رات گئے معروف صحافی ملک رمضان اسراء کے گھر پر حملہ، صحافی محفوظ
مذکورہ صحافی کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان کے پسماندہ گاؤں چڑا اولاد سے ہے آپ ”ہم سب“ سمیت مختلف اداروں میں بلاگز اور بیٹھک ملک رمضان اسراء کے نام سے مختلف قومی اخبارات میں کالمز لکھتے ہیں 6۔ ستمبر۔ 2018 کی رات گئے تقریبا 9:30pm پر آبائی گاؤں میں موجود گھر پر نامعلوم افراد نے زوردار طریقے سے کھٹکھٹاہٹ شروع کردی۔ ( واضح رہے علاقہ کی حالات کی خرابی کے پیش نظر اور عموما ویسے بھی گاؤں کے لوگ جلد سو جاتے ہیں تو مذکورہ صحافی بھی خاندان سمیت سوچکا تھا) کون کون کی آواز دینے کے باوجود باہر موجود افراد نے جواب نہ دیا۔ لیکن اس دوران خاموشی ہوگئی تاہم ملک رمضان اسراء سمیت گھر کے تمام افراد نے خوف کے باعث دروازہ کھولنے سے گریز کیا، اور پریشانی کے عالم میں گھر میں موجود رہے اور مین گیٹ کو مضبوطی سے بند کردیا۔
یہ اس لئے بھی کیا گیا کہ اسی طرح کی کئی وارداتیں ہوچکی ہیں جس میں ملزمان دروازہ کھٹکھٹاکر اگر کوئی باہر نکلے تو موقع پاتے ہی حملہ بول دیتے ہیں۔ ملک رمضان اسراء چونکہ ان حالات سے خوبی آگاہ تھا تو انہوں بے احتیاط سے کام لیا لیکن ایک بار پھر ملزمان کی جانب سے 10:15pm پر اسی انداز میں مزید زوردار طریقے سے مین گیٹ پر جیسے ڈنڈے مارنا شروع کردیئے پہلے سے خوفزدہ خاندان مزید خوف و ہراس میں مبتلاء ہوگیا۔ لیکن دوبارہ بار بار یہ پوچھنے پر کہ آپ کون لوگ ہیں اور کیا چاہتے ہیں کے جواب میں نامعلوم ملزمان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جس سے ظاہر یہ ہوتا ہے نامعلوم ملزمان دروازہ کھلواکر مذموم کارروائی کرنا چاہتے تھے یا یہ سازش بھی ہوسکتی ہے مذکورہ صحافی گھر سے باہر یہ صورت حال جاننے کے لئے نکلے اور ان پر حملہ کردیا جائے۔
اس بیہودہ حرکات کے پیش نظر رات بھر ملک رمضان اسراء سمیت بچے، بوڑھے، مرد و خواتین شدید خوف و ہراس میں رہے اور دن ہونے تک جاگتے رہے۔ اس واقع سے متعلق معروف صحافی نے قریبی تھانہ پروآ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایس ایچ او درخواست دے دی ہے۔
ملک رمضان اسراء ہمیشہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت قبضہ مافیاء، با اثر شخصیات اور وڈیروں کے بے بس لوگوں پر ظلم کے خلاف رپورٹ کرتے رہے ہیں انہوں نے انتہائی خراب حالات کے باوجود ظلم ستم کے خلاف کھلے عام بولتے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف با اثر شخصیات کی طرف سے زدوکوب کرنے کی کوشش کی گئی۔ حتکہ اس سے قبل بھی کچھ لوگوں نے وڈیروں کی ایما پر ان کے گھر پر حملہ کی کوشش کی مگر مقامی افراد کی جانب سے معاملہ کو رفع دفع کردیا گیا تھا۔
2013 میں مقامی وڈیروں کے ظالمانہ فیصلوں کے خلاف بولنے پر ناصرف انہیں بلکہ ان کی فیملی سمیت رشتہ داروں کو بھی با اثر سیاسی شخصیات کی حمایت پر جھوٹے مقدموں میں پھنسایا گیا تھا۔ جس میں ان کے خاندان سے ایک جرگہ کے تحت زبردستی انتظامیہ کی ملی بھگت سے لاکھوں روپے وصول کیے گیے جو گھر کا سازوسامان بیچ کر ادا کیے گئے تھے۔


