ہم اپنے گھر کیا سوچ کے بناتے ہیں؟


ادھر سڑک کنارے ایک نیا گھر بن رہا ہے۔ بنیادیں کھودی جا چکی ہیں۔ دیواریں ڈل گئی ہیں۔ باہر سے دیکھنے پہ سارا مکان لال سرخ اینٹوں کی شکل میں نظر آتا ہے؛ چونکہ چھت نہیں پڑی ‘اس لیے دن کی روشنی میں اندر ذرا سا جھانکنے پر سارا نقشہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ یہ بھی ویسا ہی مکان ہو گا‘ جیسے شہر میں نیلی ٹینکیوں والے اور لاکھوں مکان موجود ہیں۔ تین چار کمرے ہوں گے‘ ایک بڑا سا ڈرائنگ روم ہو گا‘ جس میں ایک سال کے دوران آنے والے چھ مہمانوں کے لیے اپنی اوقات سے بڑھ کے فرنیچر سجایا جائے گا اور کسی مصری ممی کی حنوط لاش کی طرح وہ کمرہ باقی مہینوں میں اپنے وزیٹرز کے انتظار میں رہے گا۔ اس کمرے میں سارے گھر سے مہنگا قالین ڈلے گا۔ گھر کی عورتیں اپنا سارا استھیٹک سینس لگا کے اس کمرے کو سجائیں گی‘ روز صاف کریں گی‘ کام کرنے والیوں سے جالے اتروائیں گی ‘لیکن وہ کمرہ‘ گھر کا سب سے لگژری کمرہ بند رہا کرے گا۔ اگر اس میں کوئی باتھ روم ہے‘ تو وہاں رکھا صابن اگلے سال بھی اتنا ہی ہرا بھرا ہو گا۔

اس کے بعد ایک لاؤنج ہو گا۔ گھر والے اور باہر سے آنے والا کوئی بھی مہمان سارا دن وہیں رہا کریں گے۔ ڈرائینگ روم میں تو اسے بٹھایا جاتا ہے‘ جس کا گھر والوں سے پردہ ہو یا کوئی بالکل انجان بندہ پہلی بار آیا ہو‘ تو ڈرائنگ روم سجا بنا راستہ دیکھتا رہے گا اور پورے سال ساری آمدورفت اسی لاؤنج میں ہوا کرے گی۔ وہیں لاؤنج میں ایک ڈائننگ ٹیبل بھی ضرور ہو گی۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک آدمی نیا گھر بنائے اور وہاں ڈائیننگ ٹیبل نہ ہو؟ آف کورس ہو گی اور موسٹ لائکلی شیشے کا ٹیبل ٹاپ ہو گا‘ جس کے ساتھ چھ یا آٹھ سٹیل والی کرسیاں جڑی ہوں گی۔ لکڑی کی میز کرسی؟ اونہوں… پرانا فیشن ہے اور زیادہ وقت بھی نہیں نکالتی‘ تو جہاں ڈائیننگ ٹیبل ہو گی ادھر ہی تھوڑے فاصلے پہ سارے گھر والے خشوع و خضوع سے دستر خوان بچھا کے کھانا کھایا کریں گے۔ ظاہری بات ہے اب بندہ ہر وقت میز کرسی پہ تو کھانا نہیں کھا سکتا نا! وہ میز کرسی بھی اسی وقت کام آئیں گے‘ جب بچوں کو پڑھنا ہو گا یا ان مہمانوں کو آنا ہو گا‘ جو ڈرائنگ روم میں نہیں بٹھائے جا سکتے۔ انہیں لاؤنج میں بٹھایا جائے گا اور چائے‘ پانی‘ سنیکس‘ کھانا شانا سب کچھ ادھر میز پہ سجا دیا جائے گا۔

