ایک کال گرل کی کہانی
’’غلطی کیسی؟ یار اس سے اچھی تو میں سنا لوں۔۔ بل کہ میں سچو ایشن بنا کے دوں گا، تم اس پہ لکھنا‘‘۔ اسما کے سامنے بڈھا، کچھ زیادہ ہی اپنا آپ دکھا رہا تھا۔ میں چپ ہو کے فرش نظریں جمائے اپنا رہا سہا صبر ماپنے لگا، کہ کتنا باقی ہے۔ میرے کانوں میں ڈائریکٹر کی آواز پڑی۔
’’ہاں وہ آخری حصہ؟۔۔ پنچ لائن‘‘؟
یک دم میں پر سکون ہو گیا۔ سر اٹھا کے بڑے اعتماد سے کہا۔
ڈاکٹر عدیل نے کہا، جب تم (سونیا) ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوئیں تو تمھیں دیکھ کر مجھے اپنی بیٹی کا خیال آ گیا‘‘۔
’’یہ کیا بات ہوئی‘‘؟ بڈھے نے نا گواری کا اظہار کیا۔
’’یہ اچھا ہے۔ پھر کیا ہوا‘‘؟
اسما نے آگے کو جھک کے اپنی ہتھیلی پہ ٹھوڑی کا وزن بڑھایا، جس سے دل چسپی کا اظہار ہوتا تھا۔ میری نگاہ اس کے کھلے گریبان پہ پڑی تو گڑ بڑا سا گیا۔ اسے کی پوزیشن میں فرق نہ آیا؛ گویا مجھے نواز رہی تھے۔ میں نے اپنی نظریں اِدھر اُدھر بھٹکائیں، جیسے اسما کے کھلے گریبان میں کچھ نہ دکھائی دیا ہو۔
’’آگے کیا ہوا، وہ بتائیے ناں‘‘۔ اسما کی آواز میں شوخی تھی، جیسے مجھے چھیڑ رہی ہو، کہ بچو جی ایک بار پھر اِدھر دیکھا تو اس کہانی کا انت ہی کیا، سب کہانیاں بھول جاو گے۔
’’پھر یہ ہوا کِہ عدیل نے کہا، کہ‘‘۔۔
’’کِہ‘‘؟ اسما نے آنکھیں مجھی پہ گاڑھی ہوئی تھیں۔ مجھے اپنی ہتھیلیوں پہ پسینا محسوس ہوا۔
’’جب تم یہاں آئیں تو مجھے لگا۔۔۔ مجھے لگا، کِہ میری بیٹی کمرے میں آ گئی ہے۔ اور شکر ادا کیا کہ میں تمھارے باپ کی طرح معذور نہیں ہوں۔ انسان مجبوری کی تاریکی میں، بھٹک تو سکتا ہے، لیکن روشنی دکھائی دینے پر، اسے اپنی سمت کا تعین کرلینا چاہیے‘‘۔
’’بکواس کہانی ہے‘‘۔ بڈھا تلملایا۔
ڈائریکٹر بھی حیرانی سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس کی پروا نہیں کی۔
’’سونیا کو بڈھے پہ شدید غصہ آیا‘‘۔
’’بڈھا‘‘؟
اسما نے ویسی دل چسپی دکھائی، جیسے پہلے سے دکھا رہی تھی، لیکن میں کنکھیوں سے بڈھے کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔ جو نا مطمئن تھا۔
’’ہاں بڈھا! جس نے پیسے کے زور پہ اس کال گرل کو وہاں بلایا تھا۔ وہ بڈھا سمجھتا ہے، اس کے پیسے سے سبھی مرعوب ہو جائیں گے۔ پر سونیا زرا مختلف تھی ، اُس نے بڑھ کے بڈھے کا گریبان پکڑ لیا اور کہا۔ بڈھے، تو کیا سمجھتا ہے، مجھے تجھ سے محبت ہے؟ تجھ جیسوں کو تو میں اپنا ہیئر پِن نہ چھونے دوں۔ یہ تو تیرا پیسا ہے، جس کے لیے میں صبر کا ناٹک کر رہی تھی۔ لیکن اب مجھے اس کی ضرورت نہیں‘‘۔
’’کیا سنا رہے ہو، تم؟۔۔۔ یہ تو نہیں تھا‘‘؟ ڈائریکٹر نے کامل یقین سے کہا۔
’’اب یہی ہے۔ میں نے اینڈ بدل دیا ہے‘‘۔
میں نے بڈھے کی طرف دیکھا، اُس کے چہرے کی جھریاں بڑھ چکیں تھیں۔
’’ہاں انکل؟ کیا آپ بھی ایسی کہانیاں لکھتے تھے؟
انکل کہنے پہ بڈھے نے چونک کے ڈائریکٹر کی طرف دیکھا، جیسے اُسی ے مخبری کی ہو۔ ڈائڑیکٹر اس وقت کو کوس رہا ہو گا، جب مجھے یہاں لانے کی حماقت کی۔ میں نے بڈھے کو متوجہ کیا۔
’’ کیوں انکل، کالج میں ایسی ہی کہانیاں لکھتے تھے، یا کچھ اور طرح کی‘‘؟
اسما نے سیدھے ہو کے سوفے پر ٹیک لگائی ایسا کرتے اپنے کندھے سے شرٹ کو اٹھا کے دُرست کیا، تا کِہ سینے کی قوسین کو کسی کی نظر نہ لگے۔ اُس کے چہرے پہ ایسی سنجیدگی تھی، جیسے کبھی مسکرائی تک نہ ہو۔ اگلے ہی لمحے اپنے ناخنوں کو کریدتے ماحول سے لاتعلق بنی دکھائی دی۔ میں چپ چاپ اٹھا اور کچھ کہے سنے بنا وہاں سے چل دیا۔ کسی نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی۔

