لذت سنگ – کالی شلوار اور دھواں میں فحاشی


ایک اور لطیفہ سنیئے! بمبئی سے میں لاہور میں پروفیسر موہن سنگھ دیوانہ کو گواہی دینے کے لئے لکھا۔ سمن ان کے پاس پہلے پہنچ چکے تھے۔ میرا خط انہیں دیر کے بعد ملا، چنانچہ انہوں نے ایک کارڈ لکھا:

حضرت سلامت!

آپ کے وکیل سے ایک مرتبہ پہلے ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے نہ مقدمے کی وجہ بیان کی نہ یہ کہا کہ کس افسانے پر دھرے گئے ہو۔ 4 کو پیشی تھی۔ دس بجے حاضر عدالت ہوا۔ سوا بارہ بجے تک دھوپ میں سڑتا رہا۔ ٹانگوں کو مسلتا اور بلغم نکالتا رہا۔ نہ جائے نشستن نہ اذن رفتن۔ سوا بارہ بجے بلوایا گیا۔ ”کیوں جی، وہ کہانیاں تم نے پڑھی ہیں۔ ‘‘۔ ”حضور نہیں‘‘۔ ”برخاست! ‘‘ لنگڑاتا لنگڑاتا گھر پہنچا۔ دیکھا کہ ایک بڑے پیٹ والا لفافہ لیٹر بکس سے جھانک رہا ہے جس میں حضور کے ارشادات تھے۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں بے قصور ہوں۔ آپ خفا نہ ہوں گے کہ ایک ہم پیشہ ”قلم مار‘‘ نے یہ کیا حرکت کی۔ میں خفا ہوں کہ وکیل سست، موکل سست تو۔ منٹو کو سستی کی بیماری ہو، یقین نہیں آتا۔

اور مجھے یہ یقین نہیں آتا کہ پروفیسر موہن سنگھ دیوانہ نے میری کہانیاں پڑھی ہی نہیں تھیں۔ غلطی مجھ سے بھی ہوئی کہ میں نے ”بڑے پیٹ والے لفافے‘‘ عین اس وقت بھیجے جبکہ سمن جاری ہو چکے تھے۔ ان لفافوں میں، میں نے اپنے اس تحریری بیان کی نقل بھیجی تھی جو میں نے عدالت میں دیا تھا۔ چونکہ اس بیان کا میری تحریروں سے گہرا تعلق ہے، اس لئے میں اسے ذیل میں نقل کرتا ہوں۔

”میں ساقی بک ڈپو، دہلی کی مطبوعہ کتاب بعنوان ”دھواں‘‘ کا مصنف ہوں۔ یہ کتاب میں نے 1941ء میں جب کہ میں آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں ملازم تھا، ساقی بک ڈپو کے مالک میاں شاہد احمد صاحب کو غالباً تین یا ساڑھے تین سو روپے میں فروخت کی تھی۔ اس کے جملہ حقوق اشاعت اب ساقی بک ڈپو کے پاس ہیں۔

اس کتاب کے جو نسخے میں نے عدالت میں دیکھے ہیں، ان کے ملاحظے سے پتا چلتا ہے کہ یہ کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے۔

چوبیس افسانوں کے اس مجموعے میں جو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ہیں، دو افسانے بعنوان ”دھواں‘‘ اور ”کالی شلوار‘‘ استغاثے کے نزدیک عریاں اور فحش ہیں۔ مجھے اس سے اختلاف ہے کیوں کہ یہ دونوں کہانیاں عریاں اور فحش نہیں ہیں۔

کسی ادب کے متعلق ایک روزانہ اخبار کے ایڈیٹر، ایک اشتہار فراہم کرنے والے اور ایک سرکاری مترجم کا فیصلہ صائب نہیں ہو سکتا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ تینوں کسی خاص اثر، کسی خاص غرض کے تحت اپنی رائے قائم کر رہے ہوں، اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ تینوں حضرات ایسی رائے دینے کے اہل ہی نہ ہوں کیوں کہ کسی بڑے شاعر کسی بڑے افسانہ نگار کے افسانوں پر صرف وہی آدمی تنقید کر سکتا ہے جو تنقید نگاری کے فن کے تمام عواقب و عواطف سے آگاہ ہو۔

استغاثے نے میرے ان دو افسانوں پر کوئی بصیرت افروز تنقید نہیں کی۔ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ یہ دونوں افسانے فحش ہیں، اس آدمی کی جو روشنی کا خواہش مند ہے، جو اپنے عیوب و محاسن جاننا چاہتا ہے اور ان کی اصلاح کرنا چاہتا ہے ہر گز ہر گز تسکین نہیں ہوتی۔ میں اگر جواب میں صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو جاؤں کہ یہ دونوں افسانے فحش نہیں ہیں تو ظاہر ہے کہ میں اندھیرے میں اور بھی اضافہ کر دوں گا۔ مگر میں ایسا نہیں کروں گا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا، اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔

