494 پھانسیاں اور نیا پاکستان


نئی حکومت کو بنے قریب ایک ماہ ہو چکا ہے اور تحریک انصاف حکومت ہر اعتبار سے خود کو مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے مختلف حکومت ثات کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے مسلم لیگ نواز کی حکومت کے دوران دی جانے والی 494 پھانسیاں حکومتی کارکردگی  جانچنے  اور آئندہ حکومت کو درپیش مسائل کے تجزیے  کا ایک منفرد پیمانہ ہیں۔ دسمبر 2014 سے اب  تک دی گئی پھانسیوں کا جائزہ  اس لیے بھی ضروری ہے کیوں کہ یہ پھانسیاں پاکستان میں انسانی حقوق کے بحران کا سنگین ترین اظہار ہیں، اور نئے پاکستان کے لیے ایک اہم یاددہانی بھی کہ اسے پاکستانی نظام انصاف میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تدارک کرنا ہے۔

2015؛ خوفناک ترین سال

2015 پاکستان میں سزائے موت کے اعتبار سے خوفناک ترین سال قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس برس 325 افراد کی پھانسیوں پر عملدرآمد کیا گیا جو یقیناً پاکستا ن میں ایک  برس کے دوران دی گئی سب سے زیادہ پھانسیاں ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود 1996 سے اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کبھی ایک برس میں اتنی زیادہ پھانسیاں نہیں دی گئیں۔ اس برس پاکستان کی بعض ایسی جیلوں جیسے ٹوبہ ٹیک سنگھ ڈسٹرکٹ جیل، سرگودھا سنٹرل جیل اور ہری پور سنٹرل پرزن  میں بھی پھانسیاں دی گئیں جہاں اس سے پہلے کبھی پھانسیاں نہیں دی گئی تھیں۔  مارچ 2015 کے  دوران ہی  حکومت نے دہشت گردی کے علاوہ عام جرائم کی پاداش میں سزائے موت پانے والوں کی پھانسیوں پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا تھا۔

 2015 اس حوالے سے بھی  اذیت ناک رہا کیوں کہ اس برس انصر اقبال اور آفتاب بہادر جیسے افراد کی سزائے موت پر بھی عملدرآمد کیا گیا جن کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسے شواہد سامنے لائی تھیں جو انہیں جرم کے وقت نابالغ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح بہاولپور میں دو ایسے افراد کو بھی اسی برس پھانسی دی گئی جنہیں بعد ازاں سپریم کورٹ نے بری کر دیا تھا۔ غلام قادر اور غلام سرور کو 13 اکتوبر 2015 کو بہاولپور جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی، تاہم عینی گواہ کے بیان میں تضاد پر ایک برس بعد اکتوبر 2016 میں انہیں  بری کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

رحم کی کوئی اپیل منظور نہیں کی گئی

عارف علوی نئے صدر منتخب ہو چکے ہیں لیکن انہیں یہ علم ہونا چاہیئے کہ دسمبر 2014سے اب تک صدر پاکستان کی جانب سے سزائے موت کے کسی بھی قیدی کی رحم کی اپیل منظور نہیں کی گئی۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی رپورٹ No Mercy کے مطابق باوجود اس کے کہ پاکستان میں ذہنی بیمار، جسمانی مفلوج اور جرم کے وقت نابالغ افراد بھی سزائے موت کے قیدیوں میں شامل ہیں پانچ برس کے دوران 513 رحم کی اپیلیں مسترد کی گئیں۔

پاکستان سزائے موت دینے والے بدترین ممالک میں شامل ہے

دسمبر 2014 سے لے کر اب تک پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت سنانے والے اور سزائے موت پر  سب سے زیادہ عملدرآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل رہا ہے۔  2015، 2016 اور 2017 کے اعدادوشمار پر مبنی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹوں میں پاکستان کو ان پہلے پانچ ممالک میں شامل کیا جاتا رہا ہے جو سب سے زیادہ سزائے موت سناتے ہیں، اور سزائے موت پر سب سے زیادہ عملدرآمد کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان ان ممالک کی فہرست میں بھی شامل رہا ہے جہاں فوجی عدالتیں عام شہریوں کو سزائے موت سنا تی ہیں، جہاں غیر مہلک جرائم جیسے منشیات فروشی، توہین مذہب و رسالت اور ریپ کے لیے بھی سزائے موت دی جا سکتی اور جہاں جرم کے وقت نابالغ افراد اور ذہنی بیمار بھی سزائے موت کے منتظر قیدیوں میں شامل ہیں۔

پھانسیوں میں بتدریج کمی

ایک اور اہم اور مثبت رحجان پھانسیوں کی تعداد میں بتدریج کمی کا ہے۔جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2015 میں 325 افراد کو پھانسی دی گئی، جبکہ 2016 میں 88، 2017 میں 66 اور 2018 میں تادم تحریر 8 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ اس بتدریج کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنان اور بین الاقوامی اداروں کی تگ و دو پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے میں کس قدر معاون ہے۔  اس تجزیے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ 2017 میں  اقوام متحدہ کی  کمیٹی برائے انسانی حقوق میں پاکستان کی کارکردگی کے جائزے کے بعد سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس سے سزایافتہ افراد کی پھانسیوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

سزا دینے والی عدالت 2015 2016 2017 2018
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس 196 61 16 7

سب سے زیادہ پھانسیاں پنجاب میں

ان پھانسیوں کا سرسری تجزیہ بھی جو بات سب سے پہلے سامنے لاتا ہے وہ یہی ہے کہ سب سے زیادہ پھانسیاں پنجاب میں دی گئیں۔ کل 494 میں سے 402 پھانسیاں پنجاب کی مختلف جیلوں میں دی گئیں۔ ان پھانسیوں کی ایک سادہ توجیہہ تو یہ ہے کہ چونکہ تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ قتل پنجاب میں ہوتے ہیں، پنجاب کی آبادی سب سے زیادہ ہے اس لیے یہاں پھانسیوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ تاہم ان پھانسیوں کا جواز پیش کرنا مشکل ہے۔ اگر پھانسیاں جرائم کم کرنے کے لیے دی جا رہی ہیں تو یقیناً پنجاب میں جرائم میں سب سے زیادہ کمی ہونی چاہیئے تھی لیکن ایسا نہیں ہے۔  جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی گزشتہ برس سامنے آنے والی ایک رپورٹ Counting Executionsکے مطابق جرائم کی شرح میں سب سے زیادہ کمی سندھ میں دیکھنے کو ملی جہاں پھانسیوں کی شرح پنجاب کی نسبتاً بے حد کم ہے۔

سب سے زیادہ پھانسیاں عام مجرموں کو

اگرچہ سزائے موت پر عملدرآمد اس دلیل کے ساتھ بحال کیا گیا کہ یہ دہشت گردی کےتدارک کے لیے ضروری ہے تاہم 494 سےکم از کم 279 قیدی ایسے تھے جنہیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے موت کی سزائیں سنائی تھیں جبکہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے سزایافتہ افراد کی پھانسیوں کی تعداد 77 ہے۔ اگر جرائم کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بھی سب سے زیادہ پھانسیاں ایسے جرائم کے مرتکب قرار دیئے جانے والے افراد کو دی گئیں جو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتے۔

جرم کی نوعیت پھانسیوں کی تعداد
عام جرائم (قتل، ڈکیتی کے دوران قتل، ریپ اور قتل وغیرہ) 413
دہشت گردی1 81

سزائے موت کا سیاسی استعمال

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی گزشتہ برس جاری کی گئی ایک رپورٹ Counting Executions کےمطابق مسلم لیگ نواز کی حکومت نے سزائے موت کا سیاسی استعمال کیا۔ سزائے موت پر عملدرآمد بحال کرنے کا فیصلہ بھی سیاسی تھا ۔ اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ  پنجاب میں ہونے والے ہر بڑے دہشت گرد حملے کے بعد پھانسیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔   یہ تشویشناک رحجان دہشت گردی کے خلاف عارضی اور سیاسی نوعیت کے اقدامات کرنے کی روش کے غماض ہیں۔

نئے پاکستان کے لیے سوال

مسلم لیگ نواز کی سابقہ حکومت آئندہ حکومت کے لیے آٹھ ہزار ایسے قیدی چھوڑ کر جا رہی ہے جو سزائے موت کے منتظر ہیں، ان قیدیوں میں محمد اقبال اور محمد اعظم جیسے ایسے قیدی بھی ہیں جو جرم کے وقت نابالغ تھے اور کنیزاں، امداد علی اور خضر حیات جیسے قیدی بھی جو مختلف ذہنی امراض کا شکار ہیں۔  آئندہ حکومت کے لیے ایک پہلا بڑا مسئلہ ایسے قیدیوں کی رحم کی اپیلوں سے متعلق فیصلے کرنا ہو گا جو رحم کے مستحق ہیں اورعارف علوی آرٹیکل 45 کے تحت معاف کر سکتے ہیں۔

دوسرا اہم مسئلہ سرعام پھانسیوں کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا ہو سکتا ہے۔ جہاں ایک جانب مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کے مطالبات اور پٹیشنز زیر سماعت ہیں آئندہ حکومت کو اس ضمن میں درست فیصلہ کرتے ہوئے سرعام پھانسیوں جیسے غیر انسانی مطالبات کو مسترد کرنا ہو گا۔

تیسرا اہم سوال ایسے جرائم کی تعداد کم کرنے کا ہےجن پر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ اس وقت 27 ایسے جرائم ہیں جن پر سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دونوں کی حکومتیں اس حوالے سے غور کر چکی ہیں تاہم ٹھوس اقدامات تاحال نہیں کیے جا سکے۔

فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کی سماعت  اور سزائے موت کا سنایا جانا نئے پاکستان کے لیے ایک اور اہم سوال ہے۔ فوجی عدالتوں کی مدت جنوری 2019 میں ختم ہو رہی ہے اور آئندہ حکومت کو ان عدالتوں کی مدت میں توسیع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اب جنوری 2018 میں آئی ایس پی ار کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق اب  تک یہ عدالتیں 171 افراد کو سزائیں سنا چکی ہیں جبکہ 56 سزایافتگان کی سزائے موت پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔

سزائے موت پر عملدرامد کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ سزائے موت سنانے کا رحجان بھی ہے۔ گزشتہ برس بھی پاکستان میں 200 سے زائد افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس ضمن میں ایک اور تشویشناک رحجان توہین مذہب و رسالت کے مقدمات میں سزائے موت سنانے کا ہے۔ یہ رحجان اب تحریر و تقریر سے بڑھ کر سوشل میڈیا اور موبائل پیغامات تک پھیل گیا ہے۔

نئے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اب تک سزائے موت کے حوالے روا رکھے جانے والی روش پر نظر ثانی کرے اور سزائے موت جیسی سزا کے تدارک کے لیے کوشش کرے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں