مولانا صاحب اور صدر ٹرمپ شراب نہیں پیتے
مجھے کسی کے کمرے سے شراب برآمد ہونے پر اعتراض نہیں لیکن اگر یہ کمرہ ہپستال کا ہے تو پھر یہ قابل اعتراض ہے۔ امریکہ میں گاڑی شراب کی بوتلوں سے لدی ہو تو کوئی نہیں روکے گا مگر چلتی گاڑی میں شراب کی ایک بھی کھلی بوتل اگر ملتی ہے تو قابل گرفت جرم ہے، سخت سزا ہے۔ کوئی کتنی شراب پیے کسی کو اعتراض نہیں، مگر وہ شراب پی کر غل غپاڑہ نہیں کر سکتا۔ اور ڈرایئونگ تو بالکل نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ ہوتا ہے مگر جو ڈرنک ڈرائینگ کرتے پکڑا جاتا ہے اس کو کوئی سینیٹر، رکن کانگریس حتی کہ صدر امریکہ بھی نہیں بچا سکتا۔
پاکستان میں بحث کچھ اور ہی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ پورے ملک میں سب کچھ موجود ہے، حسب استطاعت دیسی ولائتی ٹھرے سے امپورٹڈ شرابوں تک سب ملتا ہے۔ میں نے شعبہ عدل، عساکر اور صحافت سے وابستہ کئی لوگوں کو پیتے پلاتے دیکھا ہے اور میں اس بنیاد پر ان کے کردار کو نہیں ناپتا۔ میں نے زندگی میں کئی رندوں کے اندر خوف خدا موجزن دیکھا ہے اور کئی پارساوں میں فرعونیت۔۔۔ بات مگر اصولوں کی ہے۔
مغرب نے اصول بنایا ہے۔ ایک خاص عمر سے پہلے کوئی شراب حتی کہ سگریٹ نہیں خرید سکتا۔ اور کوئی مائی کا لال بیچ کر دکھائے۔ دکاندار کو خریدار کا شناختی کارڈ دیکھنا ہوتا ہے سگریٹ یا الکوحل حوالے کرنے سے پہلے۔ کئی دکاندار بالخصوص دیسی دکاندار پکڑے گئے اسی چکر میں کیونکہ انڈر کور ایجنٹس گاہے گاہے دکانداروں کو چیک کرتے رہے ہیں۔ شراب کے بارے میں مذہب کیا کہتا ہے، یہ بحث عالمانہ سطح کی ہے، میں بہت گناہ گار ہوں۔ فی الوقت اگر ہم اسی پر توجہ دے سکیں کہ شراب کی بوتل ہسپتال میں کیوں تھی تو بہت سے مسائل کا حل نکل آئے گا۔
مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ لیڈرز شراب پیتے ہیں یا کوکین۔ مجھے اس بات سے غرض ہے کہ کب، کہاں پیتے اور کس پیسے سے پیتے ہیں۔۔۔ دفتر میں، دفتر کے اوقات میں، ڈرائیونگ کے دوران۔ یا ہسپتال میں مستی ناقابل قبول۔ شراب کی بنیاد پر کیریکٹر سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے ضرور سوچیے گا، مولانا فضل الرحمن، مولانا خادم رضوی اور صدر ٹرمپ شراب نہیں پیتے۔


