شرجیل میمن کے کمرے سے ملنے والی بوتل میں سانڈے کا تیل تھا: ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے خفیہ طور پر اچانک ضیاءالدین اور جناح ہسپتال میں سیاسی قیدیوں کے کمروں پر چھاپہ مارا تو ضیاالدین ہسپتال میں شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں اور منشیات برآمد ہو گئیں۔ شراب کی بوتلیں برآمد ہونے کی خبر پر تبصروں کا ایک سلسلہ چل نکلا تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت نے اس حوالے سے ناشائستہ تبصرہ کیا ہے۔
ڈاکٹر عامر لیاقت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’سانڈے‘ کی تصویرجاری کرتے ہوئے لکھا ”ابھی ابھی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شرجیل میمن کے کمرے سے ملنے والا مبینہ تیل ’سانڈے کا تھا۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب“
ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا ”شراب کی بوتل میں شہد رکھنے سے شراب کی بوتل کی بدنامی نہیں ہوتی، ہم کیسے لوگ ہیں جو اتنی اچھی نیت والے پر بھی شک کرتے ہیں۔۔۔ ووٹ کو عزت دو کا معاملہ بہت پیچھے رہ گیا۔۔۔ اب ’شراب کی بوتل کو عزت دو!‘ کا نعرہ ہے اور اس کیلئے شہد ضروری ہے، مکھیاں تو آ ہی جاتی ہیں“
ڈاکٹر عامر لیاقت کی جانب سے اس تبصرے پر پی ٹی آئی کے حامی تو لطف اٹھا رہے ہیں البتہ سنجیدہ حلقوں کی جانب سے ان کے اس بیان کو غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں تو شرجیل میمن کو واپس کراچی سینٹرل جیل منتقل کر دیا جبکہ ان کا کمرہ بھی سیل کر دیا گیا۔ حکام کا کہناہے کہ شرجیل میمن کا نجی ہسپتال میں کمرہ سربمہر کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے شرجیل میمن کے کمرے پر چھاپہ مارا تو وہ تقریبا تین منٹ تک کمرے میں رہے اور انہوں نے پی پی پی کے رہنما کی طبیعت کو تسلی بخش قرار دیا۔




