاتی لائحہ عمل پیش کر دیا ہے۔
اس دوران منگل کو روس کے وزیر خارجہ سر گئی بھی ترکی کے دورے پر پہنچ گئے ہیں اور ان کے پہنچنے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ معاملہ صرف امریکہ اور ترکی کے مابین نہیں رہے گا بلکہ دیگر طاقتیں بھی کسی وقت بھی معاملات کاحصہ بن جائیں گی۔


