نئی حکومت کے سفارتی طور طریقوں سے دفتر خارجہ کے حکام پریشان


تحریک انصاف کی نئی حکومت کے سفارتی معاملات پر دفتر خارجہ کے حکام پریشان ہو گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے حکام کو نہیں پتا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ٹیلی فون کال وصول کرنے کا فیصلہ کس نے کیا۔

دفتر خارجہ سے بھارتی ریاست کیرالہ کے سیلاب زدگان کی امداد کی پیشکش کے حوالے سے مشاورت نہ کیے جانے کا انکشاف بھی سامنے آگیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کی کال وزیراعظم عمران خان نے کیوں سنی؟ اس حوالے سے فیصلہ کس نے کیا؟ دفتر خارجہ تاحال لاعلم ہے۔ ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ میں ٹیلی فونک رابطے کی مخالفت کی اورامریکی صدر یا نائب صدر سے گفتگو کی تجویز دی تھی۔ دفتر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ کی کال ان کے ہم منصب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو لینے کی تجویز بھی دی تھی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو کا تنازع ترجمان دفتر خارجہ کی جوابی ٹوئٹ پر ختم ہو گیا تھا اور وزیر خارجہ کو اس معاملے پر بات نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے پریس کانفرنس کر ڈالی۔ ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے جواب در جواب سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا دورہ پاکستان متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے کیرالہ کے سیلاب زدگان کی امداد کی پیشکش بھی دفتر خارجہ سے مشاورت کے بغیر کی جبکہ بھارت پہلے ہی سرکاری طور پر کئی بڑے ملکوں سے امداد نہ لینے کا اعلان کرچکا تھا ۔

ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے عہدہ سنبھالتے ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مبارک باد کے خط کی غلط تشریح کی۔ ان کے پہلے بیان پر ہی وزارت خارجہ کو وضاحت دینا پڑی ۔

Facebook Comments HS