لاؤنج کے بعد ایک کچن ہو گا اور کچن کے پیچھے ایک ڈرٹی کچن ہو گا۔ ڈرائنگ روم اور ڈائننگ روم کی طرح یہ والا کچن بھی صرف چائے بنانے اور دودھ ابالنے تک محدود رہے گا۔ اس والے کچن سے اصلی کچن والا کوئی بھی کام نہیں لیا جائے گا۔ وہ سارے کام ڈرٹی کچن میں ہوں گے۔ سبزیاں وہیں کٹیں گی‘ برتن وہیں دھلیں گے‘ سالن ترکاری… ترکاری کون کھاتا ہے؟ گوشت کے سالن وہیں بنیں گے‘ روٹی وہیں پکے گی‘ میٹھا وہیں بنے گا اور یہ سب کچھ تیار ہونے کے بعد فریج میں رکھ دیا جائے گا۔ شام کو اگر بچوں نے چاہا تو کھانا یقینا باہر سے آئے گا‘ ڈرٹی کچن‘ لاؤنج کی میز اور سجے بنے ڈرائنگ روم کی طرح کھانا بھی انتظار کرتا رہ جائے گا۔ وہ کھانا اگلے دن نہایت طبیعت سے پورے گھر والے گرم کر کھائیں گے اور فریج کی نعمت عطا کرنے والے مالک کا شکر بجا لایا جائے گا۔ اس کے بعد بھی کھانا بچ جائے گا۔ ایک سال بعد جب ڈیپ فریزر کی صفائی ہو گی ‘تو وہ جو تھیلیاں تہہ میں ہوں گی ‘ان میں سے اکثر یہی بچنے والے کھانے ہوا کریں گے۔

کچن کے آس پاس کہیں ایک بیڈروم بھی ہو گا‘ جس کمرے میں ساری زندگی رہنا ہے۔ جہاں سونا ہے‘ جاگنا ہے‘ آرام کرنا ہے‘ وقت گزارنا ہے‘ اکثر کھانا کھانا ہے‘ بچوں کے ساتھ گپ کرنی ہے‘ بیوی سے دکھ درد لینا ہے وہ کمرہ سب سے چھوٹا ہو گا۔ ڈرائنگ روم اور لاؤنج سے وہ کمرہ اچھا خاصا مختصر ہو گا۔ ڈرٹی کچن یا سٹور کی وجہ سے اس کا باتھ روم بھی چھوٹا رہ جائے گا۔ کمرے میں آپ کے منہ کے آگے ایک بڑا سا ٹی وی ہو گا‘ جو ٹی وی باہر لاؤنج میں لگا ہوا ہے‘ وہ تو دن میں دیکھا جاتا ہو گا نا‘ رات میں سوتے وقت دل چاہے تو بندہ کیا دیکھے گا؟ اور یہ ٹی وی یقینا کمرے کے سائز کی نسبت اچھا خاصا بڑا ہو گا‘ بلکہ اس کا سائز لاؤنج والے ٹی وی سے بھی بڑا ہو گا۔ بستر پہ لیٹ کے جب اسے دیکھا جائے گا ‘تو فلم دیکھنے پہ لگے گا کہ بندہ سکرین کے اندر گھسا ہوا ہے۔ ٹی وی بڑا نہ ہو اور گھر کی چھت پہ پانی والی ٹینکی نیلے پلاسٹک والی نہ ہو تو زندگی کا کیا مزہ؟ اب چونکہ اس کا ٹی وی باہر کے لاؤنج والے ٹی وی سے بڑا ہو گا اور کمرہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اے سی ٹھنڈک بھی یہاں زیادہ کرتا ہو گا‘ تو بچے بڑے سارا دن ادھری گھس کر ٹی وی دیکھیں گے‘ زیادہ نزدیکی مہمان بھی یہیں آئیں گے‘ لاؤنج اور وہاں لگا ٹی وی بھی گئے تیل لینے۔

گھر کی سائیڈ والی گلی یا پچھلا حصہ لانڈری کے طور پہ استعمال ہوں گے۔ چار پانچ کمروں‘ لاؤنج‘ ڈرٹی کچن اور ڈرائنگ روم والے گھر میں تمیز سے کپڑے دھونے کی جگہ کوئی نہیں ہو گی۔ بہت ہو گا تو ایک چھپر سا ڈال کے واشنگ مشین رکھی ہو گی اور ایک پرانا سڑا ہوا ٹب ہو گا‘ جس میں کپڑے دھوئے نچوڑے جاتے ہوں گے۔ گھر بنانے والے کو یہ خیال کبھی نہیں آئے گا کہ یار کپڑے دھونا بھی اسی طرح ضروری کام ہے‘ جیسے کھانا پکانا‘ تو جب کھانا پکانے کے لیے دو کچن ہو سکتے ہیں ‘تو کپڑے دھونے یا دھلوانے کے لیے ایک مہذب اور ڈھنگ کی جگہ کیوں نہیں ہو سکتی؟سارا گھر بن جانے کے بعد بھی کپڑے سکھانے کے لیے رسیاں یا تاریں لگانے کی جگہ کہیں نہیں ہو گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مالک اتنا کنگال ہو جائے کہ رسیاں خریدنے کے پیسے نہ بچیں‘ پھر کیا ہو گا؟ پھر سارے گھر کی الٹی شلواریں سامنے کے دروازے اور ٹیرس پہ بہار دکھلا رہی ہوں گی۔ کئی سال ایسا ہی چلتا رہے گا‘ پھر گھر میں کسی ایک شخص کو خیال آئے گا ‘تو اس کے طفیل کپڑے سکھانے کا بندوبست کہیں اور کیا جائے گا۔

یہ جو گھر بن رہا ہے ‘اس میں آگے پیچھے لان کی بھی تھوڑی سی آپشن موجود ہے۔ آثار بتاتے ہیں کہ گھر بن جانے کے پانچ سال بعد شاید لان ایک ٹھیک والا باغ بن سکے گا۔ اس وقت وہاں مٹیوں میں کتے لوٹ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں جب گھر بنانے کے لیے زمین لی جاتی ہے ‘اسی وقت اندازے سے لان کی جگہ نکال کر وہاں درخت پودے اور گھاس لگا دئیے جاتے ہیں‘ ادھر ایسا نہیں ہوتا‘ اس گھر میں بھی نہیں ہے۔ گھر مکمل ہو گا‘ خیر سے مالک آباد ہوں گے۔ سامنے والے باغ میں گھاس لگانے مالی کو بلایا جائے گا‘ وہ ڈھاکہ گھاس یا امریکن گھاس لگائے گا‘ سائیڈوں پہ دو دو ایروکیریا کے درخت ٹانگ جائے گا‘ گرمیاں آئیں گی اور گھاس اور درخت دونوں جل جائیں گے۔ مالی روز آ نہیں سکتا اور گھر والے روز پانی نہیں دے سکتے۔ کسی گھر میں کوئی مالی کبھی پیپل‘ بوہڑ‘ پلکھن‘ نیم‘ دھریک‘ شرینہہ یا ایسا کوئی بھی پودا نہیں لگائے گا ‘جو تھوڑا کم دیکھ بھال مانگتا ہو اور دیسی جم پل ہو۔ وجہ دی جائے گی کہ جڑیں گھر کی بنیادوں تک اتر جاتی ہیں۔ ٹھیک ہو گیا‘ تو یہ ایروکارپس جو ہر گھر کی باڑ بنا ہوا ہے ‘اس کی جڑیں کیا گہری نہیں جاتیں؟ چھوڑس مڑا‘ کوئی ہور گل کرنے آں!

کیا اس گھر میں کتابوں کا کوئی کمرہ ہو گا؟ نہیں‘ کمروں کی تعداد جتنی کتابیں بھی نہیں ہوں گی۔ کیا اس گھر میں فلم دیکھنے یا موسیقی سننے کے لیے کوئی کمرہ ہو گا؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ گرمی دماغ کو لگ گئی ہے کیا؟ اچھا کیا اس گھر میں ورزش کے لیے کوئی جگہ ہو گی‘ جس میں سکون سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ حرکت برکت کی جا سکے؟ نہیں‘ ہم نے آلو کے چپس کھانے ہیں اور ٹی وی دیکھنا ہے۔ پھر اس گھر کی خاص بات کیا ہے؟ دیکھیں جی یہ جو ڈرائنگ روم ہے اس کا فرش لکڑی کا ہو گا‘ اس کا فرنیچر اٹالین ہو گا‘ قالین اس میں ہاتھ کا بنا ہوا‘ وغیرہ وغیرہ اور ہاں‘ چونکہ اب پکی ٹینکی بنانے کا فائدہ نہیں رہا اور پیسے بھی ایویں ضائع ہوتے ہیں‘ اس لیے چھت پہ ہم ایک کی بجائے تین نیلی ٹینکیاں رکھیں گے۔ جی ‘تاکہ پانی کی کمی نہ ہو‘ ہے نا پھر خاص بات؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 495 posts and counting.See all posts by husnain