پنجابی مرد ذات برادری اور عورت زیور سے کب آزاد ہو گی؟


کافی سوچا کہ لیپٹ کر لکھا جائے لیکن لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ مرض بگڑ جا ئے تو مریض کا علاج کرنا ہی پڑتا ہے۔ اگر مریض کو اس کی بیماری سے آگاہ کرنے کے بجائے بات گھمائی جائے گی تو مریض کو مرض سمجھنے میں دیر لگے گی۔ وہ اپنی بیماری کو سیریس لے گا نہ علاج پر ٹھیک طرح دھیان دے پائے گا۔ لفظوں کے ہیر پھیر سے بیماری بڑھ سکتی ہے، زخم پھیل سکتا ہے۔ اس لیے لگی لپٹی کے بغیر ہم پنجاب کے باسیوں کی ان شعوری اور فکری خامیوں کا ذکر کریں گے جن کی بنا پرعمومی طور پر معاشرہ تنزل کا شکار ہو رہا ہے۔

علمی اور ادبی لحاظ سے پنجاب کی زمین بڑی زرخیز ہے۔ اردو زبان وادب کی ترقی میں پنجاب نے اہلِ زبان سے زیادہ کردار ادا کیا ہے اور تعلیمی میدان میں بھی پنجاب سارے صوبوں سے آگے ہے۔ دین اسلام کی تبلیغ، اور دینی امور کی انجام دہی میں بھی اس صوبے کا کردار واضح ہے۔ لیکن فکری، شعوری اور سماجی اعتبار سے یہاں کی پڑھی لکھی خواتین اور مردوں کی سوچ میں تغیر دیکھنے میں نہیں آیا۔

سندھ کے شہر خیر پور میں ہماری علمی سرگر میوں کو بڑھاوا دینے والی ہماری خاص سہیلیاں غزالہ، فضا، شاہینہ، جویریہ، اور انصر پنجابی تھیں۔ عرصے سے یہ سندھ میں آباد تھے۔ ان لڑکیوں کو پڑھنے اور زندگی میں خاص مقام حاصل کرنے کا جنون تھا۔ غزالہ ان کی کزن تھی جو ہمارے گھر کے برابر میں رہتی تھی۔ دیوار سے دیوار ملی تھی۔ ساری لڑکیا ں رات رات بھر پڑھتی رہتی تھیں۔ سب ہی کو انگلش میں روانی کی دھن تھی۔ انگریزی میں بات نہ کرنے پر فائن تھا۔ پڑھا ئی کے علاوہ ادب پر گفتگو رہتی۔ زیور،کپڑے، اسٹیٹس،شادی، بیاہ اس بارے میں صرف ہنسی مذاق تک ہی بات ہوتی۔

سب ہی لڑکیوں کے والد اچھے عہدوں پر تھے۔ اسی دوران غزالہ کی شادی ہو گئی لیکن اسے اپنی تعلیم مکمل کرنی تھی اس لیے میکے ہی میں رہی۔ فضا کی ماسٹرز کرنے کے بعد شادی ہو گئی۔ فضا لیکچرر ہو گئیں، ان کے میاں فوج میں تھے۔ کتنا جہیز، جہیز میں کیا کیا۔ ان سب باتوں کا کبھی ان کی زبان سے سنا نہ ان کے گھر کے مردوں سے ذات برادری کی کو ئی بات سنی۔ جس کا ان کے تئیں بہتر رشتہ آیا پہلے لڑکی سے پوچھا، اگر لڑکی نے منع کر دیا تو ٹھیک ورنہ اس کی شادی کر دی۔

پھر وہ سب اپنے والد کی ریٹائر منٹ کے بعد اپنے پنجاب کے آبائی شہروں میں جا بسے۔ ساری لڑکیاں ہی ڈاکٹریا لیکچرر تھیں لہٰذا وہ اپنی نوکریوں والے شہروں یا ملک سے باہر سدھاریں۔

اسی زمانے میں بائیسویں گریڈ کے سومرو صاحب نے دوسری شادی کی اور پنجاب سے ایک پڑھی لکھی کڑی بیاہ کر لے آئے۔ ان محترمہ کا ہمارے گھر کافی آنا جانا تھا۔ کیوں کہ ہم ان کے ہم عمر تھے۔ وہ اپنے تئیں ہمیں دوست مانتی تھیں۔ لیکن ہمیں ان کی باتوں سے ہمیشہ الجھن ہوتی تھی ہر وقت سونے کے زیورات سے متعلق باتیں کرتیں اور ہمیشہ ہی گولڈ کا کوئی نہ کوئی زیور ہمیں شوق سے دکھایا کرتیں۔ اپنے خاندان کے مالی استحکام اور زمینوں کا ذکر کر کے ہر ایرے غیرے کو اور ہمیں بھی مرعوب کرنے کی کوشش کرتیں۔

