خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکےپر روکنے والے ڈی پی او کا تبادلہ


پاکپتن: وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے والے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کا ٹرانسفر کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے جمعرات 23 اگست کو خاور مانیکا کو ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا لیکن وہ نہ رکے، لیکن جب پولیس نے ان کی کار کو روکا تو انہوں نے غلیظ زبان استعمال کی۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) اور ڈی پی او رضوان گوندل کو جمعہ 24 اگست کو طلب کیا۔

جیو نیوز کو موصول نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی پی او رضوان کا ٹرانسفر کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ڈی پی او رضوان کا ٹرانسفر خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی نہ مانگنے پر کیا گیا۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے آر پی او اور ڈی پی او کو طلب کرکے دونوں افسران کو معاملہ ختم کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم رپورٹ نہ دینے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے خاور مانیکا کی طرف سے اس حوالے سے کوئی درخواست نہیں دی گئی۔
بشکریہ جیو نیوز۔

پولیس ذرائع کے مطابق 23 اگست کو رات ایک بجے خاور مانیکا کی گاڑی کو ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا گیا تو وہ نہیں رکے۔ پولیس کی گاڑی نے ان کا تعاقب کر کے ان کو روکا۔ اس پر انہوں نے پولیس سے گالم گلوچ کی۔

مبینہ طور پر پنکی بی بی اس معاملے میں کود پڑیں۔ اس پر ڈی پی او اور آر پی او کو چیف منسٹر نے جمعے کے دن طلب کیا اور ڈی پی او رضوان گوندل کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کر معذرت کرنے کا کہا گیا۔ رضوان گوندل نے اس پر صاف انکار کر دیا کہ وہ خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کر معافی کیوں مانگیں جب کہ پولیس نے کچھ غلط نہیں کیا۔ اس پر رضوان گوندل کو تبدیل کر کے لاہور رپورٹ کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔

Facebook Comments HS