زبان میں بہت کم لفظ فحش ہوتے ہیں۔ طریق استعمال ہی ایک ایسی چیزہے جو پاکیزہ سے پاکیزہ الفاظ کو بھی فحش بنا دیتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی چیز فحش نہیں، لیکن گھر کی کرسی اور ہانڈی بھی فحش ہو سکتی ہے اگر ان کو فحش طریقے پر پیش کیا جائے۔ چیزیں فحش بنائی جاتی ہیں، کسی خاص غرض کے، ماتحت۔

عورت اور مرد کا رشتہ فحش نہیں، اس کا ذکر بھی فحش نہیں، لیکن جب اس رشتے کو چوراسی آسنوں یا جوڑ دار خفیہ تصویروں میں تبدیل کر دیا جائے اور لوگوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ تخلئے میں اس رشتے کو غلط زاویئے سے دیکھیں تو میں اس فعل کو صرف فحش ہی نہیں بلکہ نہایت گھناؤنا، مکروہ اور غیر صحت مند کہوں گا۔

فحش اور غیر فحش میں تمیز کرنے کے لئے شاید یہ مثال کام دے سکے:

ایک آرٹ گیلری میں نمائش کے لئے ننگی عورتوں کی بہت سی تصویریں پیش ہوئیں۔ ان میں سے کسی نے بھی جیسا کہ ظاہر ہے دیکھنے والوں کا اخلاق خراب نہ کیا اور نہ ان کے شہوانی جذبات کو ابھارا۔ البتہ ایک تصویر جس میں عورت کا سارا بدن کپڑوں میں مستور تھا اور ایک خاص حصہ اس ترکیب سے نیم عریاں چھوڑ دیا گیا کہ دیکھنے والوں کے جذبات میں گدگدی ہوتی تھی، فحش قرار دی گئی۔ کیوں۔ اس لئے کہ آرٹسٹ کی نیت میں فرق تھا اور اس نے جان بوجھ کر لباس کو کچھ اس طرح اوپر اٹھا دیا تھا کہ دیکھنے والوں کے دل و دماغ میں ہلچل سی مچ جائے اور وہ اپنے تصور سے مدد لے کر اس نیم عریاں حصے کو عریاں دیکھنے کی کوشش کریں۔

تحریر و تقریر میں شعرو شاعری میں، سنگ سازی و صنم تراشی میں فحاشی تلاش کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کی ترغیب ٹٹولنی چاہیے، اگر یہ ترغیب موجود ہے، اگر اس کی نیت کا ایک شائبہ بھی نظر آ رہا ہے تو وہ تحریر، وہ تقریر، وہ شعر، وہ بت، قطعی طور پر فحش ہے۔

اب ہمیں دیکھنا ہے کہ یہ ترغیب ”دھواں‘‘ میں موجود ہے یا نہیں۔ آیئے! ہم افسانے کا تجزیہ کرتے ہیں :۔

مسعود ایک کم سن لڑکا ہے غالباً دس بارہ برس کا۔ اس کے جسم میں جنسی بیداری کی پہلی لہر کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ یہ اس افسانے کا موضوع ہے۔ ایک خاص فضا اور چند خاص چیزوں کا اثر بیان کیا گیا ہے، جو مسعود کے جسم میں دھندلے دھندلے خیالات پیدا کرتا ہے۔ ایسے خیالات جن کا رجحان جنسی بیداری کی طرف ہے۔ یہ بیداری وہ سمجھ نہیں سکتا لیکن نیم شعوری طور پر محسوس ضرور کرتا ہے۔ بے کھال کا بکرا جس میں سے دھواں اٹھتا ہے۔ سردیوں کا ایک دن جب کہ بادل گھرے ہوتے ہیں اور آدمی سردی کے باوجود ایک میٹھی میٹھی حرارت محسوس کرتا ہے۔ ہانڈی جس میں سے بھاپ اٹھ رہی ہے۔ بہن، جس کی ٹانگیں وہ دباتا ہے۔ یہ سب عناصر مل کر مسعود کے بدن میں جنسی بیداری پیدا کرتے ہیں۔ جوانی کی اس پہلی انگڑائی کو وہ غریب سمجھ نہیں سکتا اور انجام کار اپنی ہاکی سٹک توڑنے کی ناکام سعی کرتا کرتا تھک جاتا ہے۔ یہ تھکاوٹ اس بے نام سی چنگاری کو ”اس‘‘ کچھ کرنے کی تحریک کو دبا دیتی ہے۔