مگر اب جب کہ زمانہ ترقی کر چکا ہے۔ کچھ عرصہ ہمارا پنڈی میں بھی قیام رہا ہے۔ اور ہماری بہن کی شادی بھی پنجابیوں میں ہوئی ہے۔ اپنے مشاہدے اور ذاتی تجربے سے اخذ کیا کہ پنجاب میں رہنے والے نوّے فی صد پڑھے لکھے مرد اور عورتیں پنجاب کے برسوں پرانے رسم و رواج اور فضول باتوں سے اب تک جڑے ہو ئے ہیں۔ مثلاً خواتین کی آپس میں گفتگو کا موضوع سردی، گرمی، موسمِ بہار کے جوڑوں، latest  فیشن، سونے کی چوڑیاں اور زیورات ہو تا ہے۔ یہ خواتین شان دکھانے کو سونے کی چوڑیاں لازمی کلائیوں میں ڈالے رکھتی ہیں۔ میکے میں جب بھی جائیں، توقع رکھی جاتی ہے کہ میکے والے بیٹی کو کچھ دے دلا کر ہی رخصت کریں گے۔

یہاں اب بھی بہو کے جہیز کی چیزوں کو اپنے خاندان کے ایک ایک فرد کو دکھایا جا تا ہے۔ اب اگر کبھی کسی نے مروت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہہ بھی دیا کہ انہیں صرف لڑکی چاہیے، جہیز نہیں۔ تب بھی لڑکی والے اس دکھاوے کے شوق یا خوف سے لڑکی کو ضرور بھاری بھر کم جہیز دیتے ہیں۔ پنجاب کے ایک مشہورکیمبرج سسٹم کے اسکول میں کچھ ماہ تدریسی فرائض بھی ادا کیے۔ پنجاب کے تعلیمی نظام سے ہم یوں بھی مرعوب ہیں۔ سوچا تدریسی اور غیر تدریسی سرگرمیوں سے استفادے کا موقع اچھا ہے۔ خواتین اساتذہ بریک ٹائم میں لان کے جوڑوں زیورات، جدید فیشن اور خاندان کی شادیوں کی شان و شوکت کے بارے میں بات کرتی رہیں۔

پنجابی مرد کتنے بھی پڑھ لکھ جائیں اپنی بہن بیٹی کو اپنی برادری سے باہر نہیں بیاہتے۔ مجھے بڑی حیرت ہو ئی جب میں نے منیر چودھری ایڈوکیٹ کی تین بہنوں کو بڑی عمر ہونے کے باوجود گھر میں بیٹھے دیکھا وجہ وہی کہ برادری میں لڑکے نہیں۔ اور غیروں میں دینے کی روایت نہیں۔ میری ایک شاعرہ دوست جو لیکچرر ہے اس کی شادی اپنی برادری کے آٹھویں پاس مرد سے کر دی گئی۔

یاد رہے کہ یہاں پڑھے لکھے مرد و خواتین کی بات ہو رہی ہے۔

ان کے ہاں شادی بیاہ میں سادگی کا مطلب صرف مسجد میں نکاح کرنے تک محدود ہے۔ خواتین اپنے کماؤ بیٹوں کے لیے ایسے گھرانوں کو نظر میں رکھتی ہیں جو اچھا جہیز دے سکیں۔ میری ایک دوست جس کی شادی لاہور کے ایک پنجابی گھرانے میں ہوئی ہے اس کی چار خوب صورت بیٹیاں ہیں۔ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ رشتے تو آتے ہیں لیکن خواتین مالی حیثیت کا اندازہ لگانے کے لیے مختلف سوالات کر کے چلی جاتی ہیں اور پھر نہیں پلٹتیں۔

ایک اور بات جو پنجابی گھرانوں میں محسوس کی گئی وہ اپنی مادری زبان سے اجتناب برتنا ہے۔ کسی اردو اسپیکنگ سے مل کر وہ اس سے قربت کا اظہار اس سچائی سے کرتے ہیں کہ ان کے گھر میں اردو بولی جاتی ہے۔ اور ہم نے بھی یہ ہی مشاہدہ کیا کہ پنجابی شہری اپنے بچوں سے پنجابی میں بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ گھر میں اردو میں بات کرنا اسٹیٹس سمبل سمجھا جا تا ہے۔ سندھ میں عرصہء دراز سے رہنے والی پڑھی لکھی پنجابی خواتین خاصی حد تک سلجھی ہو ئی ہوتی ہیں لیکن پنجاب کی پنجابی عورتوں کی باتوں میں دینا، لینا، شاپنگ، فیشن، بچوں کے مہنگے اسکول، مہنگا علاج، اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک تفریح کا حال، اور ان کے گھر کے مردوں کا ہاتھ ان کے حساب سے کتنا کھلا ہے۔ ان کے خیال میں وہ ہی عورت خوش نصیب ہے جس کا میاں اس سے حساب نہ مانگے۔

احمد نوید کی کتاب کی رونمائی کی تقریب آرٹس کونسل میں رکھی گئی۔ ہم نے اپنی پنجابی مالکہ مکان کو بھی دعوت دی۔ جو خاصی پڑھی لکھی تھیں اور ادب سے بھی شغف رکھتی تھیں۔ تقریب میں وہ سونے کی دکان بن کر آئیں۔ تقریب کے بعد ہمارے ساتھ چپکی لوگوں کو یہ باور کراتی رہیں کہ جس شخص کی شان میں تم لوگوں نے قصیدے سنے وہ ان کا کرائے دار ہے۔۔ پنجابی پڑھی لکھی عورت کی سونے کے زیور سے دلچسپی مریم نواز شریف کی اس تصویر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS