جامشورو سہون خونی شاہراہ
ٹوئٹر دیکھتے نظر پڑی، مبشر زیدی صاحب نے ری ٹوئٹ کیا ہوا تھا ”سب دوستوں کو اپیل ہے انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ہمارا ساتھ دی جامشورو سیہون روڈ پر سال کے اندر ہزاروں افراد جان بحق ہوئے ہیں۔ #سیوھن_جامشورو_خونی_شاہراھ۔ “
ہیش ٹیگ پر جانے سے معلوم ہوا این پچپن نامی قومی شاہراہ پر روڈ حادثہ میں ایک خاندان کے دس افراد فوت ہوگئے ہیں۔ دل بیٹھ گیا۔ ایسے ہی حادثات کی وجہ سے آئے دن اس روڈ کا نام سننے کو ملتا ہے۔ یہ روڈ انڈس ہائی وے کہلاتا تھا لیکن اب عرف عوام میں ”قاتل روڈ ” کا نام حاصل کر چکا ہے۔
اس سڑک کی وجہ شہرت بدترین حادثات ہیں اور وہ بھی اس طرح کے جن میں مرنے والوں کی تعداد خطرناک حد کو پہنچی ہوئی ہے۔ ٹوئٹر پر چلنے والے ٹرینڈ ”سیوھن جامشورو خونی شاہراہ ” میں کہا جا رہا ہے کہ اس شاہراہ پر ہر سال دو سو کے لگ بھگ انسان حادثات میں مارے جا رہے ہیں۔ اس دعویٰ سے زیادہ اختلاف اس لئے نہیں کیا جا سکتا ہے پچھلے دو سال کے عرصے سے تقریباً ہر ہفتے اس راستے پر سفر کیا ہے اور ہر بار تباہ شدہ، الٹی ہوئی اور پچک گئی گاڑیاں ایسی حالت میں دیکھی ہیں کہ اندر جھرجھری دوڑ جاتی ہے۔
اس قومی شاہراہ کو مزید خطرناک یہ بات بناتی ہے کہ جامشورو سے سیوھن تک ایک سو تیس کلومیٹرز کے فاصلےمیں کوئی قابل ذکر ہاسپیٹل نہیں جو زخمیوں کی جان بچانے میں مددگار بن سکے۔ سیوہن جامشورو خونی شاہراہ کے پیش ٹیگ پر ٹوئٹس کرنے والے حکومت پر تنقید کر رہے ہیں کہ حادثات سے بچاؤ کے لئے کوئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا گیا۔
لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس سڑک کو دو رویہ بنایا جائے، ہاسپیٹل اور ٹراما سینٹر بنا کر حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کی طبی امداد کا پورا بندوبست کیا جائے۔ یہ دونوں مطالبات نہایت ضروری اور لازم ہیں کیونکہ ایک حکومت کی ذمہ داری ہی عوام کی حفاظت ہے اور اس میں کسی قسم کی سستی پر رعایت روا نہیں رکھی جا سکتی۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے حکومت نے اس بارے سستی کرکے اپنی نا اہلی ظاہر کی ہے جس کی وجہ سے اس پر تنقید کے تیر برسائے جا رہے ہیں۔ مگر حکومت کی عدم توجھی کے ساتھ اصل ایک اور وجہ ملتی ہے جو حادثات کی بنیاد ہے۔ اور وہ ہے تیز رفتاری، غیرمحتاط بلکہ غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ۔
ویسے تو ڈرائیونگ کے لحاظ سے من حیث القوم ہم کوئی اچھا ریکارڈ نہیں رکھتے مگر اس روڈ پر تیزی دکھاتے ڈرائیورز عمومی لحاظ سے بھی زیادہ خراب انداز اختیارکیے رکھتے ہیں۔ بلامبالغہ اس روڈ پر ڈرائیورز گاڑی چلانے کی بجائے ریس لگاتے نظر آتے ہیں۔ سنگل روڈ پر انتہائی رفتار پر چلتے، اوور ٹیک کرتے ایسی عجلت دکھاتے ہیں کہ کسی اور کی کیا اپنی جان تک سے لاپرواہ دکھائی پڑتے ہیں۔ اور یہ رویہ صرف کار ڈرائیورز سے خاص نہیں بلکہ بس، ٹرک حتی کہ اسکوٹر سوار بھی پوری رفتار سے زگ زیگ میں گاڑی لہراتے ہوئے آگے نکلنے کے چکر میں رہتے ہیں۔
سوال یہ ہے اگر حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی ہے تو کیا ہم اپنی ذمہ داری انجام دے رہیں ہیں؟
اگر حکومت کسی معصوم جان کی حفاظت کے لئے قدم نہیں اٹھا رہی تو کیا ہمیں ٹریفک قوانین ہر عمل کرکے اپنی اور دوسروں کی جان کا خیال بہیں رکھنا چاہیے؟
اگر دو رویہ روڈ بنا کر بہتری نہیں لائی جارہی تو ہم اپنی ڈرائیونگ کا انداز تو بہتر بنا سکتے ہیں۔ نہیں؟
پس نوشت ؛ حکومت وقت اگر رفتار کی حد مقرر کرکے موٹر وے پولیس کو اس روڈ پر تعینات کردے تب بھی حادثات میں کافی حد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔


