ایک کال گرل کی کہانی
’’اچھا پھر‘‘؟
’’باس سونیا کے ساتھ زبر دستی کرتا ہے؛ زبر دستی کہنا دُرست ہے یا نہٰیں، سونیا مزاحمت ہی نہیں کرتی‘‘۔
’’اچھا‘‘؟ بڈھے کا منہ کھلا تھا۔
’’موم کی گڑیا بنی، اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیتی ہے‘‘۔
’’پھر‘‘؟
’’اگلی شام یا دو راتیں گزارنے کے بعد وہ سونیا کو تحفے تحائف دے کے اسے گھر کے دروازے پہ اُتارتا ہے۔ سونیا اندر سے ٹوٹ چکی ہے، دل شکستہ ہے۔ ایسی حالت میں گھر میں داخل ہوتی ہے، تو باپ کا جنازہ پڑا ہوتا ہے‘‘۔
’’اوہ! کیوں‘‘؟
’’پتا یہ چلتا ہے، کہ وہ خط نرس نے اُس کے جانے کے بعد باپ کو دیا تھا، باپ نے پڑھا، تو یہ ذلت برداشت نہ کر سکا؛ اور خود کشی کر لی‘‘۔
’’یہی ہوئی نا بات۔ پھر‘‘؟
’’سونیا کی مجبوری ختم ہو چکی ہے؛ یعنی اُس کا باپ مر چکا ہے، تو اب وہ‘‘۔
’’ہاں ہاں یہ تو سمجھ آ گیا، کالج کے زمانے میں لکھتا رہوں ہوں، کہانی سمجھ لیتا ہوں۔۔ اچھا پھر‘‘؟
’’وہ اس کے بعد دفتر نہیں جاتی اور اپنے محبوب لقمان کی پناہ میں آ جاتی ہے، جو اسے ایک فلیٹ میں رکھتا ہے‘‘۔
’’یہ محبوب۔۔ کیا نام ہے‘‘؟
’’لقمان‘‘۔ ڈائریکٹر نے لقمہ دیا۔
’’یہ لقمان پہلے کہاں تھا‘‘؟
’’یہ پہلے بھی تھا، امیر باپ کا بگڑ ا بچہ ہے۔ اس کے ساتھ کالج میں پڑھتا تھا؛ یہ ہم اسکرین پلے میں ساتھ ساتھ دکھائیں گے۔ اس وقت میں آپ کو خلاصہ سنا رہا ہوں۔ ترتیب آگے پیچھے بھی ہو سکتی ہے۔ اصل میں مجھے کہانی سنانا نہیں آتی۔ میں لکھ کے دے سکتا ہوں‘‘۔
اپنے لہجے کی چڑچڑاہٹ مجھے بھی محسوس ہوئی۔
’’ہاں مجھے بتایا تھا، اس نے (ڈائریکٹر نے) کہ تم کہانی سناتے، ہچکچاتے ہو۔ ٹھیک ہی ہے؛ تمھیں کہانی سنانا واقعی نہیں آتی۔۔ اچھا! پھر‘‘؟
’’سونیا اپنے محبوب لقمان کی پناہ میں آجاتی ہے۔ جلد ہی لقمان کا اصلی چہرہ سونیا کے سامنے آتا ہے‘‘۔
’’وہ کیسا چہرہ‘‘؟
میں نے اپنا اوپر کا ہونٹ سختی سے دانتوں میں بھینچ لیا۔
’’اچھا پھر‘‘؟
ایک گہرا سانس لے کے میں نے کہانی بڑھائی۔
’’وہ عاشق کے رُوپ میں دلال نکلتا ہے۔ سونیا لقمان پر چار حرف بھیجتی ہے‘‘۔
’’چار حرف‘‘؟
’’لعنت‘‘!۔۔ اور فیصلہ کرتی ہے، کہ دوسروں کی آلہ کار بننے کے بہ جائے، اپنی قیمت خود طے کرے گی، یوں وہ اس پیشے میں آ جاتی ہے‘‘۔
’’بس؟ یا کچھ اور بھی‘‘؟
’’ہے! کہانی کا آخری حصہ ہے‘‘۔
’’ہاں وہ سناو‘‘۔
’’فلیش بیک ختم ہو چکا ہے۔ ہم ہوٹل میں آ جاتے ہیں، صبح ہونے کو ہے۔ سونیا کی کہانی عدیل کو رنجیدہ کردیتی ہے، اسی دوران، اس کے سیل فون پر ایک لڑکی کی کال آ جاتی ہے‘‘۔
’’کس کے فون پہ‘‘؟
’’عدیل کے فون پہ‘‘۔
بڈھے کا سیل فون گنگنانے لگا۔ وہ فون میں متوجہ ہوا تو میں نے ڈائریکٹر کی طرف مایوسی سے دیکھا۔ اُس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا، کہ بڈھے کو پٹا لے گا۔
’’ہاں ہاں! آ جاو، آ جاو!۔۔ ڈائریکٹر بھی بیٹھا ہے، اور رائٹر بھی۔۔ مجھے تو اس کی کہانی سمجھ نہیں آ رہی، ہو سکتا ہے، تمھیں پسند آ جائے۔۔ ہاں ہاں ابھی آ جاو‘‘۔ بڈھا فون پہ کسی سے بات کر رہا تھا۔
کال منقطع ہوئی تو میں نے ایک لمحے کا وقفہ دیے بغیر کہانی کا سرا وہیں سے جوڑ دیا، جہاں چھوڑا تھا۔
’’عدیل چاہت بھرے لہجے میں بات کرتا ہے، سونیا سمجھتی ہے، عدیل کی بیوی کی کال ہے‘‘۔
’’ایک منٹ ایک منٹ۔۔ کہانی کو یہیں روک دو‘‘۔
’’بس اینڈ پہ ہیں‘‘۔
میں چاہ رہا تھا، کہ کہانی سنا کے اُٹھوں؛ گھر جاوں۔ رات ساڑھے دس کا وقت تھا، اور مجھے ڈیفنس سے ماڑی پور جانا تھا، جہاں رات کو رکشا، ٹیکسی والا بھی جانے کو تیار نہیں ہوتا۔ بڈھے نے میری بات سنی ان سنی کر کے، باچھیں پھیلاتے ہوئے ڈائریکٹر سے کہا۔
’’اسما آ رہی ہے؛ تم تو ملے ہوئے ہو، اچھا ہے‘‘۔ میری طرف اشارہ کرتے، ’’ان سے بھی ملاقات ہو جائے گی‘‘۔
میں نے سوالیہ نگاہوں سے ڈائریکٹر کی طرف دیکھا۔
’’نئی لڑکی ہے۔ ایکٹنگ کا شوق ہے۔ سونیا کا کیریکٹر اسی سے کروائیں گے‘‘۔
’’میں سیگرٹ پینا چاہتا ہوں، باہر گیلری میں جا رہا ہوں‘‘۔
مجھے تمباکو کی شدید طلب ہو رہی تھی، اور بڈھا ہارٹ پیشنٹ تھا، بند کمرے میں سیگرٹ نہی پی جا سکتی تھی۔
’’ہاں ہاں پی لو؛ لیکن زرا کم پیا کرو، لڑکے۔ ٹوبیکو ہی نے تمھارا دماغ خشک کر دیا ہے۔ مان لو۔ مجھے دیکھو کبھی ہاتھ بھی نہیں لگایا، اور کیسا فِٹ ہوں‘‘۔
اس نے ایسی خوش دلی سے کہا تھا، کہ کوفت کے باوجود میں مسکرا دیا۔ اسما کے آنے کا سن کے بڈھے کے تن بدَن میں بجلی بھر گئی تھی۔
میں گیلری میں کھڑا سیگرٹ پیتے اُلجھن کا شکار ہو رہا تھا، کہ خوام خواہ اپنا وقت ضایع کیا، ایک تو اس بڈھے کو پتا کچھ نہیں ہے، اور دوسرا میری یہ خامی ہے، کہ میں کہانی سنانے میں بہت برا ہوں۔ اچھے بھلے اسکرپٹ کو ایسے سناتا ہوں، کہ بے رنگ دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں ڈائریکٹر وہاں آ گیا۔ میں نے احسان جتلایا۔
’’آج تم نے برا پھنسایا، مجھے۔ تین یہیں بج جائیں گے، اور مجھے گھر جانے کے لیے صبح کی روشنی ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا‘‘۔
’’تو کیا ہوا۔ آج پہلی بار ہے، کیا؟ ہمارا تو کام ہی راتوں کا ہے‘‘۔
’’اوپر سے جب وہ کہتا ہے، اس سے اچھی کہانی تو میں لکھ لوں، تو سمجھ میری بس ہو جاتی ہے‘‘۔ میں نے اپنا درد بیان کیا۔
’’ایسا ہوتا ہے، یار۔ یہ جو پروڈیوسر جتنا فارغ ہوتا ہے، وہ اتنا ہی اپنی اہمیت جتلاتا ہے۔ بولنے دے اسے، ہمارا کیا جاتا ہے۔ خود لکھ سکتا تو ہم یہاں کیا کر رہے ہوتے۔
’’ہے کون یہ موصوفہ جس کا انتظار ہے‘‘؟
’’ابے یار بڈھے کی معشوق ہے۔ اسی کے لیے تو یہ کام شروع کیا ہے۔ امیر بٖڈھا ہے، اور معشوق ایکٹنگ کی شوقین‘‘۔
’’سن لے، یہ کام نہیں ہونے والا۔ خوام خواہ اپنا وقت بھی ضایع کر رہا ہے اور میرا بھی‘‘۔
’’ابے ہو گا ناں، یار۔ بڈھا یہ کام نہ ہمارے لیے کر رہا ہے، نہ اپنے لیے۔ کروڑ پتی آدمی ہے، پیسا لگا کے اپنی معشوق کو خوش کر رہا ہے‘‘۔
’’تجھے پتا ہے مجھے کہانی سنانی نہیں آتی۔ سیدھا مجھ سے اسکرپٹ لکھوا لیا کر۔ کہانی سنانے میں وہ بات نہیں بنتی، جو اسکرپٹ میں ہے‘‘۔
’’تیری آدھی ہار یہیں سے ہو جاتی ہے، کہ تو خود اپنی خامیاں بیان کرنے لگتا ہے؛ شوبز ہے؛ اب سیکھ لے یہاں کے اصول۔ خود ہی ہٹ کرو، اور خود ہی تالی بجاو۔ ورنہ کوئی اور نہیں بجائے گا۔۔ ابھی لڑکی آ رہی ہے، اُس سے مل؛ دیکھ کیسی پٹاخہ ہے‘‘۔
’’آڈیشن بھی لیا، یا بس ایسے ہی‘‘؟
’’ابے اڈیشن کیا لینا؛ سکھا دیں گے، ایکٹنگ اُسے۔ ہمارے کون سا باپ کا پیسا لگ رہا ہے۔ بھلے ایک کی چار شفٹیں لگیں‘‘۔
اسما کی عمر یہی کوئی بیس بائیس برس تھی۔ سراپا ایسا بھرا بھرا کہ آنکھ چرانا مشکل ہو۔ بات بے بات ہنستی جاتی۔ آنکھیں شوخی سے بھری؛ دیکھنے کا انداز ایسا کِہ جسے دیکھے اُس کا دَم وہیں کا وہی خشک ہو جائے۔ آنکھوں سے دِل نکالنے کا فن اُسے آتا تھا۔
’’تو آپ لکھ رہے ہیں، یہ کہانی! میرا کیریکٹر اچھا سا لکھیے گا‘‘۔
اس کے لہجے میں ہلکا سا جھٹکا تھا؛ جس سے واضح ہوتا تھا، کہ اردو اس کی مادری زبان نہیں ہے؛ لیکن یہ پہچاننا مشکل تھا، کہ اُس کی مادری زبان کیا ہو گی۔ ڈائریکٹر کو میں نے پہلے ہی کَہ دیا تھا، اگر کہانی دوبارہ سے سنانا پڑی تو تمھی سنا دینا۔ اُس نے بہت اچھے طریقے سے اسما کو بتایا کہ ہم کہانی میں کہاں کھڑے ہیں۔ اس کے بعد مجھے کہانی کا اگلا حصہ سنانا تھا۔
’’سونیا سمجھتی ہے کہ عدیل کی بیوی کی کال ہے، لیکن عدیل سننے کے بعد بتاتا ہے، یہ اس کی بیٹی کی کال تھی، جو کالج کے سیکنڈ ایئر میں ہے۔ مزید یہ بتاتا ہے، کہ اُس کی بیوی پانچ سال قبل انتقال کر گئی تھی۔ وہ آج پہلی بار نفسانی خواہش سے مغلوب ہو کر، یہ غلطی کرنے نکلا تھا‘‘۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

