عمران خان کا کرشمہ : ہم نے لیاقت علی اور جنرل ٹکا خان دیکھ رکھے ہیں


واضح رہے کہ جغرافیائی اتصال کی عدم موجودگی وہ اہم ترین وجہ تھی جو آگے چل کر مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں مغائرت کا باعث ہوئی۔ لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کی گفتگو میں مقبولیت پسندی او ریک نکاتی سیاست کے جملہ زاویے ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ یعنی جہاں سے جو مطالبہ اٹھے آپ فرما دیجئے کہ یہ پورا ہو جائے گا۔ جس نے جمہوریت مانگی ، اسے جمہوریت عطیہ کر دی ، جسے خلافت راشدہ سے شغف ہے، اسے خلافت کا لبھاﺅ دیا۔ جسے سوشلزم میں دلچسپی ہے اسے اسلامی مساوات کا حوالہ دے دیا۔ جس نے پوچھا کہ ہم آگرہ والوں کا کیا ہو گا ؟ اسے بتایا کہ آگرہ میں تاج محل ہے۔ پاکستان تاج محل کے بغیر کیسے مکمل ہو سکتا ہے۔

جب پردہ اٹھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دلی اور آگرہ توبہت دور، گورداسپور اور انبالہ بھی نہیں مل سکے۔ حیدر آباد دکن کا مطالبہ اس لیے کیا کہ وہاں کا حکمران مسلمان تھا۔ کشمیر کا مطالبہ اس لیے کیا کہ وہاں کے عوام کی اکثریت مسلمان تھی۔ چت بھی میری ہے، پٹ بھی میری ہے۔ حیدر آباد دکن کی تہذیب تو بہت دور رہ گئی، کشمیر کی ’پہاڑیاں ‘بھی 70برس میں سر نہیں ہو سکیں۔

تحریک پاکستان میں یک نکاتی سیاست کا اظہار یوں ہوا کہ قوم کی تعریف صرف مذہبی وابستگی تک محدود کر لی گئی۔ دوسرے لفظوں میں جو مسلمان ہیں وہ ایک قوم ہیں۔ کانگرس اور مسلم لیگ کی قیادت میں بنیادی اختلاف ہی یہ تھا کہ مسلم لیگ قوم کی تعریف کو عقیدے تک محدود رکھنا چاہتی تھی جبکہ کانگرس کا مو¿قف تھا کہ قوم کی تشکیل میں جغرافیہ ، مشترکہ تہذیب ، زبان ، مشترکہ تاریخ ، رہن سہن اور معاشی عوامل بھی اسی طرح شامل ہیں جس طرح عقیدہ۔

اگر قوم کی وہ تعریف درست تھی جو مسلم لیگ نے پیش کی تو ہندوستان کے تمام مسلمان آج بھی پاکستان کے شہری تصور کیے جانے چاہئیں۔ دوسری طرف مذہب کا بندھن تو مشرقی اور مغربی پاکستان کو ایک نہیں رکھ سکا۔ پاکستان کی چھ دہائیوں پر محیط تاریخ میں ایک بنیادی تضاد مضبوط مرکز اور صوبائی خودمختاری کا رہا ہے۔ مرکز کو مذہب پہ اصرار رہا ہے تو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے چھوٹے صوبوں کو اپنی ثقافتی شناخت اور معاشی حقوق میں دلچسپی رہی ہے۔

اور یہ جو عبدالرب نشتر نے نظام دکن کی دولت سے استفادے کا ذکر فرمایا، اس سے ان کی معاشی سوجھ بوجھ تو خیر اظہر من الشمس ہے لیکن یہ جاننا چاہیے کہ معاشی بصیرت کا یہ سلسلہ سردار عبدالرب نشتر ہی پر موقوف نہیں تھا۔ اقتصادیات میں اس سادہ لوحی کے نمونے ہماری قیادت کے ساتھ ساتھ چلے ہیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس 1937ءمنعقدہ لکھنو میں مولانا شوکت علی نے فرمایا ، ”سنو، جواہر لال (نہرو ) کہتا ہے کہ مسلمانوں کا کلچر ولچر کوئی نہیں، یہ سارا جھگڑا روٹی کا ہے۔ ارے بھائی روٹی پر تو کتے لڑا کرتے ہیں“۔ اگرچہ جلسہ عام میں خوب قہقہے لگے، تالیاں پٹیں مگر یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ سیاست میں روٹی کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں، تاریخ ان پر ہنستی ہے۔

1971 ءکے موسم گرما میں پاکستانی افواج مشرقی پاکستان میں بغاوت اور خانہ جنگی کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ ان کے سپہ سالار محترم لیفٹیننٹ جنرل (تب) ٹکا خان تھے۔ ایک غیر ملکی وقائع نگار نے ان سے دریافت کیا کہ اس لڑائی کے اخراجات کس طرح پورے ہوں گے۔ ٹکا خان صاحب نے فوجی قطعیت سے جواب دیا۔ ”پیسوں کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے پاس کراچی میں ایک ٹکسال موجود ہے۔ میں حکومت سے جتنی رقم مانگوں گا، وہ مجھے فوراً چھاپ کے بھیج سکتی ہے“۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2