”دھواں‘‘ میں شروع سے لے کر آخر تک ایک کیفیت، ایک جذبے، ایک تحریک کا نہایت ہی ہموار نفسیاتی بیان ہے! اصل موضوع سے ہٹ کر اس میں دوراز کار باتیں نہیں کی گئیں۔ اس میں ہمیں کہیں بھی ایسی ترغیب نظر نہیں آتی جو قارئین کو شہوانی لذتوں کے دائرے میں لے جائے، اس لئے کہ افسانے کا موضوع ”شہوت‘‘ نہیں ہے۔ استغاثہ اگر ایسا سمجھتا ہے تو یہ اس کی کم نظری ہے۔ خشخاش کے دانے افیم کی گولی بننے تک کافی مرحلے طے کرتے ہیں۔

میں نے اس کہانی میں کوئی سبق نہیں دیا۔ اخلاقیات پر یہ کوئی لیکچر بھی نہیں کیوں کہ میں خود کو نام نہاد ناصح یا معلم اخلاق نہیں سمجھتا۔ البتہ اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ اس لڑکے کو مضطرب کرنے والی چیزیں خارجی تھیں۔ انسان اپنے اندر کوئی برائی لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ خوبیاں اور برائیاں اس کے دل و دماغ میں باہر سے داخل ہوتی ہیں۔ بعض ان کی پرورش کرتے ہیں، بعض نہیں کرتے۔ میرے نزدیک قصائیوں کی دکانیں فحش ہیں کیونکہ ان میں ننگے گوشت کی بہت بدنما اور کھلے طور پر نمائش کی جاتی ہے۔ میرے نزدیک وہ باپ اپنی اولاد کو جنسی بیداری کا موقع دیتے ہیں جو دن کو بند کمروں میں کئی کئی گھنٹے اپنی بیوی سے سر دبوانے کا بہانہ لگا کر اس سے ہم بستری کرتے ہیں۔

ہندوستان میں بچوں کے اندر بہت کم سنی ہی میں جنسی بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ کسی حد تک آپ کو میرے افسانے کے مطالعے سے معلوم ہو سکتی ہے۔ اتنی چھوٹی عمر میں جنسی بیداری کا پیدا ہونا میرے نزدیک بہت ہی بھونڈی چیز ہے۔ یعنی اگر میں کسی چھوٹے بچے کو جنسیات کی طرف راغب دیکھوں تو مجھے کوفت ہوگی، میرے صناعانہ جذبات کو صدمہ پہنچے گا۔

افسانہ نگار اس وقت اپنا قلم اٹھاتا ہے جب اس کے جذبات کو صدمہ پہنچتا ہے۔ مجھے یاد نہیں کیوں کہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن ”دھواں‘‘ لکھنے سے پہلے مجھے کوئی منظر، کوئی اشارہ یا کوئی واقعہ دیکھ کر ضرور ایسا صدمہ پہنچا ہوگا جو افسانہ نگار کے قلم کو حرکت بخشتا ہے۔

افسانے کا مطالعہ کرنے سے یہ امر اچھی طرح واضح ہو سکتا ہے کہ میں نے اس بے نام سی لذت میں جو مسعود کو محسوس ہو رہی تھی، خود کو یا قارئین کو کہیں شریک نہیں کیا۔ یہ ایک اچھے فن کار کے قلم کی خوبی ہے۔ اس افسانے میں سے چند سطور پیش کرتا ہوں جس سے افسانہ نگار کے غایت درجہ محتاط ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ اس نے کہیں بھی مسعود کے دماغ میں شہوانی خیالات کی موجودگی کا ذکر نہیں کیا۔ ایسی لغزش افسانے کا ستیاناس کر دیتی۔

(1) مسعود کے وزن کے نیچے کلثوم کی چوڑی چکلی کمر میں خفیف سا جھکاؤ پیدا ہوا، جب اس نے پیروں سے دبانا شروع کیا۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح مزدور مٹی گوندھتے ہیں۔ تو کلثوم نے مزا لینے کی خاطر ہولے ہولے ہائے ہائے کرنا شروع کیا۔

(2) کلثوم کی رانوں میں اکڑی ہوئی مچھلیاں اس کے پیروں کے نیچے دب دب کر ادھر ادھر پھسلنے لگیں۔ مسعود نے ایک بار سکول میں تنے ہوئے رسے پر ایک بازی گر کو چلتے دیکھا تھا۔ اس نے سوچا کہ بازی گر کے پیروں کے نیچے تنا ہوا رسا بھی اسی طرح پھسلتا ہوگا۔

(3) بکرے کے گرم گرم گوشت کا اسے بار بار خیال آتا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے سوچا ”کلثوم کو اگر ذبح کیا جائے تو کھال اترنے پر کیا اس کے گوشت میں سے دھواں نکلے گا۔ ‘‘۔ لیکن ایسی بیہودہ باتیں سوچنے پر اس نے اپنے آپ کو مجرم محسوس کیا اور دماغ کو اس طرح صاف کر دیا۔ جس طرح وہ سلیٹ کو اسفنج سے صاف کیا کرتا تھا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6