خالصتان تحریک کا احیا اور پاکستان کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانیوں پر باہمی عزت ذلت کے فتوے لگانے کے بعد اب اپنے گردو پیش کی خبر لینا مزید از حد ضروری ہو گیا ہے۔ انڈیا صرف کشمیر اور اس سے منسلک معاملات میں ہی پاکستان کے حوالے سے واویلا نہیں کر رہا بلکہ کینیڈا اور برطانیہ میں خاصلتان کے حامی سکھوں کے اقدامات کو پاکستان کی سازش قرار دے رہا ہے۔ تا کہ طاقت کے زور پر دبائے گئے مشرقی پنجاب اور اس سے جڑے ہوئے علاقوں میں موجود سکھوں کی بے چینی اگر کسی مسلح جدوجہد کا رخ اختیار کرتی ہے تو الزامات کی ساری توپوں کا رخ پاکستان کی جانب کر دیا جائے۔

امریکی تنظیم سکھ فار جسٹس کے زیر اہتمام لندن میں کچھ دنوں قبل خالصتان کے حق میں ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ انڈیا نے اول تو برطانیہ پر جولائی میں دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ اس ریلی کو منعقد ہونے سے روک ڈالے۔ برطانیہ نے اس پر بیان جاری کیا کہ برطانیہ میں اظہار رائے اور اس کے لئے اجتماع کی ہر کسی کو اجازت ہے۔ اس لئے اس کو روکنا ممکن نہیں۔ اس ریلی کا مقصد یہ تھا کہ 2020؁ء میں پوری دنیا میں موجود سکھوں کو اس ریفرنڈم سے روشناس کروایا جا سکے کہ جس کا موضوع بھارت سے آزاد خالصتان کا قیام ہے۔

برطانیہ میں سفارتی شکست کے بعد بھارت نے اپنا پرانا ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا اور الزام لگایا کہ اس سب کے پیچھے آئی ایس آئی ہے اور اس کا ایک لیفٹیننٹ کرنل اس کا منصوبہ ساز ہے۔ اسی طرح کینیڈا میں بھی سکھوں کے خالصتان کے حق میں متحرک ہونے کو پاکستان سے جوڑنا شروع کر دیا گیا۔ اور بھارت کا یہی پروپیگنڈا کسی نئی منظم پاکستان کے خلاف عالمی دنیا میں جاری طرز فکر کی بنیاد ہو سکتا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ کشمیر کی آزادی نہیں بلکہ صرف بھارت دشمنی ہے اور ایسے تصور کا دنیا میں فروغ پا جانا ہمارے لئے مزید مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ حالانکہ سکھ تاریخ سے واقف لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ برطانوی نو آبادیاتی دور میں سکھوں کے ایک قابل لحاظ تعداد کینیڈا اور امریکہ وغیرہ میں جا بسی تھی اور اس وقت سے ہی وہاں پر وطن کی آزادی کے حوالے سے تحاریک نے جنم لینا شروع کر دیا تھا۔

آج سے ایک صدی سے قبل جو پنجاب میں معروف غدر پارٹی کی تحریک چلی تھی اس کا مرکزی دفتر سان فرانسسکو میں ہی تھا اور جب پہلی عالمی جنگ کے دوران آزادی کی خاطر پوری دنیا کے سکھوں کو اس تنظیم نے پنجاب آنے کی دعوت دی تو کینیڈا ان سکھوں کا مرکز تھا جو پوری دنیا سے پنجاب کا رخ کر رہے تھے۔ اور ان کا مقصد صرف برطانوی سامراج سے آزادی تھی۔ سکھ تاریخ کا دیو مالائی کردار میوا سنگھ بھی کینیڈا میں ہی رہائش پذیر تھا کہ جس نے کینیڈا کی عدالت کے احاطے میں پولیس افسر ہوپ کنسن کو اس لئے قتل کر دیا تھا کہ وہ اپنے پولیس مخبر لیبا سنگھ کو ان قتلوں سے بچانا چاہتا تھا جو اس نے ہوپ کنسن کے ایماء پر 5 ستمبر1915؁ء کو کینیڈا میں سکھوں کے ایک مجمع پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے کیے تھے۔

سکھوں کی اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے بھارت سے باہر موجود سکھوں کی اسی تحریک کا محرک پاکستان کو قرار دینا درحقیقت صرف الزام تراشی ہے اور کچھ نہیں۔ بھارت عرصے سے ایک تاثر قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ خالصتان تحریک در حقیقت سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی لگائی گئی وقتی آگ تھی جو کہ اب بجھ چکی ہے۔ مگر ان واقعات کے ظہور پذیر ہونے سے ان کا یہ دعویٰ باطل ثابت ہو رہا ہے۔ بھارتی یہ دلیل بھی دے رہے ہیں کہ سکھوں کی نامی گرامی شخصیات جو انڈیا میں موجود ہے۔ ریفرنڈم 2020؁ء کے آئیڈیا سے لاتعلق ہے۔ حالانکہ غدر پارٹی کے وقت بھی سکوں کی معروف شخصیات تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو پر عمل پیرا تھی مگر عوام میں جذبات موجود تھے ابھی ریفرنڈم 2020؁ء کے دور ہیں مگر بھارتی پنجاب اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گرفتاریاں شروع ہو چکی ہیں۔

