کیا میں بیمار ہوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے کئی ہفتوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ مجھے شاید کوئی بیماری لاحق ہوگئی ہے۔ کئی دنوں تک بھوکا رہنے کی عادت پڑگئی تھی، کئی کئی راتیں بغیر سوئے گزاری، چائے اور پانی پر ہی زندگی بسر کررہا تھا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، زندگی کے ان کھٹن مراحل سے کئی بار گزرنے کے بعد اب عادت سی ہوگئی ہے کہ ایسے حالات کا سامنا کروں، اب تو حالات اگر صحیح سمت جارہے ہو تو خوف سا محسوس ہوتا ہے کہ شاید میں غلط راستے پر ہوں۔

میں ایک صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انسان بھی ہوں، روز کئی واقعات سنتا اور دیکھتا رہتا ہوں لیکن میری اصل زندگی کیا ہے، یہ ایک نہ حل ہونے والا معمہ ہے جس سے نہ صرف میں بلکہ میرے اندر کا انسان بھی پریشاں ہے۔ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں بیمار ہوگیا ہوں، لیکن وہ کونسی بیماری ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے کھاسکتا ہوں نہ سوسکتا ہوں؟ یہ بھی ایک حل طلب مسئلہ بن گیا ہے۔

میرے خاندان والوں نے مجھ سے بڑی امیدیں وابستہ کی ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ صحافی اس ملک کا طاقتور ترین طبقہ ہے جو ہر محکمے میں اثرورسوخ رکھتا ہے اور ہر جائز و ناجائز کام کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ بھی اپنی جگہ صحیح توقعات رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ایک نوجوان جب روزگار کی تلاش میں گھربار چھوڑ کر دوسرے شہر کا رخ کرتے ہیں تو پیچھے توقعات کی ایک لمبی فہرست بنتی چلی جارہی ہوتی ہے۔

گھر پر بیٹھے لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ایک صحافی ہونے کے بعد انسان کی انسانیت، توقعات پر پورا اترنا، رشتے ناتے غرض زندگی کی جتنی بھی ضروریات ہیں، وہ ختم ہوجاتی ہیں اور دوسروں کو خبر پہنچانے کا نشہ سر چڑھ بولنے لگتا ہے۔ مگر ضروری نہیں کہ یہ نشہ پوری طرح، صحیح جگہ پر اور ہر وقت پورا ہو کیونکہ ایک ایسے جنگل میں جہاں ہر قسم کے جانور پائے جاتے ہیں، ان سے جان بچانا اور زندگی کے حسین پل تلاش کرنا مشکل نہیں کبھی کبھی ناممکن بن جاتے ہیں۔ زندگی ہو تو سب نشے پورے ہوسکتے ہیں تو سب سے پہلے زندگی ہے۔

صحافت بھی ایک بیماری کی طرح ہے، ہو بھی تو مریض اور نہ ہو تو مریض کی حالت مزید بگڑجاتی ہے۔ بہت سوچ بچار کے بعد پتہ چلا کہ یہ بیماری بڑھتی جارہی تھی کیونکہ آج کل نشہ پورا نہیں ہورہا اور اس کی وجہ میں خود نہیں بلکہ وہ میدان ہے جہاں شطرنج کے کھلاڑیوں کا راج ہے، ہر وہ کھلاڑی جو منہ میں زبان رکھتا ہو، شطرنج کا کھیل جانتا نہیں (کوئی بات نہیں) لیکن اگر ان کے تعلقات بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ ہیں، ’ایک خاص طبقے‘ کا منظورنظر ہے تو وہ یہ نشہ باآسانی کرسکتا ہے، مگر اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہے اور اس کے پاس اپنی صلاحیتوں کے علاوہ کچھ نہیں تو شاید وہ اپنا یہ نشہ پورا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بہت سو کو یہ بیماری لاحق ہونے کے باوجود کچھ کرنے کے قابل نہیں اور اس کیوجہ کچھ اور نہیں بس یہی ہے کہ ان کے پاس کسی بڑے ’نام‘ کی سفارش یا صرف ایک ٹیلیفون کروانے کا ہنر نہیں۔

اب ان حالات میں ایک عام آدمی کرے تو کیا کرے؟ اس ملک میں سو سے زائد ہسپتال (ٹی وی، ریڈیو، اخبار) موجود ہیں لیکن مریض ہے کہ مرتے ہی جارہے ہیں، ان کا علاج کروانے والا کوئی نہیں۔ ایسے میں یہ بیمار کہا جائیں؟ بہتر یہی ہوگا کہ کسی اور بیماری کی جانب اپنی توجہ مبذول کروائیں، کچھ اور نہیں تو اس ملک میں کریم اور اوبر نے بڑے اچھے مواقع فراہمکیے ہیں، ٹیکسی چلائیں، عزت سے چلائیں، دو پیسے کمائیں اور زندگی جئیں کیونکہ زندگی ہے تو یہ سب کچھ چلتا رہے گا۔

ایک بات جو انتہائی ضروری ہے کہ گھر والوں کو بھی سمجھانا ہوگا کہ ایک صحافی کی زندگی میں اتار چڑھاؤ کتنے آسکتے ہیں، خصوصاً جب وہ ایک ایسے ملک میں رہتا ہو جہاں پر بیان کی آزادی، اظہار کی آزادی برائے نام ہو اور آپ وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے جس کا یہ پیشہ متقاضی ہے، کچھ حدود مقرر کرنے ہوں گے اگر ان سے تجاوز (چاہے آپ کا حق ہی کیوں نہ ہو) کریں گے تو شاید آپ کی زندگی میں یہ بیماری زندگی کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتا ہے، تو بہتر یہی ہے کہ یا تو اس بیماری کو خداحافظ کہیے گا، یا کسی ’خاص بندے‘ کے ساتھ دوستی کیجئیے گا اور یا ان حدود کے ساتھ منافقانہ زندگی گزارنے کی عادت ڈالئے تاکہ زندگی خوش و خرم سے بسر ہو اور آپ کو یا آپ کے ساتھ جھڑے لوگوں کو کوئی مسائل درپیش نہ آئے۔

یہ میری ذاتی رائے اور تجربے کی بنیاد پر لکھی گئی تحریر ہے، شاید بہت سے لوگ اس سے اختلاف کرتے ہو لیکن میں نے جو دیکھا، جو محسوس کیا اور جو برداشت کررہا ہوں وہ اس تحریر میں درج ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •