ایک کال گرل کی کہانی


”کیا ٹاپک تھا، سر؛ طوائف کو اٹھا کے ولائت کے درجے پہ لے گیا۔ غلاظت میں لپٹی عورت کیسے ولی اللہ بن جاتی ہے، یہ دکھایا تھا، اس میں“۔
”تو چل گیا‘‘؟ بڈھے نے حیرانی سے پوچھا۔
”جی ہاں! اور بہت پسند کیا گیا تھا۔ کِرٹِکس نے بہت داد دی۔ بعد میں ایک بھارتی چینل پہ بھی چلا“۔

طوائفوں پہ ایک سیریئل کرنے کے بعد، مجھے ایک بار پھر طوائف کی کہانی لکھنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ ہمارے یہاں چھاپ فور الگ جاتی ہے۔ کوئی کامیڈی لکھ دے، اس سے کامیڈی لکھواتے چلے جاتے ہیں۔ مجھے یہاں کا ماحول پسند نہیں آ رہا تھا؛ نہ بڈھے اور مجھے ایک دوسرے کی بات سمجھ آ رہی تھی۔ اس کا سامنا کرتے ہی میں نے ’ویوز‘ وصول کرلی تھیں، کہ ہم متضاد روحیں ہیں۔ بڈھے کا نام کچھ اور تھا، یہ نام ”بڈھا“، اس ڈائریکٹر ہی نے دیا ہوا تھا، لیکن اس کے منہ پہ نہیں کہتا تھا۔ بل کہ تحقیر کے لیے یہ نام چنا تھا۔

ڈائریکٹر مجھے بتا کے لایا تھا، کہ بڈھا بال رنگتا ہے، اور کوئی ’انکل‘ کَہ دے تو مائنڈ کر جاتا ہے۔ لڑکی ’بھائی‘ بھی کَہ دے تو خیر نہیں۔ بڈھے کا کہنا یہ ہوتا، میرے نام سے پکارا کرو۔ میں بال اس لیے نہیں رنگتا کہ لوگ مجھے انکل یا بھائی کہیں۔

’’آگے سناو کیا ہے؟ اُس کال گرل سونیا کی کہانی کیا ہے، وہ سناو‘‘۔
میں نے اُکتائے ہوئے لہجے میں بولنا شروع کیا، جب کہ جی نہیں چاہ رہا تھا۔

’’یہاں سے کہانی فلیش بیک میں ہے۔ پانچ چھہ سال پہلے کا زمانہ ہے۔ یہی سونیا کالج گرل ہے۔ اس کے باپ کی معذوری کے بعد، اُس کے باپ کا باس اُن پر احسان کرتے، سونیا کو اپنی پرسنل سیکرٹری رکھ لیتا ہے‘‘۔
’’کیوں‘‘؟

میں نے بے بسی سے ڈائریکٹر کی طرف دیکھا؛ وہ بڈھے کو سمجھانے لگا۔
’’سر! آپ سنیں تو سہی‘‘۔
’’ہاں! سن تو رہا ہوں۔ پھر‘‘؟
اب میں جلدی سے کہانی سنا کے جان چھڑانا چاہتا تھا۔

’’بظاہر باس ہم دردی کرتا ہے، اس کے باپ کے لیے نرس کا بند و بست کرتا ہے، کیوں کہ لڑکی کے ماں بھی نہیں ہے اور گھر میں کوئی اور دیکھ بھال کرنے والا بھی نہیں۔ باس طرح طرح کی نوازشات کے بدلے یا آڑ میں سونیا پر ڈورے ڈالنے لگتا ہے۔ سونیا اپنے تئیں مزاحمت کرتی ہے، مگر باس منجھا ہوا کھلاڑی ہے، وہ سونیا کے باپ کو اعتماد میں لے کر، سونیا کو دفتری دورے کے بہانے سے، کسی اور  شہر کا بتا کے مری لے جاتا ہے‘‘۔

’’گڈ آئڈیا! اور باپ جانے دیتا ہے‘‘؟ بڈھے سے پھر نہ رہا گیا۔
’’جی ہاں! سونیا باپ کو بتا نہیں پاتی کہ اُس کا باس چاہتا کیا ہے، اس کا حل وہ یہ نکالتی ہے، کہ والد کو خط لکھتی ہے۔ نرس کو یہ خط دیتی ہے کہ اُس کے باپ کو دے دے۔ تھوڑی دیر میں اسے نرس پیغام دینے آتی ہے کہ اس کے باپ نے بلایا ہے۔ باپ کے پاس جاتی ہے تو باس بھی وہیں موجود ہے؛ باپ سونیا کی بات سنے بغیر اس کی سرزنش کرتا ہے، کہ باس تمھاری شکایت لے کے آئے ہیں، کہ تم ان کے ساتھ دفتری دورے پہ جانے کو تیار نہیں! تمھیں ان کے ساتھ جانا چاہیے۔ سونیا کو یقین نہیں آتا کہ باپ خط پڑھ کے بھی ایسا کَہ رہا ہے۔ سونیا سمجھتی ہے باپ مجبور ہو کے یہ بات کَہ رہا ہے، کہ اس کی بیٹی اس راہ چلے۔ وہ صدمے کی حالت میں باپ کی بات مان کے باس کے ساتھ چلی جاتی ہے‘‘۔
میں نے جلدی جلدی سنانا شروع کیا۔

’’یہ دل چسپ حصہ ہے، لیکن میں لکھتا تو اس کو کسی اور طریقے سے لکھتا‘‘۔
’’آپ ابھی بھی لکھ سکتے ہیں، یہ کہانی میں نے آپ کو دی‘‘۔

’’بھئی تم تو غصہ ہی کر جاتے ہو۔ یہ مطلب نہیں تھا۔ اچھا ٹھیک ہے، پھر؟ آگے بتاو‘‘؟
’’مری جا کے باس سونیا کے ساتھ وہ کرتا ہے، جس کا سونیا کو خدشہ تھا‘‘۔
’’کیا‘‘؟
’’آہ‘‘!

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


صفحات: 1 2 3 4

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran