نواز شریف کے بعد آصف علی زرداری کے معاملے پر بھی جے آئی ٹی بن گئی: آئی ایس آئی کے بریگیڈیر شاہد پرویز شامل


جعلی اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی کی تشکیل کا تحریری حکم جاری کر دیا گیا۔ جعلی بینک اکاؤنٹس سے منی لانڈرنگ کے الزمات کی تحقیقات کیلئے6 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی جس میں آئی ایس آئی، کمشنر کارپوریٹ ٹیکس آفس، ایف آئی اے، نیب، ایس ای سی پی اور ایف بی آر کے افسران شامل ہیں۔

نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ نے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے خلاف جعلی بینک اکاونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزمات کی تحقیقات کیلیے 6 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمشنر کارپوریٹ ٹیکس آفس عمران لطیف منہاس ، ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل احسن صادق، ڈائریکٹرنیب نعمان اسلم، ایس ای سی پی کے ڈائریکٹر محمد افضل، آئی ایس آئی کے بریگیڈیر شاہد پرویز اور ایف بی آر کے ٹیکس کمشنر عمران لطیف جے آئی ٹی میں شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامے کے مطابق جے آئی ٹی کوایف آئی اے ایکٹ، اینٹی کرپشن قوانین کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے۔ جے آئی ٹی کو ضابطہ فوجدرای اور نیب آرڈیننس کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے۔ جے آئی ٹی اپنی سہولت کے مطابق سیکرٹریٹ تشکیل دےگی۔ ایف آئی اے سمیت جے آئی ٹی کا کوئی رکن تحقیقات سے متعلق پریس ریلیز یا اطلاع جاری کرے گا۔ جے آئی ٹی 15 روزبعد سپریم کورٹ میں پیش رفت رپورٹ جمع کرائے گی۔

سپریم کورٹ نے رینجرز کو جے آئی ٹی ارکان کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کے تمام افسران کی سکیورٹی  سخت کر دیں۔ سکیورٹی فراہم کرنے کا مقصد تحقیقات کو شفاف اور موثر بنانا ہے۔ ملک کے تمام انتظامی ادارے جے آئی ٹی کی معاونت کے پابند ہوں گے۔ جے آئی ٹی جعلی بینک اکاؤنٹس کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ جے آئی ٹی سراغ لگائے گی کہ سچائی کیا ہے؟ جے آئی ٹی جعلی بینک اکاؤنٹس میں ملوث افراد کےخلاف شہادتیں اکٹھی کرے گی۔ جعلی بینک اکاونٹس میں جے آئی ٹی کی تشکیل ناگزیر ہے۔ تحقیقات پر اثرانداز ہونے، رکاوٹ ڈالنے یا دباؤ کی کوشش ہوئی تو درخواست کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی درخواست پر جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیاتھا جبکہ سپریم کورٹ نے تحقیقات کو اسلام آباد منتقل کرنے کی ڈی جی ایف آئی اے کی استدعا مسترد کر دی۔

Facebook Comments HS