لذت سنگ – کالی شلوار اور دھواں میں فحاشی
سعادت حسن منٹو کا حشر کچھ زیادہ ہی قابل رحم تھا۔ مجھے ان دنوں اعصابی درد کی شکایت تھی۔ گھر میں رات کے دس بجے جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میں مارے درد کے کراہ رہا تھا۔ سینے پر گرم بوتل تھی، لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات لاہور حاضر عدالت ہونا ہی پڑا۔
اس دفعہ مقدمہ رائے صاحب لالہ سنت رام اسپیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا۔ ایک لطیفہ سن لیجیے۔ عدالت میں داخل ہونے سے پہلے ایک ادھیڑ عمر کے شریف سے صاحب آئے اور مجھ سے ہاتھ ملا کر کہا : ”آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی! ‘‘ میں نے پوچھا : ”آپ کا اسم گرامی؟ ‘‘
ادھیڑ عمر کے شریف صاحب نے جواب دیا : ”نانک چند ناز! ‘‘
میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا : ”معاف کیجئے! مجھے آپ سے مل کر خوشی نہیں ہوئی۔ ‘‘ لالہ نانک چند ناز استغاثہ کے معزز ترین گواہ تھے جو میرے اور عصمت چغتائی، دونوں کے خلاف بھگتے۔ آپ واقعی بھگتے۔ ایک اور لطیفہ سن لیجیے۔ لالہ جی نے عصمت کے افسانے ”لحاف‘‘ کے متعلق کہا کہ اس میں گندے الفاظ استعمال کیئے گئے ہیں۔
ہمارے وکیل مسٹر ہیرا لال نے پوچھا : ”مثلاً؟ ‘‘
لالہ جی نے ”چوٹیں‘‘ اٹھالی۔ کافی دیر ”لحاف‘‘ کی ورق گردانی کے بعد ایک لفظ نکالا: مثلاً ”عاشق!‘‘
ہم سب مسکرا دیے۔ مسٹر ہیرا لال نے لالہ جی سے کہا : ”یہ لفظ گندا ہے تو آپ اس کی جگہ کوئی دوسرا تجویز کر دیجئے!‘‘
لالہ جی سوچنے لگے۔
مسٹر ہیرا لال نے پوچھا : ”یار، کیسا رہے گا؟ ‘‘
اس دفعہ رائے صاحب لالہ سنت رام بھی مسکرا دیے۔
جب تک استغاثے کے گواہ پیش ہوتے رہے، ایسی مسکراہٹیں جاری رہیں، لیکن عدالت برخاست ہونے سے پہلے جب ہمارے وکیل نے درخواست پیش کی کہ مجھے اور عصمت کو آئندہ پیشیوں میں حاضر ہونے سے معاف کر دیا جائے، اور جب مجسٹریٹ صاحب نے اسے مسترد کر دیا تو ہم دونوں کو یہ تکلیف دہ احساس ہوا کہ ہم عدالت میں پیش تھے اور ہم پر فحاشی کاسنگین جرم عائد تھا۔ مجھے اس کا بھی شدید احساس ہوا کہ سخت سردی ہے اور میں اعصابی درد میں مبتلا ہوں۔
عدالت سے باہر مسٹر ہیرا لال سے مشورہ کیا گیا۔ ایک ہی صورت تھی کہ ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے، جو فوراً ہی داخل کر دی گئی۔ دوسرے روز میں اور عصمت آنریبل جسٹس اچھرو رام کی عدالت میں پیش ہوئے۔ آپ نے ہم دونوں کو غور سے دیکھا اور کہا : ”مجھے آپ دونوں کے افسانہ بہت پسند ہیں۔ ‘‘۔ ہمیں بہت خوشی ہوئی لیکن انہوں نے اپیل کے کاغذات آنریبل جسٹس دین محمد کی عدالت میں منتقل کر دیے۔
اب پھر دوسرے روز حاضر ہونا تھا۔ شام کو میری طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ اتفاق سے میرا بھانجا میجر عبدالوحید ان دنوں لاہور کے ملٹری ہسپتال میں متعین تھا۔ اس نے میرا ایکسرے لیا اور بتایا مجھے ہائی ڈرونیو مورتھوریکس ہے۔ یعنی مرے داہنے پھیپھڑے کے ایک حصے میں پانی اور ہوا داخل ہوئی ہے۔
میجر وحید کے کہنے پر میں نے دوسرے روز صبح سویرے کرنل امیر چند سے بھی تشخیص کرائی۔ انہوں نے وہی مرض بتایا اور رائے دی کہ مجھے آرام کرنا چا ہیئے۔ میں نے ان سے سر ٹیفکیٹ لے لیا کہ شاید کام آ جائے، داشتہ آید بکار۔
دوسرے روز آنریبل جسٹس دین محمد کی عدالت میں پیش ہوا۔ عصمت غیر حاضر تھی۔ جسٹس دین محمد صاحب نے قہر آلود نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور بڑبڑائے ”ان لوگوں کا وجود ننگ ادب ہے‘‘۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری قسمت پر مہر لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے اپیل منظور کرنے سے انکار کر دیا، لیکن جب میں نے اپنے وکیل سے کرنل امیر چند کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کے لئے کہا تو اپیل ایک قہر آلود دستخط نے منظور کر دی۔ میں بمبئی واپس چلا آیا۔
بمبئی میں بہت دیر تک ڈاکٹروں میں یہ بحث ہوتی رہی کہ میرا مرض کیا ہے۔ میجر وحید اور کرنل امیر چند کی تشخیص یہ کہتی تھی کہ ”مجھے ہائی ڈرونیو موتھوریکس‘‘ ہے لیکن ڈاکٹر لیملا اور ڈاکٹر ایف ڈبلیو برجر (یا برگر) کی ایکسرے دیکھنے کے بعد یہ رائے تھی کہ صرف ”نیوموتھوریکس‘‘ ہے۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ ڈاکٹر ایچ پی مودی سے جوریڈیالوجی کے ماہر ہیں، رجوع کیا جائے، چنانچہ انہوں نے میرا پرانا ایکسرے دیکھنے اور نیا امتحان لینے کے بعد ڈاکٹر ایف ڈبلیو برجر (یا برگر) کو خط لکھا :
”مریض اس وقت نارمل حالت میں ہے۔ ”نیو موتھوریکس‘‘ اور ”سیال مادہ‘‘ بالکل غائب ہے۔ یہ کیس جیساکہ ظاہر ہے سپانٹینس ”نیو موتھوریکس‘‘ کی قبیل سے تھا۔ ایسے چند کیس بعض اوقات ”کوخ‘‘ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
اس ”کوخ‘‘ کا مطلب مجھے لاہور میں میجر وحید نے بتایا جب میں اس مقدمے کا فیصلہ سننے کے لئے گیا۔ مطلب یہ تھا کہ ایسے چند کیس بعض اوقات دق میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ لیکن دق اور زچ میں اس وقت ہوا جب میں نے صفائی کے گواہوں کی فہرست تیار کی، اور رائے صاحب لالہ سنت رام نے ان کی گواہی بذریعہ کمیشن لینے سے انکار کر دیا۔ کوئی گواہ حیدر آباد میں تھا، کوئی لکھنؤ میں اور کوئی بمبئی میں، لیکن رائے صاحب مصر تھے کہ سب کے سب لاہور میں حاضر ہوں۔ مکرمی نیازفتح پوری صاحب کو جب لکھنؤ میں اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے لکھا : ”یقیناً کمیشن کے ذریعے شہادت قلم بند ہو سکتی تھی اور اس میں بڑی آسانی تھی۔ تعجب ہے کہ مجسٹریٹ نے اسے منظور نہیں کیا اور آپ کے مشیر قانون نے کیوں اس پر زور نہ دیا۔ ‘‘
مجھے معلوم نہیں مسٹر ہیرا لال نے اس پر زور دیا تھا یا نہیں۔ بہرحال، رائے صاحب لالہ سنت رام کا فیصلہ اٹل تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قاضی عبدالغفار صاحب ایڈیٹر پیام حیدر آباد، لیفٹیننٹ کرنل قریشی (آئی ایم ایس بمبئی) نیاز فتح پوری صاحب ایڈیٹر نگار لکھنؤ، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم صاحب ایم اے ایل، ایل بی پی ایچ ڈی (اس وقت پرنسپل) امر سنگھ کالج، سری نگر، مسٹر ہریندر ناتھ چٹو پادھیائے بمبئی جیسے اہل الرائے صاحبان کے خیالات سے نہ صرف میں بلکہ عدالت بھی محروم رہی۔
میں نے ان کو اور دوسرے حضرات کو گواہی کی دعوت ان الفاظ میں دی تھی:
(بمبئی مورخہ 30 ستمبر)
مکرمی!
تسلیمات۔ لاہور کی عدالت میں میرے ایک افسانے ”دھواں‘‘ پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے۔ میں نے آپ کو گواہ صفائی کے طور پر بلایا ہے۔ متذکرہ صدر افسانے کے بارے میں آپ کی جو رائے بھی ہو، مجھے منظور ہوگی، اس لئے فحاشی اور غیر فحاشی کے اہم موضوع پر آپ جیسے اہل الرائے ادیب اور صاحب قلم کے خیالات نہ صرف میرے لئے بلکہ ملکی ادب کے لئے مفید ہوں گے۔
مجھے امید ہے کہ آپ میری یہ دعوت قبول فرمائیں گے۔ شکریہ!
نیاز کیش
سعادت حسن منٹو
سب نے میری دعوت قبول کی جس کے لئے میں شکرگزار ہوں۔ ڈاکٹر مولوی عبدالحق صاحب سیکرٹری ”انجمن ترقی اردو‘‘ ہند نے میرے عریضے کا جواب نہ دیا۔ بہت ممکن ہے ان تک پہنچا ہی نہ ہو۔ سردار دیوان سنگھ مفتون ”ایڈیٹر ریاست ‘‘ کی طرف سے جب مجھے کوئی رسید نہ آئی تو مجھے بہت غصہ آیا۔ کیوں کہ مجھے ان کی دوستی پر ناز ہے۔ میں نے پھر ان کو لکھا، جواب آیا:
”آپ کا دوسرا خط ملا۔ میرا داخلہ پنجاب میں بند ہے، اس لئے شہادت کیسے دوں۔ یہی میں نے سمن پر لکھ دیا تھا۔ اگر مجسٹریٹ، پنجاب گورنمنٹ سے اجازت لے لے تو میں جانے کے لئے تیار ہوں۔ ‘‘
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

