اعتزاز احسن: وہ جنگ تم بھی نہ جیتے جو ہم نے ہاری ہے
نئے پاکستان میں عارف علوی صدرِ پاکستان کے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں۔ اعتزاز احسن نے شکست کھائی۔ چناں چہ روایت قائم رہی اور کوئی اپ سیٹ نہ ہو سکا۔ اگر چہ یہ اندازہ پہلے ہی لگایا جا چکا تھا کہ عارف علوی اس انتخاب میں کام یاب رہیں گے لیکن یہ فتح کچھ جچ نہیں رہی۔ ایک عجیب سا احساس ہو رہا ہے، جیسے کوئی چلتے چلتے دور نکل آیا ہو، جیسے کوئی ڈاکیا خط نہ لایا ہو، جیسے کوئی ٹرین چھوٹ گئی ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ عارف علوی کے صدر بننے پر کسی کو تحفظات ہوں، ایک ڈینٹسٹ سے صدر تک پہنچنا ایک بڑی کام یابی ہے۔ سیاست سے ان کا تعلق بھی پرانا ہے۔ 1979ء میں وہ سیاست کے افق پر نمودار ہوئے اور جماعت اسلامی کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا یہ الگ بات ہے کہ جمہوریت کے راستے میں ضیا الحق کی آمریت دیوار بن گئی، انتخابات نہ ہو سکے، بعد ازاں عارف علوی اپنے پیشے کی طرف آ گئے۔ 1996ء میں جب تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی گئی تو عارف علوی کا سیاسی سفر عمران خان سے وابستہ ہو گیا۔ وہ 1997 میں تحریک انصاف سندھ کے صدر، 2001 میں مرکزی نائب صدر اور 2006 میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری بنائے گئے۔ 2013 کے انتخابات میں وہ پہلی بار کام یاب ہوئے اور کراچی کے حلقے این اے 250 سے ایم این اے منتخب ہوئے اور اب صدارتی الیکشن میں کام یاب ہو کر پاکستان کے تیرھویں صدر بن گئے ہیں۔
اعتزاز احسن 27 ستمبر 1945ء کو مری میں پیدا ہوئے مگر تعلیمی سلسلہ لاہور میں جاری رہا۔ ایچی سن کالج اور گورنمنٹ کالج لاہور سے حصولِ علم کے بعد لا کی تعلیم ڈاوننگ کالج کیمبرج سے حاصل کی۔ سی ایس ایس کے امتحان میں ٹاپ کیا تاہم انھوں نے سول سروس جائن نہیں کی۔ انھوں نے 1967ء میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 1970 میں سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور چند سال بعد ضمنی انتخابات میں پہلی بار پنجاب اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے کام یاب ہوئے۔ وزیر اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے صوبائی کابینہ کا حصہ بھی رہے۔ جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں سرگرم رکن ہونے کے باعث انھیں ضیا الحق کے دور میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 1988ء میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اور وزیر داخلہ بنے۔ 1996 میں پیپلز پارٹی کی طرف سے پہلی بار سینیٹر بنے، 2012 اور 2015 میں بھی سینیٹر منتخب ہوئے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ اعتزاز احسن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے اور عدلیہ بحالی کی تحریک میں بڑا موثر اور بھرپور کردار ادا کیا۔ انھوں نے سندھ ساگا کے نام سے کتاب لکھی جو اردو اور انگلش زبان میں شایع ہوئی۔ اعتزاز احسن کا شمار پاکستان کے دانشوروں میں کیا جاتا ہے۔ اگر وہ پاکستان کے صدر منتخب ہو جاتے تو عالمی افق پر پاکستان کا روشن چہرہ بنتے، لیکن ہمارے یہاں فیصلے عقل سے نہیں دل سے کیے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ نون نے ان کی نامزدگی کو قبول نہ کیا اور مولانا فضل الر حمٰن کو ان کے مقابلے پر میدان میں اتار دیا۔ حالاں کہ جب ان کا نام سامنے آ گیا تھا تو پی ٹی آئی کو بھی چاہیے تھا کہ اعتزاز احسن کو مشترک امیدوار بنا کر بلا مقابلہ منتخب کراتے۔ عارف علوی کو کسی دوسری پوزیشن پر لایا جا سکتا تھا۔ اگر میرٹ پر دیکھا جائے تو اعتزاز احسن صدارت کے لیے سب سے موزوں امیدوار تھے۔ ان کے اب تک کے سیاسی کیریئر میں کرپشن کا کوئی داغ ان کے دامن پر نہیں لگا۔
ایک شاعر، ادیب ، دانشور جو سیاست دانوں میں بھی ایک بڑا سیاست دان ہے، وہ ہار گیا۔ یہ کیسی ہار ہے جس پر ایسا لگ رہا ہے کہ ایک صدارتی امیدوار نہیں ہارا جمہوریت ہار گئی ہے، عوام ہار گئے ہیں، جیسے میرٹ اور انصاف کو شکست ہو گئی ہے اور جیت ہوئی ہے سیاسی مصلحتوں کی، انا پرستی کی اور ذاتی پسند نا پسند کی۔ تمام سیاسی قوتوں نے عارف علوی کو ان کی کام یابی پر مبارک باد دی ہے۔ اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض بطریق احسن سر انجام دیں گے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دل سے احساس رائیگانی اور قلق مٹ گیا ہے۔ کیوں کہ یہ انتخاب سیاسی پختگی اور بالغ نظری پر ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ایک عام پاکستانی بھی خواب رکھتا ہے مگر اس کے خواب ریزہ ریزہ ہوئے ہیں، یہ امیدوں اور ولولوں کی ہار ہے۔ عوام کے سینے تو ہمیشہ ہی سے چھلنی ہوتے آئے ہیں۔ ایک چھید اور پڑ گیا ہے۔ ایک ایسی پارٹی جس نے میرٹ کی سر بلندی کا نعرہ دیا تھا، اسی کے ہاتھوں میرٹ کا خون ہوا ہے مگر اسے اس کا احساس تک نہیں۔ ادھر فتح کے شادیانے بجائے جائیں گے۔ اپنی سیاسی حکمت عملی کی داد وصول کی جائے گی۔ مگر ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اور ورق ایسا تحریر ہو گیا ہے کہ اسے جب بھی پڑھا جائے گا ایک خلش محسوس ہو گی۔
یہ کیسی جیت ہے جو پاکستان کی نہیں ایک سیاسی پارٹی کی جیت کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتی حالاں کہ صدر کا عہدہ سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوتا ہے۔ صدر وفاق کی علامت ہوتا ہے۔ صدر کی شخصیت ایسی ہونی چاہیے جسے بڑے فخر سے دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔ یہ کیسی ہار ہے جسے آسانی سے فراموش کر دینا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ مستقبل میں جب بھی صدارتی الیکشن ہو گا اعتزاز احسن کو ضرور یاد کیا جائے گا۔