سکھ اپنی علیحدہ شناخت کے حوالے سے کتنے پر جوش ہیں کہ ان کو بھارتی نہ سمجھا جائے۔ اس کی ایک مثال برطانیہ میں مردم شماری کے معاملے میں دیکھنے میں آئی کہ جب سکھوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ان کی شناخت کے لئے مردم شماری فارم میں انڈین کی بجائے سکھ کا علیحدہ خانہ شامل کیا جائے اور اس مطالبے کی گونج اتنی تھی کہ 140 برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے اس مطالبے کے حق میں برطانوی محکمہ شماریات کو خط تحریر کر دیا۔ گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ کیرولین لوکاس اعلانیہ خالصتان تحریک کی بھی حمایت کر رہی ہے جبکہ لیبر پارٹی کی پریت کور گل نے بھی مخالفت سے اعتراض کیا ہے۔

اگر بھارت پاکستان کی جانب انگلی نہ اٹھاتا تو پاکستان کے لئے بھی یہ ممکن تھا کہ وہ بھارت میں جاری دیگر علیحدگی پسند تنظیموں کی مانند ان معاملات سے بھی صرف نظر کر دیتا۔ مگر اب اس حوالے سے بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ احتیاط اول تو صرف بھارت کے ساتھ ہی کی جائے کہ وہ اس حوالے سے وہ دنیا میں کیا شور مچاتا پھر رہا ہے۔ دوئم عالمی برادری اس شور کے اثرات کو کیسے دیکھ رہی ہے اور سوئم سکھ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کس طرح دیکھتے ہیں۔

خیال رکھنا چاہیے کہ مغلوں کے عہد سے 1947؁ء کے خون اشام واقعات تک سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک کشیدگی کی فضاء قائم رہی۔ اس کا آغاز مغلوں کے ہاتھوں سکھ گروؤں پر مظالم کے ساتھ ہوا کہ جس کے نتیجے کے طور پر سکھ سردار بندہ سنگھ نے مسلمانوں کے خلاف مظالم کی ایک تاریخ لاہور سے سرہند تک اپنی تلوار سے تحریر کر ڈالی۔

مجیب الرحمن شامی اور عبدالرؤف طاہر نے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا کہ جس میں، میں بھی موجود تھا اس نشست میں سعود سحر بتا رہے تھے کہ میں سوچتا تھا کہ 1947؁ء میں سکھ اتنے متشدد کیوں ہو گئے تھے۔ لیکن یہ معمہ تب حل ہوا جب میں نے پنجہ صاحب میں موجود تصاویر کی گیلری میں وہ سینکڑوں تصاویر دیکھی کہ جن میں سکوں کا قتل عام یا مغلوں سے ان کی لڑائی دکھائی گئی کہ جن کے نتیجے میں عام مسلمان ہزاروں کی تعداد میں لقمہ اجل بنے۔ پھر معلوم ہوا کہ 1947؁ء میں غصے کو پورا عروج حاصل تھا۔

ان تلخ واقعات کو دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ 1984؁ء میں ہوئی سکھ نسل کشی اور گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی کے واقعات نے سکھوں کا مسلمانوں کے حوالے سے اور خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے نظریے میں ایک مثبت تبدیلی وقوع پذیر ہو گئی۔ درمیان میں ایک سابقہ وزیر داخلہ کے غیر ذمہ دارانہ اقدام نے ممکن ہے کہ بھارتی حکمرانوں کے لئے تو ان کے دل میں نرم گوشہ پیدا کر دیا ہو مگر سکھوں کے لئے ایک نئے تکلیف دہ واقعہ کا اضافہ ضرور کر ڈالا۔ مگر پھر بھی سکھوں کا پاکستان کے حوالے سے تصور اس درد کے باوجود مثبت ہی رہا۔

کرتار پور کو کھولنے کی بابت بات کرنا ویسے تو وزارت خارجہ کی جانب سے ہونا چاہیے تھا مگر چلو خیر مگر جو یہ خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ کرتار پور کی آڑ میں ایک اور مذہبی گروہ کو ہندوستان میں کرتار پور کے نزدیک اپنے مذہبی شہر تک رسائی دینے کا پروگرام ہے۔ اگر ایسا ہوا تو سکھ پھر سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ہمیں صرف استعمال کیا گیا۔ نہایت احتیاط کے کسی دوسرے ملک میں جاری شورش سے پاکستان کوسوں دور رہے اور نہایت احتیاط کہ کسی قوم میں موجود مثبت جذبات ہمارے لئے منفی نہ ہو جائے۔

نوٹ :۔ ایک اور کار خیر کا بھی تذکرہ کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ میں مقیم چند پاکستانیوں نے ”علم و ادب“ کے نام سے ایک تنظیم قائم کر رکھی ہے کہ جو گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے متعدد اضلاع میں سرکاری سکولوں کو بہتر کرنے کے لئے بہت خطیر رقم خرچ کر رہے ہیں۔ اگر کوئی بھی سرکاری سکول کے ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹریس اپنے سکول کے لئے ان کی معاونت چاہے تو وہ امریکہ میں مقیم معروف آئی ٹی سپیشلسٹ طلحہٰ خان سے اس ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
[email protected]

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •