نواز شریف کی سزا معطلی، ڈیل یا ڈھیل؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ملزم اگر اس حالت میں گرفتار ہو کہ مقتول پہ جھکا ہوا ہو، خون آلود آلہ قتل اس کے ہاتھ میں ہو اور اس حالت کے عینی شاہد بھی موجود ہوں تب بھی ڈیو پروسس آف لا اور فئیر ٹرائل کے بغیر اس ملزم کو مجرم قرار دے کر سزا نہیں دی جا سکتی“ یہ غالباً ایک امریکن چیف جسٹس کے الفاظ ہیں۔ قانون کی دنیا میں چند اور اقوال بھی ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں مثلاً ”انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا نظر بھی آنا چاہیے“ یا یہ کہ ”انصاف میں تاخیر انصاف کی تکفیر کے برابر ہے“

خاکسار بھی سنہ 2011 سے اوائل سنہ 2018 تک قافلہ انقلاب کا راہی اور عمران خان کا سپاہی تھا۔ کچھ شکوک و شبہات پہلے سے بھی تھے لیکن نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر قائدین کے خلاف جس غیر شفاف اور مضحکہ خیز اور جانبدار انداز میں مقدمات بنائے اور چلائے گئے ان عوامل میں سے ایک ہیں جنہوں نے خواب غفلت سے مکمل بیدار کرنے میں تابوت میں آخری کیل کا کام کیا۔

ساری زندگی ان کی کرپشن اور لوٹ مار کی داستانیں سنی تھیں اور ایمان لے آئے تھے کہ پاکستان کے ہمہ جہتی زوال کا باعث بس یہی ”کرپٹ سیاستدان“ ہیں۔ احتساب کا وقت آیا تو ریاست اور اس کے سارے ستون عدلیہ، میڈیا، وفاقی ادارے اور لمبڑ ون مل کر اور میوچل لیگل اسسٹنٹس کے ذریعے دنیا کے کئی ممالک کی مدد حاصل کر کے بھی اقامہ اور ’نا حاصل کردہ تنخواہ‘ پہ نا اہل سکے اور بعد ازاں مفروضے پہ سزا دے پائے۔ دماغ کی چولیں ہل گئیں صاحب!

یہ کیس کس قدر بودے اور بے جان تھے اسے سمجھنے کے لئے ماہر قانون ہونا ہر گز ضروری نہیں۔ میرے جیسا ”لے مین“ بھی اسے با آسانی سمجھ سکتا ہے۔ احتساب عدالت سے میاں نواز شریف کو آمدنی سے زیادہ اثاث جات کے قانون کے تحت سزا دی گئی۔ اس میں تین سادہ سی باتیں تھیں۔ ذرائع آمدن کا تعین، اثاثوں کی مالیت کا تعین (تاکہ ان دونوں میں عدم مطابقت ثابت کی جا سکے) اور اثاثوں کا ملزم کی ملکیت ثابت کرنا۔

جے آئی ٹی اور احتساب عدالت کی پوری کارروائی میں کسی مرحلے پر بھی نا نواز شریف (یا مریم نواز) کی آمدنی کا تعین کیا گیا نا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی مالیت کا تعین ہوا اور نا ہی کوئی ایک دستاویزاتی ثبوت پیش کیا گیا جس سے ثابت ہوتا کہ فلیٹس نواز شریف کی ملکیت ہیں یا تھے۔ دانستہ پھیلائے گئے غلط العام تصور کہ بار ثبوت ملزم پر ہوتا ہے کو بھی خود احتساب عدالت اپنے ہی ایک گزشتہ فیصلے میں رد کرتے ہوئے قرار دے چکی ہے کہ ابتدائی بار ثبوت استغاثہ یعنی نیب پر ہوگا

عین ممکن ہے نواز شریف، ان کا خاندان اور باقی سارے سیاستدان واقعی کرپٹ ہوں۔ مگر لاڈلے کے لئے راستہ صاف کرنے کی جلدی میں انصاف کے بنیادی تقاضوں کو فراموش کرتے ہوئے جس طرح جلد بازی میں نا اہلی اور سزا کے فیصلے سنائے گئے اس سے نا صرف دنیا میں بطور بنانا ریپبلک ہماری جگ ہنسائی ہوئی بلکہ قومی اور عالمی سطح پہ ہماری عدلیہ کاوقار بھی بری طرح مجروح ہوا۔

ہائی کورٹ میں سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نیب وکلاء کے تاخیری حربوں اور دلائل کے دوران جسٹس صاحبان کے سوالوں کے جواب میں ان کی بے بسی قابل دید تھی اور بس یہی کہنا باقی رہ گیا تھا کہ جناب سزا ہم نے نہیں دی فیصلہ ہمیں کہیں سے لکھا لکھایا آیا تھا اور ہم نے پڑھ کر سنا دیا۔ خواجہ حارث صاحب کی لیاقت، تحمل مزاجی اور سخت مقامات پر بھی جج صاحبان پر ذاتی یا جوابی حملوں سے احتراز لائق صد تحسین ہے۔

رہ گئے میرے انصافی دوست تو ان سے بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر قانونی نکات اور عدالتی پراسس کے بارے میں آپ کی معلومات بھی آپ کے سیاسی شعور اور فہم تاریخ کی طرح نا پختہ، سنی سنائی اور پرسیپشنز پہ مشتمل ہیں تو کرپشن کہانیوں پہ بھنگڑے آپ ڈال چکے۔ اب ڈیل کے افسانوں اور مقدس اداروں کے ترانوں پہ دھمال ڈالنے کا وقت ہوا چاہتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •