لذت سنگ – کالی شلوار اور دھواں میں فحاشی


مقدمہ جیسا کہ ظاہر ہے لاہور میں چودھری برکت علی ولد چودھری محمد نتھو ساکن لاہور، مالک ادب لطیف، چودھری نذیر احمد ولد چودھری غلام حسین قوم الراعی ساکن لاہور (ایڈیٹر) پیرزادہ احمد ندیم قاسمی ساکن لاہور (ایڈیٹر) سعادت حسن منٹو ولد غلام حسن منٹو ساکن بمبئی کے خلاف مسٹر بنواری لال کی عدالت میں پیش ہوا۔ مجھے بمبئی سے بہت ضروری کام چھوڑ کر حاضر ہونا پڑا۔ لاہور پہنچا تو خیال تھا کہ مجھے گرفتار کیا جائے گا کیونکہ میرے وارنٹ جاری ہو چکے تھے، مگر سب انسپکٹر صاحب نے جن سے اتفاقیہ مکتبہ اردو میں ملاقات ہو گئی، مجھ سے کہا کہ میں صبح دوسرے ملزمین کے ساتھ عدالت میں حاضر ہو جاؤں۔ گورنمنٹ کالج کے بالکل سامنے گردوغبار میں اٹی ہوئی اینٹوں کی دو منزلہ عمارت ہے۔ جسے ضلع کہتے ہیں۔ شاید جگت کے طور پر۔ اس عمارت کے ایک کمرے میں ہم سب ملزم پیش ہوئے۔

پہلے میری ضمانت ہوئی۔ اس کے بعد کارروائی شروع ہوئی۔ میں اس سے پہلے اس عدالت میں اپنے افسانے ”کالی شلوار‘‘ کے مقدمے کے سلسلے میں پیش ہو چکا تھا۔ مجسٹریٹ صاحب چنانچہ میری طرف دیکھتے ہی مسکرا دیے۔ استغاثے کی گواہیاں ہوتی رہیں۔ میں خاموش سنتا رہا، اس لئے کہ سب کی سب لایعنی، بے ہودہ اور منطق و استدلال سے عاری تھیں۔ اسی روز میں نے اپنے وکیل مسٹر ہیرا لال سیبل کی معروفت عدالت سے درخواست کی کہ میری حاضری آئندہ پیشیوں میں معاف کر دی جائے۔ عدالت میں یہ درخواست منظور کر لی۔

اتفاق سے ان دنوں میرے بڑے بھائی الحجاج محمد حسن منٹو بار ایٹ لاء جزائر فجی سے لاہور آئے تھے۔ میں نے ان کو اپنا افسانہ ”بو‘‘ اور مضمون ”ادب جدید‘‘ پڑھنے کے لئے دیا اور پوچھا کہ انجام کیا ہوگا۔ دونوں چیزیں بغور پڑھنے کے بعد انہوں نے جواب دیا۔ ”میرا خیال ہے کہ استغاثے کی گواہیاں سننے کے بعد ہی مجسٹریٹ مقدمہ خارج کر دے گا۔ ‘‘ لیکن ایسا نہ ہوا۔ میں بمبئی چلا آیا تھا۔ وہاں لاہور میں فردِ جرم عائد ہو گیا اور دونوں چودھریوں اور احمد ندیم قاسمی کو صفائی کے گواہ پیش کرنے میں کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑی۔ اسی دوران میں مسٹر بنواری لال تبدیل ہو گئے اور ان کی جگہ چودھری مہدی علی خان متعین ہوئے۔ چونکہ یہ مقدمے کی تفصیل سے بخوبی واقف نہیں تھے، اس لئے فیصلہ مرتب کرنے میں کافی دیر ہو گئی۔

2 مئی 1945ء کو چودھری مہدی علی خان نے بالآخر فیصلہ سنا دیا۔ صرف اتنا کہا کہ سعادت حسن منٹو بری ہے، اس لئے کہ مسٹر بنواری لال اسے پہلے ہی بری کر چکے تھے۔ میں نے سوچا اگر ایسا ہی تھا تو مجھے بمبئی سے لاہور آنے کی زحمت کیوں دی گئی۔ احمد ندیم قاسمی بھی بری کر دیے گئے، لیکن دونوں چودھریوں کو ساٹھ روپے فی کس کے حساب سے جرمانہ ہوا۔ عدم ادائیگی کی صورت میں ایک ایک ماہ قید بامشقت۔ مشقت کا نام سنتے ہی چودھریوں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور جرمانہ ادا کر دیا۔

اس کے بعد چودھری مہدی علی خان کے فیصلے کے خلاف مسٹر ایم۔ آر۔ بھاٹیہ ایڈیشنل جج کی عدالت میں اپیل کی گئی۔ فیصلہ 24 نومبر 1945ء کو ہوا، جس کا ترجمہ یہ ہے:

زیر نظر مقدمہ دفعہ 292 تعزیرات ہند کے تحت ہے جس میں برکت علی اور نذیر احمد کو ساٹھ روپے جرمانہ، اور عدم ادائیگی کی صورت میں ایک ماہ قید بامشقت کی سزا کے خلاف مجھ سے اپیل کی گئی ہے:

ماتحت عدالت فاضلہ نے اپنے فیصلے میں یہ ریمارک کیا ہے کہ مضمون ”بو‘‘ کا مصنف سوسائٹی کی نظروں میں سخت ترین سزا کا مستحق تھا اور یہ کہ وہی صحیح آدمی تھا جسے قانونی گرفت میں لینا چاہیے تھا، مگر پیش رو فاضل جج (مسٹر بنواری لال) نے اسے بری کر دیا۔

موجودہ ملزموں میں سے ایک پبلشر ہے اور دوسرا ایڈیٹر جس نے مضمون چھاپا۔ قابل غور امر یہ ہے کہ ایسے اشخاص ملزمین کی صفائی میں پیش ہوئے جو اردو زبان کے عالم ہونے کی حیثیت میں بہت مشہور ہیں۔ مثال کے طور پر خان بہادر عبدالرحمن چغتائی، مسٹر کے ایل کپور، پروفیسر ڈی اے وی کالج، راجندر سنگھ (بیدی) اور ڈاکٹر آئی ایل لطیف، پروفیسر ایف سی کالج جو بطور گواہان صفائی پیش ہوئے۔ ان سب کی رائے ہے کہ مضمون ”بو‘‘ میں ایسی کوئی چیز نہیں جو شہوانی حسیات پیدا کرے، بلکہ ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مضمون ترقی پسند ہے اور اردو ادب کے ماڈرن رجحان سے تعلق رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ استغاثہ کے گواہ نمبر چار بشیر، نے بھی دوران جرح میں تسلیم کیا کہ مضمون انسان کے اخلاق پر برا اثر نہیں ڈالتا۔

میری نظر میں مضمون ایک عشقیہ کہانی ہے۔ ایک لڑکے اور لڑکی کی جس میں ایسی بات کا دلچسپ ذکر ہے جو عموماً ہر روز نوجوان آدمیوں میں نہیں ہوتی۔

ماتحت عدالت فاضلہ نے ہندوستانی نوجوانوں کی تعیش پسند زندگی کا ذکر کرتے ہوئے افسوس کیا ہے اور اس پر ماتم کیا ہے کہ ملک میں ہندوستانیوں کا پرانا کیریکٹر نابود ہو رہا ہے۔ (ماتحت عدالت کے فاضل جج) نے وہ خوبیاں یاد کرائی ہیں جن کے لئے ہم ہندوستانی کبھی مشہور تھے، اور نصیحت کی ہے کہ نئے فیشنوں کو ختم کر دینا چاہیے۔

معلوم ہوتا ہے کہ ماتحت عدالت فاضلہ کے خیالات ترقی پسند نہیں ہیں۔ ہمیں زمانے کے ساتھ ساتھ چلنا ہے۔ حسین چیز ایک دائمی مسرت ہے۔ آرٹ جہاں کہیں بھی ملے، ہمیں اس کی قدر کرنی چا ہیئے۔ آرٹ خواہ وہ تصویر کی صورت میں ہو یا مجسمے کی شکل میں، سوسائٹی کے لیے قطعی طور پر ایک پیش کش ہے چاہے اس کا موضوع غیر معقول ہی کیوں نہ ہو۔ یہی کلیہ تحریروں پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ جب ملک کے مشہور و معروف آرٹسٹوں اور ادیبوں نے ملزمین کے حق میں کہا ہے۔ سارا فیصلہ یہیں ہو جاتا ہے۔ زیربحث مضمون ایسا مضمون نہیں کہ جس پر کسی قانونی عدالت میں نکتہ چینی کی جائے۔ میں اپیل کرنے والوں کو بری کرتا ہوں۔

مجھے چونکہ ”شہادت‘‘ کا رتبہ حاصل نہیں کرنا ہے، اس لئے میں ان تکلیفوں کا ذکر نہیں کرنا چاہتا جو مجھے لاہور آنے جانے میں اٹھانی پڑیں۔ ایک لعنت سر سے دور ہو گئی، یہی کافی تھی۔ مجھے ان اخباروں کے متعلق بھی کچھ نہیں کہنا ہے جن میں ہفتوں بلکہ مہینوں حکومت اور رعایا کے اخلاقیات کے سبق دیے جاتے رہے۔ افسوس صرف اتنا ہے کہ یہ پرچے ایسے لوگوں کی ملکیت ہیں، جو عضو خاص کی لاغری اور کجی دور کرنے کے اشتہار خدا اور رسول کی قسمیں کھا کھا کر شائع کرتے ہیں، لیکن اپنے ایڈیٹروں کی ٹیڑھی بنگی ٹانگوں اور ان کی جھکی ہوئی کمروں کا مطلق خیال نہیں کرتے۔

مجھے ان قلم سے مزدوری کرنے والوں سے دلی ہمدردی ہے۔ ان میں سے اکثر شریف آدمی ہیں جنہیں ادب سے دور کا بھی واسطہ نہیں، لیکن چونکہ پرچہ چھپنا ہی چاہیے اور اس میں شروع سے لے کر آخر تک کچھ لکھا بھی ہونا چاہیے، اس لئے یہ مجبور انسان، سیاست، سائنس اور ادب پر جو بھی ان کے ناترتیب یافتہ دماغوں میں آئے، کاغذ پر گھسیٹ دیتے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ صحافت جیسے معزز پیشے پر ایسے لوگوں کا اجارہ ہے جن میں سے اکثر طلاء فروش ہیں۔

پنجاب کی پریس برانچ کے متعلق میں ”ایں دفتر بے معنی‘‘ نہیں کہہ سکتا، اس لئے کہ یہ دفتر اپنے معنی وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق نکالتارہتا ہے۔ چند برسوں سے اس کے معنی یہ ہیں کہ علامہ اقبال مرحوم کے بعد خدائے عزوجل نے ادب کے تمام دروازوں میں تالے ڈال کر ساری چابیاں ایک نیک بندے کے حوالے کر دی ہیں۔ کاش علامہ مرحوم زندہ ہوتے!

پولیس کی عدالتیں تو خیر پولیس کی عدالتیں ہیں۔ اندھی رُوح اور گنجے فرشتے! اس اندھی روح، گنجے فرشتوں اورپنجاب کے طلاء فروش اخبار والوں اور رسالوں کے مالکوں اور ان کے مریض ایڈیٹروں کی بدولت ایک بار پھر مجھے لاہور کی عدالت میں حاضر ہونا پڑا جسے جگت کے طور پر ضلع کہتے ہیں۔

اب کی مقدمہ ساقی بک ڈپو دہلی کی شائع کردہ کتاب ”دھواں‘‘ پر تھا۔ الزام وہی فحاشی کا تھا۔ دو افسانے زیرعتاب تھے۔ کتاب کا پہلا افسانہ ”دھواں‘‘ اور ”کالی شلوار‘‘ پر عرصہ ہوا، قانونی پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا اور سیشن کورٹ میں یہ فحاشی سے مبرا قرار دی جا چکی تھی۔ معلوم نہیں ایک بار پھر اس بے ضرر افسانے پر تعزیرات ہند کی دفعہ 295 کیوں آزمائی گئی۔ اس دفعہ معاملہ کچھ زیادہ سنگین معلوم ہوا کیوں کہ میرے اور مسٹر شاہد احمد دہلوی (مالک ساقی بک ڈپو) کے علاوہ کاتب بھی گرفتار کر لیا گیا جس نے ”دھواں‘‘ لکھنے کے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ وہ کتب فروش بھی گرفتار کیئے گئے جن کے پاس یہ ملعون کتاب موجود تھی۔ پریس جس میں چھپی تھی، اس کا مالک بھی دھر لیا گیا۔

میں سلیقے کا بہت قائل ہوں۔ ناگوار سے ناگوار چیز بھی اگر سلیقے کے ساتھ کی جائے تو مجھے ناگوار معلوم نہیں ہوتی۔ لاہور سی آئی ڈی کے ایک سب انسپکٹر نے جس کا نام شاید رام سروپ تھا، مجھے 5/ دسمبر1944ء کو گورے گاؤں سے ”ملاڈ‘‘ پولیس سٹیشن بلوایا اور بغیر وارنٹ دکھائے گرفتار کر لیا۔ میں نے وارنٹ کے متعلق استفسار کیا تو رام سروپ نے کہا : ”پرائیویٹ کاغذات میں تمہیں نہیں دکھا سکتا۔ ‘‘ یہ حرکت مجھے بری معلوم ہوئی، چنانچہ میں نے شام کو گھر آ کر اپنے سولسٹر کو ٹیلی فون کیا جس نے مجھے بتایا کہ میری گرفتاری غیر قانونی ہے، اس لئے حسب الحکم لاہور کی عدالت میں حاضر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے ایسا ہی کیا لیکن 8/جنوری 1945ء کو مجھے میرے مکان پر رات کے دس بجے قانونی طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ عصمت چغتائی (مسز شاہد لطیف) کے ساتھ بھی قریب قریب یہی سلوک ہوا۔

4/فروری 1945ء کے ”قومی جنگ‘‘ (بمبئی) میں، یہ ادب اور تہذیب پر حملہ ہے، کے عنوان سے ایک مضمون علی سردار جعفری کے قلم سے شائع ہوا جس کی ابتدائی سطور یہ ہیں :

”اردو کے بہترین افسانہ نگاروں میں سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کے نام بہت مشہور ہیں۔ حال ہی میں منٹو کے افسانوں کا ایک نیا مجموعہ ”دھواں‘‘ اور عصمت کے افسانوں میں ایک نیا مجموعہ ”چوٹیں‘‘ دہلی سے شائع ہوا ہے۔ ان مجموعوں میں دونوں افسانہ نگاروں کی بعض بہت اچھی کہانیاں شامل ہیں، لیکن معلوم ہوا ہے کہ حکومت پنجاب نے عصمت اور منٹو کے بعض افسانوں کو عریاں قرار دے دیا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ عتاب کون کون سے افسانے پر نازل ہوا ہے، لیکن دونوں کتابیں زد میں ہیں۔ مقدمے کی سماعت ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہے۔ سپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں 2/فروری کو عصمت اور منٹو کی پیشی ہونے والی ہے‘‘

لیکن عدالتی کارروائی سے پہلے ہی ان دونوں پر بہت کچھ گزر گئی۔ دسمبر 44ء کو بمبئی کی پولیس نے عصمت چغتائی کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر لیا اور ایک ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا۔ 6 دسمبر کو عصمت کو دادر پولیس کورٹ میں حاضری دینی پڑی اور انہیں حکم ملا کہ 6 جنوری 45ء کو دوبارہ حاضر ہوں۔ جنوری میں پنجاب سے عصمت کا وارنٹ آ گیا اور انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ اس مرتبہ دو ہزار روپے کی ضمانت دے کر گلو خاصی ہوئی اور حکم ملا کہ عصمت 2 فروری کو لاہور کے سپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جا کر حاضری دیں۔ تقریباً یہی حشر سعادت حسن منٹو کا ہوا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6